• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

سیکورٹی، گروی، پگڑی پر زکوٰۃ کا حکم

استفتاء

کرایہ پر لی گئی چیزوں کے مقابلے میں ہمارے معاشرے میں تین  قسم کے رقوم دینے کا رواج ہے:

1۔ سیکورٹی: جو تقریباً ایک آدھ کرایہ کے برابر ہوتی ہے۔

2۔ گروی: بڑی رقم جس کے عوض مکان مفت یا معمول معاوضے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

3۔ پگڑی: یہ دکانوں میں ہوتی ہے۔ جس کے دینے کے بعد دائمی حق حاصل ہو جاتا ہے۔

پہلی دونوں رقوم کی واپسی ضابے کی رُو سے طے ہوتی ہے جبکہ پگڑی کی واپسی رقم کی صورت میں نہیں ہوتی بلکہ دکان کی مطلوبہ وقت کی ویلیو کے حساب سے ہوتی ہے۔ اور پگڑی پر لی ہوئی چیز مالک دکان کے علاوہ پگڑی ہولڈر کسی اور کو بھی فروخت کر سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا رقوم پر زکوٰۃ فرض ہو گی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پگڑی کا معاملہ کرنا اگرچہ جائز نہیں تاہم عرف کے اعتبار سے اس رقم کا واپس آنا متصور نہیں اس لیے یہ دین/ قرض کی قبیل سے نہ ہو گا۔ اور اس پر زکوٰۃ لاگو نہ ہو گی۔

گروی میں اگرچہ یکمشت رقم کی حیثیت قرض کی ہے مگر عملاً اس پر مالک کا ید تصرف موجود نہیں اس لیے اس پر ملک ہونے کے باوجود ید تصرف نہ ہونے کی وجہ سے ۔۔۔۔ زکوٰۃ واجب نہیں۔

سیکورٹی کی رقم بھی یہی حکم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved