• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

گذشتہ سالوں کی قربانی میں کس جانور کا، اورکونسی قیمت کا اعتبار ہو گا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھ پر اور میری بیوی پر 20 سال کی قربانی واجب تھی، ہم نے قربانی ادا نہیں کی۔ اب ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟ کونسے جانور کی قیمت کس حساب سے لگائی جائے گی؟ جزاکم اللہ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں متوسط قسم کی بکری یا بھیڑ کی قیمت دینا ضروری ہے؟ یا گائے کے ساتویں حصے کی قیمت بھی دے سکتے ہیں؟

اس بارے میں بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ متوسط قسم کی بھیڑ یا بکری کی قیمت کی قیمت ہی ضروری ہے، گائے کے ساتویں حصے کی قیمت دینا کافی نہیں۔ چنانچہ احسن الفتاویٰ میں ہے:

قربانی کے قابل متوسط درجہ کی بھیڑ یا بکری کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے، بشرطیکہ قربانی کرنے والا غنی ہو، ورنہ واجب نہیں ہے۔ سبع بقرہ کی قیمت کا تصدق کافی نہیں، اس لیے کہ قربانی سے مقصد اراقة الدم ہے۔ جس میں شرکت متصور نہیں، ایام نحر میں گائے میں جواز شرکت خلاف قیاس ہے۔ بعد میں وجوب قیمت کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ (7/ 480)

نیز عام طور سے عربی کتب فقہ میں بھی صرف ’’قيمة شاة‘‘ کا تذکرہ ہے۔ سبع بقرہ کی قیمت کا کچھ ذکر نہیں۔ جبکہ بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ گائے کے ساتویں حصہ کی قیمت بھی صدقہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ فتاویٰ مفتی محمود رحمہ اللہ میں ہے:

۔۔۔ اگر جانور خریدا نہیں تو درمیانے قسم کا جانور جس کی قربانی صحیح ہو سکے قیمت لگا دیں اور ہر سال کے عوض ایک ایک جانور کی مثلاً بکری کی قیمت کسی مسکین کو دیدے، یا گائے کے ساتویں حصے کی قیمت صدقہ کر دے۔ عام کتب فقہ میں اگرچہ قیمت سبع بقرہ کا ذکر نہیں، مگر قیمت بکری کی قید احترازی نہیں۔ کیونکہ صدقہ ادائے واجب ہے۔ شاة کی قیمت ہو یا سبع بقرہ کی یا نفس شاة ہو یا نفس سبع بقرہ ہو۔ (9/ 579)

جبکہ مسائل بہشتی زیور میں ہے کہ جیسی قربانی کی استطاعت تھی اس کی قیمت صدقہ کرے۔ چنانچہ مسائل بہشتی زیور میں ہے:

’’اگر جانور خریدا لیکن قربانی نہیں کی یہاں تک کہ قربانی کے دن گذر گئے تو زندہ جانور صدقہ کر دے۔ اور اگر ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دیا تو یہ بھی جائز ہے۔ لیکن اگر ذبح شدہ کے مقابلے میں زندہ جانور کی قیمت زیادہ ہو تو زائد رقم اس کو صدقہ کرنا ہو گی۔ اور اگر جانور ہی نہ خریدا تو جیسی قربانی کی استطاعت تھی اس کی قیمت صدقہ کرے۔‘‘ (1/ 473)

ان متعدد اقوال کے بارے میں آپ کی رائے معلوم کرنی تھی کہ صحیح بات کونسی ہے؟

(2) قیمت میں صرف یوم الوجوب کا اعتبار ہو گا، یا صرف یوم الاداء کا اعتبار ہوگا، یا یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے۔ یعنی یہ کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک یوم الوجوب کا اعتبار ہو گا، اور صاحبین کے نزدیک یوم الاداء کا اعتبار ہو گا؟

اور جہاں تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ یہ مسئلہ بھی امام صاحب اور صاحبین رحمہم اللہ کے نزدیک مختلف فیہ ہے۔ چنانچہ امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک یوم الوجوب کی قیمت کا اعتبار ہو گا اور صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک یوم الاداء کی قیمت کا اعتبار ہو گا۔ جیسا کہ خیر الفتاویٰ میں ہے:

سوال: ایک شخص  کے ذمہ قربانی و زکوٰة واجب ہوئی، مگر کئی سال گذرنے کے بعد ادا کرنے کا ارادہ کیا، اب وہ قربانی کی قیمت اور زکوٰة والے سونے کی قیت ادا کرنا چاہتا ہے، تو قیمت یوم الوجوب کی معتبر ہو گی یا یوم الاداء کی؟ ۔۔

الجواب: صاحبین کے نزدیک یوم الاداء کی قیمت لگائی جائے اور امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک یوم الوجوب کی۔ صاحبین رحمہ اللہ کا قول انفع للفقراء ہے اور امام اعظم رحمہ اللہ کا قول انفع لصاحب المال ہے۔ کیونکہ آجکل قیمت بڑھی ہوئی ہے اور یوم الوجوب زمانہ ما سبق میں قیمت کم تھی۔ مستفتی احتیاط پر عمل کرنا چاہے تو احوط قول صاحبین رحمہما اللہ کا ہو گا۔ (3/ 429)

جبکہ بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ قربانی کے مسئلے میں صرف یوم الاداء کی قیمت کا اعتبار ہو گا۔ جیسا کہ احسن الفتاویٰ میں ہے:

’’سوال: کسی شخص نے ایام اضحیہ میں قربانی نہیں کی تو بعد میں جو تصدق قیمت واجب ہے، اس میں کونسی قیمت معتبر ہے؟ یوم الوجوب کی یا یوم الاداء کی؟ چونکہ ضمان اضحیہ مضمون ہونے میں مغصوب قیمی کے مثل ہے، لہذا جس طرح ضمان غصب میں یوم الغصب کا اعتبار ہے، یہاں بھی یوم الوجوب معتبر ہو گا۔

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالی: و تجب القيمة في القيمي يوم غصبه إجماعاً. (رد المحتار: 5/ 116)

زکوٰة سوائم میں یوم الاداء کی قیمت کا اعتبار ہے، اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اضحیہ میں بھی یوم الاداء کی قیمت معتبر ہے۔

قال في التنوير: و جاز دفع القيمة في زكاة و عشر و خراج و فطرة و نذر و كفارة غير الاعتاق. و قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالی: و تعتبر القيمة يوم الوجوب و قالا يوم الأداء و في السوائم يوم الأداء إجماعاً و هو الأصح. (رد المحتار: 2/ 22)

ان دونوں میں سے کس پر قیاس صحیح ہے؟ ضمان غصب پر یا زکوٰة سوائم پر یا ان دونوں سے اضحیہ کا حکم الگ ہے؟

زکوٰة سوائم کی طرح یوم الاداء کی قیمت واجب ہے۔

اشکال: زکوٰة سوائم میں حیوان سے قیمت کی طرف حکم منتقل نہیں ہوتا، مالک جب بھی زکوٰة ادا کرے اس وقت اس کو اختیار ہے کہ حیوان دے یا اس کی قیمت، لہذا بوقت اداء دونوں میں مساوات لازم ہے، بخلاف اضحیہ کہ ایام نحر گذر جانے کے بعد حکم نفس حیوان سے قیمت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، فصار كهلاك المغصوب بل كالاستهلاك.

جواب: مغصوب پر قیاس جب صحیح ہو سکتا تھا کہ اضحیہ کا جانور معین ہوتا، پھر اس کے ہلاک یا استہلاک کی وجہ سے قیمت کی طرف انتقال ہوتا، حالانکہ مسئلہ زیر بحث میں یہ صورت نہیں، کوئی حیوان معین نہیں، تصدق میں اختیار ہے کہ کوئی حیوان صدقہ کر دے یا اس کی قیمت، لہذا بوقت ادا لزوم مساوات ظاہر ہے۔

البتہ اگر بذریعہ نذر معین یا بقول مشہور شراء فقیر سے حیوان معین ہو گیا تو اس کا قیاس مغصوب پر صحیح ہے، اسی حیوان کا زندہ کا تصدق لازم ہے، اور بصورت استہلاک اس دن کی قیمت کا تصدق۔ و اللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم‘‘۔ (7/ 533- 534)

جبکہ بندہ کا خیال یہ ہے کہ قربانی کے مسئلے میں صرف یوم الوجوب کی قیمت کا اعتبار ہو گا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰة کے مسئلے میں جو حضرات یوم الوجوب کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں، وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ’’واجب اصلی عین کا چالیسواں حصہ ہے‘‘ البتہ شرع نے اسے یہ اختیار دیا ہے کہ ادائیگی کے وقت مالک بجائے عین کا چالیسواں حصہ ادا کرے، اس چالیسویں حصہ کی قیمت بھی ادا کر سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ ادائیگی کے وقت چالیسواں حصہ ادا کرے یا اس کی قیمت ادا کرے یہ دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:

لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين و إنما له ولاية النقل إلی القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء. (2/ 111)

مزید آگے لکھتے ہیں:

و عندهما: الواجب ربع عشر العين من حيث الصورة و المعنی جميعاً لكن لمن عليه حق النقل من العين إلی القيمة وقت الأداء. (2 / 111)

ظاہر ہے کہ یوم الاداء کی قیمت معتبر ہونے کی مذکورہ دلیل قربانی کے مسئلے میں جاری نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قربانی کے مسئلے میں ایام گذرتے ہی قیمت ذمے میں آ گئی۔ یہ نہیں کہ واجب اصلی تو ادائیگی کے دن کسی متعین عین یا اس کے کسی جزء کی ادائیگی تھی، البتہ مالک کو سہولت کے پیش نظر اس متعین عین یا اس کے جزء کی قیمت ادا کرنے کا اختیار دیا گیا ہو۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved