• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

بیوی، والدہ، چار بیٹے/ آٹھ مرلہ زمین

استفتاء

ایک آدمی فوت ہوا۔ اس نے 4 بیٹے، ایک بیوی، والدہ ورثاء میں چھوڑے ہیں۔ ترکہ میں 8 کنال زمین چھوڑی ہے۔ اب اس میں بیوی کو کتنے حصے ملیں گے اور کتنے دیگر ورثاء کو ملیں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کو 8 کنال میں سے ایک کنال یعنی 20 مرلے زمین ملے گی، اور والدہ کو 26.66 مرلے ملیں گے، اور ہر ہر بیٹے کو 28.33 مرلے ملیں گے۔ صورت تقسیم یہ ہے:

24×4= 96                          8 کنال/ 160 مرلے

والدہ                  بیوی               4 بیٹے

6/1                 8/1              عصبہ

4×4                3×4             17×4

16                            12               68

16                            12               17+17+17+17

26.66مرلے      20مرلے        28.33 مرلے                      فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

میرے مسئلہ کی کچھ تفصیل یوں ہے: ہم چار بہن بھائی ہیں، دو بہنیں اور دو بھائی۔ مجھ سے بڑی ایک بہن ہے اور دو بہن بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں۔ میرے والد صاحب کا 1959ء میں انتقال ہو گیا، ان کی جائیداد نہ تھی اور میری عمر اس وقت دس سال تھی، میری والدہ جوانی میں بیوہ ہو گئیں، وہ چاہتی تو دوسری شادی کر سکتی تھی، مگر انہوں نے صرف ہماری خاطر ایسا نہ کیا، خاندان کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آ پڑی، میں نے کام شروع کر دیا، مگر گذر بسر مشکل سے ہوتی تھی، انہی دنوں میرے پھوپھی زاد بھائی نے اپنے پیسوں کی زکوٰة سے اس زمانے میں 700 روپے کا ایک پانچ مرلہ کا پلاٹ خرید کر میری والدہ کے نام کر دیا، مگر ہمارے پاس اس پر مکان بنانے کے لیے رقم نہ تھی، اس لیے ہم کرائے کے مکان میں رہنے لگے، پھر میں اسی پھوپھی زاد بھائی کی وساطت سے 1975ء میں سعودیہ چلا گیا، وہاں میں نے بن لادن کمپنی میں تقریباً 11 سال ملازمت کی، اور پھر واپس پاکستان آ گیا، سعودیہ جانے کے بعد میں اپنی ساری بچت اپنے گھر والوں کو بھیجتا رہا، اور ہر سال پاکستان کا چکر لگاتا تھا، 1978ء میں پاکستان آیا تو میں نے اپنی فیملی اور والدہ اور بھائی بہن کے رہنے کے لیے ایک مکان پونے 5 مرلے کا خریدا، جس کی قیمت ایک لاکھ 95 ہزار روپے تھی، میں نے 10 ہزار بیعانہ دیا اور واپس جا کر رقم بھجواتا رہا، اور ایک سال میں رقم پوری کر دی۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ اس مکان کی قیمت میں 40 ہزار روپیہ میرے بڑے بہنوئی نے ڈالا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ جب آپ کے پاس ہو جائیں تو لوٹا دینا، میں نے منظور کر لیا، جب مکان کی قیمت پوری ہوئی تو رجسٹری کرواتے وقت میرے بہنوئی (جو کہ پاکستان میں اس وقت اس مالی معاملہ میں میرے وکیل بھی تھے) نے مجھ سے پوچھا کہ کس کے نام کروانا ہے تو مجھے اپنی والدہ کی ان تکالیف کا احساس تھا جو انہوں نے بیوگی میں ہمارے لیے کاٹیں، اس لیے میں نے اس سے کہا میری والدہ کے نام کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ پس انہوں نے یہ مکان میری والدہ کے نام رجسٹر کروا دیا۔ دو یا تین سال بعد میرے بہنوئی نے میری والدہ سے مطالبہ کیا کہ جو 40 ہزار میں نے اس مکان کی قیمت کے لیے دیا تھا اس کے عوض وہ اپنے 5 مرلے کا پلاٹ انہیں دے دیں، میری والدہ نے کچھ تردد کے بعد اس کو منظور کر لیا۔ لیکن یہ سب بات چیت زبانی کلامی ہوئی، نہ کوئی کاغذی کار وائی ہوئی اور نہ ہی میرے بہنوئی نے قبضہ وغیرہ لیا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ پلاٹ فی الوقت میری بیوہ والدہ کے نام ہی رہے، یوں اس پر ٹیکس ادائیگی سے بچت ہو جائے گی۔

ادھر میں جو پیسے پاکستان میں اپنے اکاؤنٹ پر بھیجتا تھا تاکہ میری بچت رہے اور میرے بچوں کے لیے آئندہ کام آئے وہ رقم زیادہ تر میرے بھائی بہن نے خرچ کر ڈالی اور مجھے نہ بتایا، جب میں پاکستان آیا تو پہلے مجھ سے چھوٹے بھائی نے جھوٹ بولا کہ وہ رقم تو ڈاکو لے گئے، میں نے سختی کی تو اس نے بتایا کہ وہ رقم تو میں خرچ کر چکا ہوں، میں نے اسے معاف کر دیا کہ بھائی تھا، میری والدہ میرے بھائی بہنوں کو جان گئی تھیں کہ اب ان کی نظر اس مکان میں اپنے حصہ پر تھی، اس لیے میری والدہ نے مجھ سے کئی بار کہا کہ بیٹا یہ مکان اپنے نام کروا لو، مگر میں یہی کہتا رہا کہ ماں کوئی بات نہیں چھوٹے ہیں سمجھ جائیں گے، کچھ عرصہ بعد میری والدہ کا انتقال 1989 میں ہو گیا اور ان کی وفات کے 2 یا 3 تین ماہ بعد ہی میرے بہن بھائیوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا کہ یہ مکان چونکہ وراثت میں آ گیا ہے، اس لیے سب عدالت میں جا کر کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ وراثت میں آ گیا ہے۔ میں چونکہ اپنے بہن بھائیوں کو ناراض نہ دیکھنا چاہتا تھا اور اکٹھا کرنا چاہتا تھا اسی لیے ان کے اصرار پر جا کر دستخط کر دیے، سب مطمئن ہو گئے، پھر میرے بڑے بہنوئی نے میری بڑی بہن کو طلاق کی دھمکی دی اور اس کو میرے پاس بھیجا کہ اپنے بڑے بھائی سے کہو کہ اپنی والدہ کا پلاٹ ہمارے نام کرے، کیونکہ اس کی والدہ وہ پلاٹ مجھے دینا منظور کر چکی تھی، میری بہن نے یہ صورت حال میرے سامنے رکھی تو میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے اس پلاٹ میں جو میرا حصہ بنتا ہے وہ میں اس طور پر چھوڑوں گا کہ تم وہ 40 ہزار اور اس مکان میں جو تمہارا حصہ ہے وہ میرے نام کر دو۔ میرا بہنوئی اور بہن اس پر راضی ہو گئے، اور میں نے یہ معاملہ کر لیا۔ میرے چھوٹے بہن بھائی اس پلاٹ میں اپنا حصہ چھوڑنے پر راضی نہ تھے، مگر وہ میرے سمجھانے پر مان گئے اور انہوں نے بھی اپنا حصہ چھوڑ دیا، میرے بہنوئی نے وہ پلاٹ لیتے ہی اسی وقت ڈھائی لاکھ میں بیچ دیا۔

اب اس مکان میں میرے بھائی اور میری فیملی رہنے لگی، کچھ عرصہ بعد اپنی بیوی اور سسرال والوں کے دباؤ پر میرے بھائی نے مکان میں سے اپنا حصہ علیحدہ کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا اور چھوٹی بہن بھی اس کے ساتھ اپنے حصہ کو علیحدہ کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم حصہ الگ نہ کرو، بلکہ ایک سال بعد مجھے کمپنی کی طرف سے ایک لاکھ ملے گا تم وہ لے لینا، وہ راضی ہو گیا، میرا بھائی راضی ہو گیا۔ سال بعد مجھے ایک لاکھ روپے ملا تو میں وہ لے کر اس کے پاس گیا، وہ اس وقت اپنے سسرال میں تھ، میں نے اس کو ایک لاکھ دینا چاہا، تو اس کے سسرال والوں نے کہنا شروع کر دیا کہ نہیں ہمیں حصہ ہی چاہیے، اور اگر رقم دینی ہے تو ایک نہیں بلکہ دو لاکھ دو، کیونکہ اگر یہ رقم سال پہلے ملتی تو بینک میں رکھوا کر اب تک دو لاکھ ہو چکی ہوتی، میرا بھائی بھی اس مطالبہ میں ان کے ساتھ تھا، میں نے ایک لاکھ نہ دیا اور واپس آ گیا۔

کچھ عرصہ بعد  میرے بھائی کا سعودیہ کا ویزا لگ گیا، مگر وہاں جانے کے لیے اس کو رقم درکار تھی، تو میری بیوی نے اپنے 6 تولہ سونے کے زیورات اس کو دیے کہ جب وہاں جا کر کماؤ گے تو واپس کر دینا، اس نے جاتے وقت میری بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ بھابھی میں سب سے پہلے وہاں جا کر آپ کا قرضہ واپس کروں گا، مگر آج تک اس نے یہ رقم واپس نہ بھجوائی اور نہ ہی آج تک اس کا تذکرہ کیا۔ اب تقریباً 25 سال کا عرصہ گذر چکا ہے، میرا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ سعودیہ میں مقیم ہے، ایک دو بار ہی پاکستان آیا اور چلا گیا، میری چھوٹی بہن نے بھی کچھ آہستہ آہستہ اپنے حصہ کا مطالبہ چھوڑ دیا۔

میں اب اس مکان میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہوں، میرے ماشاء اللہ 9 بچے ہیں۔ اور یہ مکان ان کی رہائش کے لیے ناکافی تھا، اس لیے میں نے اس دو منزلہ مکان میں تقریباً نئے سرے سے تعمیر کی اور اس کو چار منزلہ بنا دیا۔ مزید تعمیر کی لاگت تقریباً 25 لاکھ روپے آئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی فی زمانہ قیمت تقریباً 90 لاکھ روپے ہے، میری اس کے علاوہ کوئی جائیداد نہیں ہے۔

اب آپ سے گذارش ہے کہ اس تمام صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب شریعت کی روشنی میں عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں:

1۔ 5 مرلہ پلاٹ کا مال کون تھا، میری والدہ یا میرے بہنوئی؟

2۔ اگر میری والدہ اس کی مالک تھی تو کیا اس کی تقسیم میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ درست تھا؟

3۔ میرا اپنی بہن سے مکان کے حصہ کے عوض بہنوئی کا 40 ہزار اور پلاٹ میں اپنا حصہ چھوڑنا جائز تھا کہ نہیں؟

4۔ یہ مکان جو میں نے خریدا اور اس کی قیمت بھی پوری میں نے ادا کی آیا یہ وراثت میں آتا ہے کہ نہیں؟

5۔ اگر وراثت میں آتا ہے تو کیا میرا اپنی چھوٹی بہن اور بھائی کو حصہ اب تک نہ دینے کی صورت میں میں گنہگار ہوں یا نہیں؟ اور اس کی تلافی کی کیا صورت ممکن ہے جبکہ میرے 3 بچے شادی شدہ ہیں اور اس مکان کے علاوہ ان کے پاس رہنے کی کوئی جگہ بھی نہیں؟

6۔ اگر میں اس مکان کی آج لاکھ کی قیمت (نوے لاکھ) کے اعتبار سے ان کا حصہ رقم کی صورت میں ان کو ادا کروں تو کیا یہ جائز ہو گا؟

7۔ کیا اس صورت میں ان کے حصہ میں اتنی کٹوتی کر سکتا ہوں جتنی رقم میں نے اس کی زائد تعمیر میں لگائی ہے؟

8۔ میرے بھائی نے میری بیوی کے زیورات آج تک واپس نہ کیے اور نہ ہی مجھے اس کی امید ہے۔ تو کیا اس صورت میں اس کے حصہ میں سے زیورات کی قیمت کے برابر رقم کاٹی جا سکتی ہے یا نہیں؟

9۔ سونے کی کونسی قیمت لگائی جائے گی25 برس قبل کی یا آج کی؟

ہمارے والد صاحب کا انتقال 1979ء میں ہوا تھا، اس وقت ان کی اولاد 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں۔ ہمارے والد صاحب کا کارخانہ تھا، جہاں سارا دن کام ہوتا تھا، رات کو والد صاحب کام گھر پر لے آتے تھے، اور گھر پر بھی کام کرتے تھے، گھر پر ہم بہن بھائی اور والدہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ والد صاحب نے کارخانہ کے ساتھ کرایہ پر ایک دکان بھی لی ہوئی۔ والد صاحب کی وفات کے وقت ہم سب بہن بھائی ساتھ ساتھ پڑھتے بھی تھے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد دوسرے نمبر والے بھائی نے ان کا کاروبار سنبھالا، وہی بھائی گھر کا سارا انتظام خوشی غمی، عید، عید بقر،  وغیرہ ساری ضروریات دیکھتے تھے۔ ہم دوسرے بہن بھائی اور والدہ دن رات محنت کرتے تھے۔ والد صاحب کی وفات کے وقت چند مشینیں تھیں، والدہ کی محنت اور دعاؤں سے ہم نے بڑی مشینری خریدی۔ 1995ء میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا، اس وقت تک دو بھائی اور ایک بہن کی شادی ہو چکی تھی۔ بعد میں دوسرے نمبر والے بھائی نے ایک بھائی اور بہن کی شادی کی۔ دونوں چھوٹے بھائیوں نے اپنی شادیاں اپنے خرچے سے کیں۔

میں (چوتھے نمبر والا بھائی) ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا، جہاں پر میں اس وقت 1800 روپے لیتا تھا۔ دوسرے نمبر والے بھائی نے مجھے اس فیکٹری سے ہٹا کر اپنے پاس اس شرط پر لگوا لیا کہ میں تمہیں امریکہ بھجواؤں گا۔ لیکن اپنی بات پر پورے نہ اترے، میں نے ان کے پاس 12 سے 14 سال کام کیا، پھر 2005ء میں چھوڑ کر اپنا  علیحدہ کام کیا۔ میں جب تک بھائی کے پاس کام کرتا تھا، انہیں ہر ماہ 3000 روپے اپنی شادی کے لیے دیتا تھا۔

دونوں چھوٹے بھائی والدہ کی حیات میں گھر پر آنے والا کام ان کے ساتھ مل کر کرتے تھے۔ ان کے بعد کار خانے نہیں گئے، البتہ دوسرے نمبر والے بھائی نے انہیں مشترکہ کاروبار سے لیز پر لی گئی دکانوں (جن کا تذکرہ مزید آگے آرہا ہے) پر بٹھایا، اور کہا کہ دکانیں میری ہیں، تم کرایہ پر کام کرو۔ ایک بھائی کو ابتداء میں مال ڈال کر دیا، دوسرے نے مال خود سے ڈالا، دونوں بھائی دکانوں کا کرایہ اوقاف کو بھی ادا کرتے ہیں، اور بھائی کو بھی ادا کرتے ہیں۔

ہمارے سب سے بڑے بھائی بھی انہیں دوسرے نمبر والے بھائی کے ساتھ کارخانہ میں کام کرتے رہے، اور 1995ء میں انہوں نے اپنا علیحدہ کاروبار شروع کیا تھا۔

دوسرے نمبر والے بھائی نے مشترکہ کاروبار سے متعدد پراپرٹی دکان اور مکان خریدے ہیں۔ والد صاحب کی دکان کو دو منزلہ کیا ہے۔ دوسرے نمبر والے بھائی نے والد صاحب کی وفات کے چند سالوں بعد والد صاحب کی دکان کا نام ارشد ٹریڈرز ( جو کہ ایک بھائی کے نام پر تھا) تبدیل کر کے اقراء ٹریڈرز کر دیا (اپنی بیٹی کے نام پر)، تبدیلی چونکہ لیٹر پیڈ پر تھی، اس لیے ہم نے برا نہیں منایا۔

ہمارا مشترکہ مکان  والد صاحب اور ہمارے تایا چچا کا مشترکہ تھا، اور والد صاحب کے نام تھا، تایا کے انتقال کے بعد ان کی اولاد کے تقاضے پر وکیل نے ہمیں کہا کہ آپ تمام بہن بھائی کسی ایک کے نام کر دیں تاکہ قانونی طور پر تایا کی اولادوں کو حصہ دینے میں سہولت رہے، اس لیے ہم سب بہن بھائیوں نے دوسرے نمبر والے بھائی کے تمام انتظامات کو دیکھنے کی وجہ سے ان کے نام لگوا دیا۔

جب تک ہم تمام بہن بھائی دوسرے نمبر والے بھائی کے ساتھ کام کرتے رہے، وہ مشترکہ مکان کی تعمیر بھی کرتے رہے، علیحدہ ہونے کے بعد انہوں نے تعمیر بھی روک دی، جسے دونوں چھوٹے بھائیوں نے اپنے خرچہ سے پورا کیا ہے۔

اب 2015ء میں ہمارے سب سے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب جب دوسرے نمبر والے بھائی سے والد صاحب کی دکان کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ دکان ابو کے نام کرایہ پر تھی، مالکانہ فروخت میں دکان میں نے اپنے نام کرلی۔

ہماری رہنمائی فرمائیں کہ والدہ کی حیات اور بڑے بھائی کے ہوتے ہوئے مشترکہ دکان اپنے نام کرنا اور پراپرٹی و دکانیں خرید کر اپنے نام لگانا شرعاً کیسا ہے؟ جبکہ وسیلہ معاش والد صاحب کی دکان اور ہم سب بہن بھائیوں اور والدہ کی دن رات کی محنت تھی۔

نوٹ: والدہ اور بڑے بھائی کی زندگی میں انہیں علم نہیں تھا کہ دوسرے نمبر والے بھائی نے والد صاحب کی دکان اپنے نام کروا لی ہے۔

اس مسئلے کے بارے میں علماء کرام و مفتیان دین قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا فرماتے ہیں۔ ہمارے والد محترم کا وصال 1979ء میں ہوا تھا۔ اس وقت ان کی اولاد 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھی۔ دو بڑے بھائی جن میں ایک بھائی -جو سب سے بڑے تھے- نے ایف اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی، ان سے چھوٹے والے بھائی جو اس وقت تھرڈ ائیر کے طالب تھے، باقی 6 بہن بھائیوں کی عمریں اس طرح تھی: سب سے چھوٹے بھائی کی عمر 5 سال ، اس سے بڑے بھائی 9 سال، ان کے بعد والے بھائی کی عمر 11 سال، بہن کی عمر 13 سال، پھر بھائی کی عمر 15 سال، اور بہن کی عمرتقریباً 17 سال تھی۔

ہمارے والد صاحب جو کام کیا کرتے تھے، وہ سارا دن کارخانے میں ہوتا تھا اور وہ کام گھر پر بھی لے کر آیا کرتے تھے، اور رات کو گھر پر بھی کام کیا کرتے تھے، ہم سب اس وقت پڑھا کرتے تھے، والد صاحب کے وصال کے بعد دوئم نمبر والے بھائی نے والد صاحب کا کاروبار سنبھالا، جو اس وقت تھرڈ ایئر کے طالب علم تھے۔ ہمارے والد صاحب نے ایک دکان کرایہ پر لی ہوئی تھی، جو کہ کارخانے کے علاوہ تھی،  والد صاحب کی وفات کے بعد گھر کا نظام درہم بھرہم ہو گیا تھا۔ والد صاحب کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ کام ہم سب گھر والوں پر بھی کرتے تھے، اور دوسروں سے گھروں پر کروایا کرتے تھے، ہم سب بہن بھائیوں اور والدہ نے دن رات محنت کی، ہماری والدہ سارا دن گھر پر کام کیا کرتی تھی، جن کا ہاتھ تمام چھوٹے بہن بھائی بٹاتے تھے۔

والد نے کرایہ والی دکان کے لیٹر پیڈ پر جو نام  اپنے چوتھے نمبر والے بیٹے لکھوایا تھا، دوئم نمبر والے بھائی نے جنہوں نے والد صاحب کا کام سنبھالا تھا، انہوں نے کچھ سالوں بعد لیٹر پیڈ پر نام تبدیل کر کے اپنی بچی کا نام لکھوا دیا تھا، ہم نے اس بات کا بُرا محسوس نہیں کیا کہ لیٹر پیڈ پر تبدیل کیا ہے۔ ہمارے والد صاحب کے وصال کے وقت چند مشینیں بھی تھی، جن پر وہ گھر پر آکر کام کرتے تھے، اور دکان پر بھی چند مشینیں تھی، ہم سب بہن بھائیوں کی دن رات محنت اور والدہ کی محنت کے ساتھ دعا کی بدولت ہم نے بڑی مشینری خریدی، اس وقت ہم اپنے بھائی سے 100 روپیہ ہفتہ لیا کرتے تھے۔ عید و بقر عید پر کپڑے اور جوتی دیا کرتے تھے، دوئم نمبر والے بھائی ہمارا فطرانہ بھی ادا کرتے اور خوشی غمی، شادی بیاہ وغیرہ میں یہی لین دین کرتے تھے، اور گھر پر روز 100 روپے خرچ دیتے تھے، 1995ء میں والدہ کا بھی وصال ہو گیا، پھر بھی ہم ان کے ساتھ کام کرتے رہے، اس وقت دو بھائی اور ایک بہن کی شادی ہو چکی تھی، جس گھر میں ہم سب رہتے ہیں وہاں پر تمام تعمیراتی کام بھی اس وقت تک کرتے رہے جب تک ہم ان کے پاس کام کرتے رہے، اس تعمیراتی کام میں باقی نا مکمل کام چھٹے نمبر والے بھائی نے پورا کیا، اس کے علاوہ ان کے پاس کام بھی کرتے تھے، اور  انہیں اپنی شادی کے لیے 3000 روپے مہینہ بھی دیتے رہے، میں (چھٹے نمبر والا بھائی) ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا، جہاں پر میں اس وقت 1800 روپے لیتا تھا، وہاں فیکٹری میں دو دن کام اور دو دن چھٹی ملتی تھی، دوئم نمبر والے بھائی نے مجھے اس فیکٹری سے ہٹا کر اپنے پاس لگوا لیا، اس شرط پر کہ تمہیں امریکہ بھجواؤں گا، لیکن اپنی بات پر پورے نہ اترے، میں نے ان کے پاس 12 سے 14 سال کام کیا، 2005ء میں میں نے دوئم نمبر والے بھائی کے پاس کام چھوڑ کر علیحدہ کام شروع کیا۔

والدہ کی وفات کے بعد ایک بھائی اور بہن کی بھی شادی کی، اس وقت بھی ہم ان کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ چھوٹے دو بھائیوں نے اپنی شادیاں اور اپنے کمروں کے خرچے خود برداشت کیے۔ دونوں چھوٹے بھائی والدہ کی وفات 95ء تک گھر پر آنے والا کام کرتے رہے، اس کے بعد کارخانے نہیں گئے، البتہ دوئم بھائی نے دونوں کو مشترکہ کاروبار سے لیز پر لی گئی دکان (جن کا تذکرہ آگے آ رہا ہے) پر بٹھایا، اور کہا کہ دکانیں میرں ہیں، کرایہ پر کام کرو، ایک بھائی کو ابتداء میں مال بھی ڈال کر دیا اور دوسرے نے مال خود ڈالا۔

ہمارے سب سے بڑے بھائی کی وفات 26 اپریل 2015ء میں ہوئی، ان کی وفات کے بعد اس مسئلے کو پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوئی، والد صاحب کی دکان پر سب سے بڑے بھائی ویل کپ کا کاروبار کرتے تھے، یہ کام بڑے بھائی نے 95ء میں علیحدہ شروع کیا تھا، ورنہ وہ بھی دوئم بھائی کے ساتھ کام کرتے تھے، آج کل ان کا بیٹا یہ کام کرتا ہے، دوئم نمبر والے بھائی نے والد صاحب کی دکان کو دو منزل کر لیا ہے، جب دوئم نمبر والے بھائی سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ یہ دکان تو ہمارے والد صاحب کے نام ہے، اس سے پہلے ہم میں سے کسی بھائی یا بہن نے یہ بات نہیں پوچھی، اس سوال کے جواب میں بھائی نے کہا کہ وہ دکان ابو کے نام کرایہ پر تھی، جبکہ مالکانہ فروخت میں وہ دکان میں نے اپنے نام کر لی تھی 1985ء میں۔ دوئم  نمبر والے بھائی نے چند دکانیں اسی مشترکہ کاروبار سے لیز پر خریدی، جن میں سے دو کانیں ہم تین بھائیوں کے پاس ہیں، جن کا کرایہ ہم اوقاف کو اور ان بھائی کو ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ پراپرٹی بھی ہے، جو ان کے ہی نام ہے، جو کہ انہوں نے مشترکہ کاروبار سے بنائی ہے۔ ہم نے والدہ محترمہ کے ہوتے ہوئے ایک دکان خریدا تھا، جو ہمارے خالہ جان کا تھا، اس کا بھی نہیں پتہ کہ وہ کس کے نام ہے، لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ ہماری والدہ کے نام نہیں ہے۔

ہماری رہنمائی فرمائیں کہ والدہ کے حیات اور بڑے بھائی کے ہوتے ہوئے دکان کا اپنے نام کرنا، پراپرٹی وغیرہ اور دکانیں وغیرہ اپنے نام خریدنا کیسا ہے؟  جبکہ وسیلہ معاش وہ والد صاحب کی دکان تھی، اور ہم سب بہن بھائیوں اور والدہ کی رات دن کی محنت۔

نوٹ : والدہ اور بڑے بھائی کو اپنی زندگی میں علم نہیں تھا کہ دوئم بھائی نے والد صاحب کی دکان اپنے نام کروا لی ہے۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved