• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

دوا کی سیل بڑھانے کے لیے ڈاکٹر کو کچھ دینا

استفتاء

میں میڈیسن کمپنی میں کام کرتا ہوں، ہم اپنی دوائی ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں دوائی کے بارے میں معلومات دیتے ہیں اس کے سمپل دیتے ہیں کہ وہ مریض میں رزلٹ کے حوالے سے ٹرائی کرے اور مریض کو دوائی لکھے۔ ہمارے پاس ہر ڈاکٹر کا پروفائل ہوتا ہے، اس کی پسند نا پسند، یہ روپے لیتا ہے اگر لیتا ہے تو سیل بھی دیتا ہے کہ  نہیں یا روپے لے کر تنگ کرتا ہے یا گفٹ پسند کرتا ہے یا ہوٹل میں کھانا پسند کرتا ہے، غرض ہر قسم کی انفارمیشن ہوتی ہے۔

1۔ جو ڈاکٹر روپےلیتے ہیں چیک یا کیش کی صورت میں ہمارے پاس ان کے بارے میں مکمل فیڈبیک ہوتا ہے ہم تین سے چار مرتبہ ان سے ملتے ہیں اس کے بعد ان کو کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم اپنی دوائی آپ سے لکھوانا چاہتے ہیں کوئی کام ہو تو ہمیں بتائیں، پھر وہ بتاتا ہے کہ میں اتنے روپے لوں گا، پھر ہم کہتے ہیں کہ روپے کے بدلے میں ہم اتنی سیل لیں گے آپ سے، اور یہ ہماری دوائی ہے جو آپ نے لکھنی ہے، اگر وہ سیل نہ دے یا تھوڑی دے تو کمپنی ہمیں کہتی ہے کہ اس کو مجبور کرو کہ وہ لکھے، اس کو کہو کہ کیا ہم نے تمہاری ڈیمانڈ پوری نہیں کی؟ اب ہماری دوائی لکھیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

2۔ کچھ ڈاکٹر خود کہتے ہیں ہمیں روپے دو گے تو لکھیں گے۔ ان کو بھی ہم کہتے کہ اتنے روپے لیں اور اتنی سیل لیں گے مقرر کر لیتے ہیں اور ساتھ میں لالچ بھی دیتے ہیں( اگر وہ کم لکھ رہا ہو )کہ ہم آپ کے ساتھ لمبا عرصہ چلنا چاہتے ہیں جلد از جلد سیل دیں۔

3۔ کچھ ڈاکٹر کے کلینک کے اندر اس کی اپنی فارمیسی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے ایکسٹرا ڈسکاؤنٹ دو گے تو لکھوں گا، اگر نہ دیں تو وہ خریدتا نہیں ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟

4۔ ڈاکٹر کا اپنا میڈیکل سٹور کلینک کے اندر ہو تو وہ ڈسکاؤنٹ کی بجائے رقم مانگے تو دینا جائز ہے؟

5۔ ڈاکٹر کو تحفہ دینا۔  تحفہ اس کے اپنے استعمال کے لیے ہو یا مریض کے استعمال میں آنے والا ہو کیا جائز ہے؟ وہ خود مانگے یا ہم خود دیں۔

تحفہ دینے کا مطلب ہمارا یہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلقات اچھے ہوں ڈاکٹر سے اور اس کے دل میں ہمارے لیے محبت پیدا ہو اور ڈاکٹر ہماری دوائی شاید لکھ دے یا لکھنی زیادہ کر دے۔ کیا یہ جائز ہے؟

6۔ ڈاکٹر کے مطالبہ پر جو کچھ دیں تو اس کو باور کروایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارا کام کیا، اب تم ہماری دوائی زیادہ سے زیادہ لکھو، کیونکہ کمپنی مجبور کرتی ہے ڈاکٹر کو کہ سیل دو۔

7۔ ڈاکٹر کے کلینک پر کمپ کرنا: کمپنی کا ایک نمائندہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ آج یا کل میں آپ کے کلینک پر کمپ کرنا چاہتا ہوں یعنی آکر بیٹھوں گا اور آپ کو کھانا بوتل دوں گا، یعنی کھانا یا چھوٹی موٹی چیز برگر یا پیزا بوتل کھلا دوں گا، تو آپ اس دن مجھے زیادہ سے زیادہ سیل دینا جس دن کیمپ کروں گا تو اس دن اس کی ہی دوائی ڈاکٹر لکھتا ہے۔ کیا ایسے لکھوانا جائز ہے؟

8۔ ائینڈنٹ جو ڈاکٹر سے  ملواتا ہے اس کو کچھ نہ کچھ دے دینا کہ یہ ڈاکٹر سے آرام سے ملوا دیا کرے۔ کیا جائز ہے؟

9۔ عام میڈیل سٹور والے جو ڈسکاؤنٹ مانگتے ہیں اگر کمپنی نہ دے تو اس دوائی کی جگہ دوسری کمپنی کی دوائی دے دیتے ہیں، اس لیے ان کو ڈسکاؤنٹ دینا پڑتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟

10۔ ڈاکٹر کو کیا دیا جا سکتا ہے؟

اگر ہماری دوائی میں کوئی کمی نہ ہو اور ڈاکٹر سے ملاقات بھی ہر ہفتے ہو رہی ہو لیکن اگر ڈاکٹر پھر بھی بغیر روپے لیے نہ لکھے تو کیا کوئی گنجائش ہے اور وہ بھی ڈاکٹر خود اپنے منہ سے مانگے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوالات کا حاصل اور قدر مشترک یہ ہے کہ اپنی دوا کی سیل بڑھوانے کے لیے ڈاکٹر کو کچھ دینے کا حکم کیا ہے؟

1۔ اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ ڈاکٹر کو دی جانے والی چیز اگر تو معمولی حیثیت کی ہے کہ جس کی بنیاد پر ایک با مروت ڈاکٹر متعلقہ کمپنی کی دوا لکھنے پر اخلاقی لحاظ سے مجبور نہیں ہوتا، تب تو جائز ہے، جیسے قلم، پیڈ اور کیلنڈر وغیرہ۔

2۔ اور اگر وہ چیز زیادہ حیثیت کی ہو کہ جس کی بنیاد پر وہ اخلاقی دباؤ میں آتے ہوئے متعلقہ دوا لکھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے تو ایسی چیز کا لینا اور دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ ایسا گفٹ گفٹ نہیں بلکہ رشوت ہے جس کے لینے اور دینے والے دونوں گناہگار ہوتے ہیں۔

3۔ رشوت ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر کے پاس جب کوئی مریض آتا ہے تو ڈاکٹر کے ذمے اخلاقاً بھی اور اصولاً بھی ہی لازم ہوتا ہے کہ وہ مریض کی مالی حیثیت کا لحاظ کرتے ہوئے ممکنہ حد تک بہتر دوا تجویز کرے۔ خواہ وہ دوا کسی بھی کمپنی کی ہو، اس بہتر دوا کے تجویز کرنے کا بدل اور معاوضہ وہ (اگر پرائیویٹ کلینک پر ہے تو مریض سے فیس کی شکل میں، اور اگر سرکاری ملازمت پر ہے تو) تنخواہ کی شکل میں مستقل وصول کرتا ہے۔ اس تجویز پر فیس اور تنخواہ کے علاوہ معاوضہ لینا اپنے اوپر عائد ایک فریضے کی ادائیگی پر اضافی معاوضہ لینا ہے۔ جو کہ رشوت ہے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved