• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

دوسرے شخص کے لیے باہر سے مال منگوانے کی صورت میں کمیشن کی مقدار

استفتاء

میں امپورٹ کا کام کرتا ہوں۔ میری فرم ’’ایچ ایچ اینڈ کمپنی‘‘ کے نام سے ہے۔ میں انڈونیشیا سے سندرس منگوا کر ایک دکاندار کو دیتا ہوں۔

اس کاروبار میں کل 40 لاکھ روپے لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 25 لاکھ دیگر لوگوں کے ہیں، اور 15 لاکھ میرا ذاتی سرمایہ ہے۔ میں جس دکاندار کو مال دیتا ہوں وہ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم دوسرے لوگوں کا سرمایہ واپس کر دو، اور تمہارے پندرہ لاکھ بھی میں تھوڑے تھوڑے کر کے کچھ عرصہ میں واپس کر دوں گا۔ کیونکہ کاروبار سے یکدم نکالنا مشکل ہے۔ وہ دکاندار چاہتا ہے کہ آئندہ سے کاروبار میں سارے پیسے اس کے ہوں اور میں صرف اس کے لیے انڈونیشیا سے جب، اور جتنا وہ چاہے منگوا کر دیتا رہوں ، پیسے ٹی ٹی کرواؤں، مال چھڑواؤں اور دکاندار کے مطلوبہ اڈے پر دے دوں۔ وہ دکاندار اگرچہ مال انڈونیشیا سے اپنے لائسنس پر خود بھی منگوا سکتا ہے، مگر وہ چاہتا ہے کہ چونکہ ایک طویل عرصہ تک میں نے ہی اسے مال منگوا کر دیا ہے، اس لیے اب بھی وہ میرے ذریعہ سے ہی مال لے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ پھر تم مجھے ہر طرح کی تفصیل بتاؤ گے ڈیوٹی کتنی لگی ہے، ریٹ کیا لگا ہے وغیرہ وغیرہ۔  ہم نے بھی اسے کام کے بارے میں ہر قسم کے خطرات و منافع کا بتا دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس شخص سے اپنا نفع کس شرح سے لے سکتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت دلالی و کمیشن ایجنٹ کی وہ صورت ہے جس میں ایجنٹ اپنے مؤکل کے لیے اجرت پر سودا خود کرتا ہے۔ خریدار اور بیچنے والے کو ملاتا نہیں ہے۔

یہ صورت جائز ہے اور ایجنٹ کا نفع آپس کی رضا مندی سے طے کیا جا سکتا ہے جبکہ کام کرنے سے پہلے طے کیا جائے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved