• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی وجہ حج کی فرضیت

استفتاء

آج کل لوگوں میں عمرے کا رجحان بہت ہو گیا ہے۔ چنانچہ کم استطاعت والے  لوگ بھی عمرے کا سفر کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت  والے عمرے کے فروغ کے لیے عمرے کی اجازت  کے مہینے  بھی بڑھا دیتے ہیں۔ بہت مالی کم حیثیت کے لوگ رمضان میں عمرہ کے لیے جاتے ہیں اور شوال کا چاند انہیں وہیں ہوتا ہے۔ بلکہ کچھ لوگ شوال کے متعدد دن وہاں قیام کرتے ہیں۔ عام اصول یہی سنا ہے کہ ایسے لوگوں پر حج فرض ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا سفر تو ہو ہی چکا ہے اور ایسے لوگ اگر حج تک وہاں رکیں  تو کھانے پینے اور رہائش کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں مگر اولاً انہیں حکومت حج تک رکنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ثانیاً حج کی فیس اور دیگر اخراجات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ انہیں یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے۔ اور اپنے ملک جا کر دوبارہ آنے کا خرچ بھی نہیں ہے۔ جبکہ ایسے لوگ استطاعت بھی نہیں رکھتے ان پر کیا حج فرض ہو جائے گا۔ اگر زندگی میں موقع نہ ملے تو کیا حکم ہو گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جو شخص حج سے قبل مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو وہ اہل مکہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ اور مکہ والوں کے لیے حکم یہ ہے کہ حج کے مہینہ میں اگر کسی کے پاس حج کے اخراجات نہ ہوں تو اس پر حج فرض نہیں ہوتا۔

حج کے اخراجات میں اپنے کھانے پینے اور گھر والوں کے کھانے پینے کے اخراجات کے ساتھ حج کی سرکاری فیس، معلم کے اخراجات اور ٹیکسز بھی شامل ہیں۔

شامی (3/525) میں ہے:

والحاصل أن الزاد لا بد منه ولو لمكي كما صرح به غير واحد كصاحب الينابيع و السراج. الخ.

غنیۃ الناسک (ص: 20) میں ہے:

و تعتبر مع نفقة الطريق نفقة المكس و الخفارة فيشترط القدرة عليها أيضاً. فقط و الله تعالى أعلم

جواب دیگر

اگر اس آدمی کے پاس ایام حج تک وہاں رہنے اور کھانے پینے کا خرچہ ہو یا گھر سے منگوا سکتا ہو اور اسی طرح ایام حج تک کا اپنے زیر کفالت افراد کا خرچہ بھی ہو تو اس شخص پر اشہر حج میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہو جائے گا بشرطیکہ اس نے بلوغت کی حالت میں پہلے حج نہ کیا ہو۔ اب اگر یہ شخص قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے اسی سال حج نہیں کر سکتا تو آئندہ سال حج کرے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

 

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved