• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

سید کو مستحق زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ دینے کا حکم

محترم مفتی صاحب!

میرے چچا گذشتہ 25 سال سے اپنی زکوٰۃ کی رقم غریبوں کو دینے کے لیے میرے والد صاحب کو دے رہے ہیں۔ میرے والد صاحب بغیر کسی سے پوچھے گذشتہ 25 سال سے وہ رقم ایک غریب سید گھرانے کو دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چچا کی زکوٰۃ ادا ہو گئی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر ہے والد صاحب پر یا چچا پر؟

وضاحت: میرے والد صاحب کو یہ تو پتہ تھا کہ یہ لوگ سید ہیں لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ ان لوگوں کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

گذشتہ کے بارے میں اللہ سے قبولیت کی امید رکھیں اور آئندہ اس کا بات اہتمام کریں کہ سید کو زکوٰۃ نہ دیں کیونکہ سید زکوٰۃ کا محل نہیں ہیں۔

فتاویٰ شامی (3/350) میں ہے:

ولا إلى بني هاشم … ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع. وقال الشامي تحت قوله: (إطلاق المنع الخ) يعني سواء في ذلك كل الازمان وسواء في ذلك دفع بعضهم لبعض ودفع غيرهم لهم. وروى أبو عصمة عن الامام أنه يجوز الدفع إلى بني هاشم في زمانه، لان عوضها وهو خمس الخمس لم يصل إليهم لاهمال الناس أمر الغنائم وإيصالها إلى مستحقيها. وإذا لم يصل إليهم العوض عادوا إلى المعوض كذا في البحر.

بحر الرائق (2/421) میں ہے:

وأطلق الحكم في بني هاشم ، ولم يقيده بزمان ، ولا بشخص للإشارة إلى رد رواية أبي عصمة عن الإمام أنه يجوز الدفع إلى بني هاشم في زمانه ؛ لأن عوضها ، وهو خمس الخمس لم يصل إليها لإهمال الناس أمر الغنائم وإيصالها إلى مستحقها وإذا لم يصل إليهم العوض عادوا إلى المعوض وللإشارة إلى رد الرواية بأن الهاشمي يجوز له أن يدفع زكاته إلى هاشمي مثله ؛ لأن ظاهر الرواية المنع مطلقاً

…………………………………………………………………………. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved