• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نیم برہنہ کپڑوں کا کاروبار اورنیم برہنہ تصاویر کے ذریعے کاروبار کی تشہیر

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک آن لائن سٹور ہے جس کا کام زنانہ مردانہ اور فیشن سے متعلقہ چیزیں بیچنا ہے۔ ہمارے سٹور کے کام کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس یہ اشیاء حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، لہذا ہم ان کی تصویر خود نہیں کھینچ سکتے اور ہمیں ان تصاویر پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو تصاویر سپلائز ہمیں دیتا ہے۔ زیادہ تر ہمارے زنانہ کپڑوں کی تصاویر میں ان ماڈلز کی تصویر بھی شامل ہوتی ہے جنہوں نے نمائش کی خاطر وہ کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ چونکہ ہم یہ کپڑے صرف امریکہ میں بیچتے ہیں، اس لیے یہ کپڑے مغربی انداز کے ہوتے ہیں، جن میں ستر کھلا ہوا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ تشہیر کی غرض سے سوشل میڈیا یا ویب سائٹ پر ان ماڈلز کی ڈیجیٹل تصاویر دینا جائز ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔ کیا آپ تصاویر ایڈٹ کر سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں ہم ایڈٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر تصاویر ایڈٹ کر دی جائیں مثلاً چہرہ  کاٹ دیا جائے تو اس تصویر کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ تو کیا چہرہ کے علاوہ باقی جسم کے برہنہ اجزاء کی تصویر جائز ہے؟

2۔ کیا آپ تصاویر چھپا سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں ہمیں تصویر حذف کرنے کا پورا اختیار ہے۔

3۔ کیا خریدار آپ سے رابطہ کرتا ہے یا آپ بائع کے لیے محض تشہیر کرتے ہیں؟

جواب: ہم اپنے اختیار سے بائع کی اشیاء کی تشہیر کرتے ہیں یعنی بنیادی طور پر یہ ہماری صوابدید پر منحصر ہے کہ کس چیز کی تشہیر کریں اور کس کی نہ کریں۔ بہر حال جن کی تشہیر کا ہم طے کر لیتے ہیں ان میں یہ مسئلہ آتا ہے کہ ان کو دکھانے کے لیے مردوں اور عورتوں کی تصویر دینی پڑتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے مذکورہ کاروبار میں تین خرابیاں ہیں:

1۔ مردوں اور عورتوں کی تصاویر دکھانا۔

2۔ ان برہنہ اعضاء کو دیکھانا جن کو دیکھنا جائز نہیں۔

3۔ ان کپڑوں کو بیچنا جو ستر کو نہیں ڈھانپتے۔

في رد المحتار:

قال في البحر: و في الخلاصة و يكره التصاوير على الثوب صلي فيه أو لا انتهى، و هذه الكراهة تحريمية و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، و قال و سواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، و سواء كان في ثوب أو بساط أو درهم و إناء و حائط و غيرها.

و في الفقه الإسلامي و أدلته:

أما التصوير الشمسي أو الخيالي فهذا جائز، و لا مانع من تعليق الصور الخالية في المنازل و غيرها، إذا لم يكن داعية للفتنة كصور النساء التي يظهر فيها شيء من جسدها غير الوجه و الكفين، كالسواعد، و السيقان و الشعور……………… فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved