• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پلاٹ پر زکوٰۃ سے متعلق چند سوالات

استفتاء

2011ء میں ہم نے ایک پلاٹ کی  Down Paymet جمع کروائی۔ ارادہ فوراً فائل بیچنے کا تھا لیکن قیمتیں فوراً گر گئیں ساڑھے چار لاکھ جمع کروائے تھے اور ان کے 175000ملنے لگے۔ اور چھ ماہ تک یہی قیمت  رہی، ساتھ ہی قسطوں کا شیڈول آگیا۔ ہمیں ایک پارٹنر ملا جس کے ساتھ طے ہوا کہ وہ قسطیں جمع کروائیں گے اور جب پلاٹ بیچیں گے تو پرافٹ آدھا آدھا کر لیں گے۔ ہم نے ٹوٹل چھ لاکھ دیے، پھر وہ قسطیں دیتے رہے اور ڈھائی تین سال اس پراسس میں لگے۔ قسطیں مکمل ہونے کے بعد بھی قیمتیں کم ہی رہیں۔  2016ء میں اس کی کچھ قیمت بڑھی پلاٹ بیچ دیا اور ایک ماہ پہلے ہمیں پیسے ملے ہیں۔

1۔ اب پوچھنا یہ درکار ہے کہ اس سارے پراسس میں ہمیں زکوٰۃ دینا ہے۔

2۔ اس کا طریقہ کیا ہو گا؟

3۔ پانچ سال میں ڈھائی سال قسطیں جمع ہوتی رہیں، قمتیں گری  رہیں، تین سال تک ہمارے پیسے چھ لاکھ جمع ہی رہے لیکن اگر ہم فائل بیچتے تو ہمیں کم ہی پیسے ملتے، 6 کا 4 ملتا۔

4۔ اب زکوٰۃ دینے کا کیا طریقہ کار ہو گا۔ پچھلے سالوں کی بھی زکوٰۃ ہو گی یا اب مکمل جو پیسے ملے ہیں ان کی زکوٰۃ ہو گی؟

5۔ پلاٹ خریدنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی کچھ رقم محفوظ کر لیں تاکہ بچوں کی شادی میں کام آئے، کاروباری نقطۂ نظر نہیں تھا۔

6۔ 5 سال کی قیمتوں کا واضح تعین کوئی نہیں ہے، خسارہ ہی تھا دونوں پارٹیوں کا۔ براہ مہربانی اس معاملے میں وضاحت و رہنمائی عطا کریں۔

جنہوں نے قسطیں جمع کروائیں ہیں وہ ان جمع شدہ قسطوں پر زکوٰۃ دیں گے۔ زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے کہ نہیں؟

ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کہ قسطیں جمع کروائیں دوسری صورت میں فائل بیچتے تو آدھی سے بھی کم رقم جمع شدہ کی ملنی تھی، جنہوں نے قسطیں جمع کروائیں شروع میں نیت یہ تھی کہ جیسے ہی قیمت بڑھتی ہے وہ پلاٹ بیچ کر پیسہ لے لیں گے مگر فائدہ کوئی نہیں تھا اور 5 سال تک ان کی کوئی ویلیو نہیں تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کا ارادہ اس پلاٹ کو آگے فروخت کرنے کا تھا اس لیے آپ کے ذمے اس پلاٹ کی زکوٰۃ آئے گی۔

2۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہو گا کہ ہر سال اس پلاٹ کی جو مارکیٹ ویلیو رہی ہو معلوم کریں اور جو قسطیں باقی ماندہ تھیں انہیں منہا کریں اور باقی رقم کی اڑھائی فیصد کے لحاظ سے زکوٰۃ ادا کریں (بشرطیلہ باقی ماندہ قسطیں منہا کرنے کے بعد پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر رہے)

3۔ اس میں کوئی قابل سوال بات نہیں۔

4۔ اس کی تفصیل نمبر 2 کے تحت بیان ہو چکی۔

5-6۔ ان میں بھی کوئی قابل سوال بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved