• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

روزے کی حالت میں مسوڑھوں سے خون نکل کر پیٹ میں جانے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دانتوں سے ہر وقت خون آتا رہتا ہے خاص کر جب سو کر اٹھتا ہوں اور خون تھوک میں غالب ہوتا ہے اور دوپہر کو سونے میں بھی ایسی حالت ہوتی ہے۔ کیا اس سے میرے روزوں پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ اگر پڑے گا تو اس کا کیا حکم ہے؟ کئی طریقے سے علاج کروا لیا ہے خاص افاقہ نہیں ہوا۔ خون کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اصل ضابطہ تو یہ ہے کہ جب خون تھوک میں غالب ہو یا مساوی ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور روزہ کی قضاء لازم ہو گی کفارہ نہیں ہو گا۔ اور اگر تھوک غالب ہو خون پر اور خون قلیل مقدار میں ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ہاں اگرخون کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور صرف قضاء لازم ہو گی۔

في الدر المختار (3/ 422):

(أو خرج الدم من بين أسنانه و دخل حلقه) يعني و لم يصل إلى جوفه، أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد و إلا لا إلا إذا وجد طعمه.

’’سوال: زید کا دماغ یا پھیپھڑا یا مسوڑھوں کے پھول جانے یا  دانتوں کے ہلنے کے سبب منہ کے راہ خون آتا رہتا ہے، یہاں تک کہ سانس کے ذریعے فرو حلق بھی جاگتے سوتے ہوتا ہے، ایسی حالت میں اگر زید روزے رکھے تو اس کا روزہ ادا ہو گا یا نہیں، اگر روزہ اس کا اس سبب سے نہیں ادا ہوتا ہے تو بدلے ان روزوں کے زید کو شرعاً کیا کرنا چاہیے؟

الجواب: جس شخص کے دانتوں میں سے اکثر خون آتا رہتا ہو اور بلا اختیار جاگتی ہوئے یا سوتے ہوئے حلق میں داخل ہو جائے اس کا حکم کسی جگہ صریح نہیں ملا، مگر علامہ شامی رحمہ اللہ نے اتنا لکھا ہے کہ: ’’و من هذا يعلم حكم من قلع ضرسه في رمضان و دخل الدم إلى جوفه في النهار و لو قائماً فيجب عليه القضاء إلا أن يفرق بعدم إمكان التحرز عنه فيكون كالقيء الذي عاد بنفسه فليراجع.‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے روزہ کو صحیح کہنے کی گنجائش ہے، اور اگر شامی رحمہ اللہ کی عبارت ذیل پر نظر کی جائے تو اور بھی زیادہ گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ ’’(قوله و لم يصل إلى جوفه) ظاهر إطلاق المتن أنه لا يفطر و إن كا الدم غالباً على الريق و صححه في الوجيز كما في السراج و قال وجهه أنه لا يمكن الاحتراز عنه عادتاً فصار بمنزلة ما بين أسنانه إلخ‘‘ پس صاحبِ وجیز بدون مرض بھی دم خارج من بین الاسنان کو غیر ممکن الاحتراز قرار دے کر موجب فساد نہیں دیتے، تو حالت مذکورہ فی السوال میں تو بدرجہ اولیٰ دخول دم فی الجوف کو غیر مفسد کہیں گے، جس میں احتراز کا عدم امکان مسلم ہے، و اللہ اعلم

ہدایت ضروری: چونکہ یہ مسئلہ قیاس سے لکھا گیا ہے اس واسطے دوسرے علماء کو دکھا لینا ضروری ہے۔‘‘

اور فتاویٰ دار العلوم دیوبند (6/ 259) میں ہے:

’’سوال: رمضان میں دانتوں سے خون نکلتا ہے تھوک نگلنے کے بعد ذائقہ معلوم ہوا بعد کو جو تھوکا تو خون غالب تھا۔ اس صورت میں روزہ ٹوٹا یا نہیں؟

الجواب: 1۔ اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹا۔

2۔ (أو خرج الدم من بين أسنانه و دخل حلقه) يعني و لم يصل إلى جوفه، أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد و إلا لا. در مختار

اس  علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

ظاهر إطلاق المتن أنه لا يفطر و إن كا الدم غالباً على الريق و صححه في الوجيز.. إلخ…

الحاصل بعض فقہاء نے اس میں عدم فساد روزہ کو صحیح کہا ہے اور اکثر نے فساد روزہ کا حکم کیا ہے۔ لہذا اس میں احتیاط رکھیں۔‘‘

احسن الفتاویٰ (4/ 447) میں ہے:

’’سوال: میرے مسوڑھوں سے خون نکلتا ہے، آجکل روزوں میں دوپہر کے بعد خون بہت جاری رہتا ہے، یہ کیفیت بالخصوص سونے کی حالت میں ہوتی ہے، خون تھوک پر غالب رہتا ہے، جاگنے کی صورت میں تو احتیاط برتتا ہوں، لیکن سونے کی حالت میں غفلت میں تھوک حلق کے نیچے اتر جاتا ہے، اب تک رمضان میں ایسا دو مرتبہ ہوا ہے، میرا روزہ ہوا یا قضا روزہ رکھنا ہو گا؟ آجکل نیند رات کو نہیں ہوتی، دن کو اگر نہ سوؤں تو رات کو عبادت میں خلل ہو گا اور نوکری کرنا بھی محال ہو گا۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب: اگر صرف حلق میں گیا مگر پیٹ میں نہیں پہنچا تو روزہ نہیں ٹوٹا، او ر خون مغلوب ہو، یعنی تھوک کا رنگ سرخ کی بجائے زرد ہو تو پیٹ میں جانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ خون مغلوب ہونے کے باوجود حلق میں اس کا مزہ محسوس ہو تو پیٹ میں جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، اسی طرح خون غالب ہو یعنی تھوک سرخ ہو تو پیٹ میں جانے سے روزہ جاتا رہے گا اگرچہ مزہ محسوس نہ ہو، جن صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے ان میں اگر سونے کی حالت میں یا اور کسی عذر سے خون بلا اختیار پیٹ میں اتر جاتا ہو تو عدم فساد کے قول کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، کذا فی الشامیۃ مع ہذا بہتر یہ ہے کہ اگر مستقل قریب میں صحت متوقع ہو تو روزہ نہ رکھیں بعد میں قضاء کریں اور اگر روزہ کی حالت میں غیر اختیاری طور پر خون پیٹ میں چلا گیا تو صحت کے بعد احتیاطاً اس روزہ کی قضاء کریں۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

 

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved