مزید فتاوی


جامعہ کا تعارف

جامعہ دارالتقویٰ نصف صدی سے تشنگان علوم نبویہ کی علمی پیاس بجھانے میں مصروف ہے ۔ 1967ء سے قائم اس عظیم درسگاہ کی بنیاد حاجی گلزار محمد صاحب رحمہ اللہ کے ہاتھوں جس اخلاص اور للٰہیت سے رکھی گئی اس کی برکت سے اس پودے نے مختصر وقت میں تنا ور درخت کی صورت اختیار کر لی اور اسے ایسا شرف قبولیت عطا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم دینی درسگاہ کے طور پر علمی حلقوں میں مقام بلند پر جا پہنچا ۔ تشنگان علوم نبویہ اس چشمئہ علم و عرفان کی طرف ایسے کھچے چلے آئے کہ آج الحمدللہ لاہور ، کراچی ، مری ، قصور اور شیخوپورہ جیسے شہروں میں جامعہ کی تقریباَ 20 شاخوں میں 8000 سے زائد طلبہ و طالبات اکتساب فیض کر رہے ہیں ۔ جامعہ روز اول سے ہی تبلیغی وتربیتی بنیادوں پر قائم ہے اور ادارے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اصلاح و تربیت کا بھر پور اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کے لیے باقاعدہ تبلیغی اعمال کی ترتیب اور وقتا فوقتا اکا بر علماء کرام کے اصلاحی بیانات جامعہ کی خصوصیات میں شامل ہیں ۔
مزید پڑھیں
دارالافتاء و التحقیق

دیگر شعبہ جات کی ضرورت و اہمیت کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی شرعی حوالے سے منظم اور باضابطہ راہنمائی کے لیے ’’دار الافتاء‘‘ کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ 2004 ء بمطابق شوال ۱۴۲۵ھ میں دار الافتاء کا قیام عمل میں لایا گیا۔
دیگر شعبہ جات کی ضرورت و اہمیت کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی شرعی حوالے سے منظم اور باضابطہ راہنمائی کے لیے ’’دار الافتاء‘‘ کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ 2004 ء بمطابق شوال ۱۴۲۵ھ میں دار الافتاء کا قیام عمل میں لایا گیا۔
تازہ ترین دارالافتاء سے
- (1)موسم سرما میں نمازِ ظہر کی تعجیل اور تاخیر کی حد (2) نماز ظہر کو بالکل آخری وقت میں پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے یا نہیں؟
- حدیث ” اے ابنِ آدم! دن کے آغاز میں چار رکعتوں (نماز) کے بارے میں مجھ سے عاجز نہ ہو” میں چار کعتوں سے کونسی چار رکعت مراد ہے؟
- وضو کرنے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں
- رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی منت مانی اب تبلیغی جماعت میں روانہ ہونے کی صورت میں اعتکاف کا کیا حکم ہوگا؟
- ” تسبیحات کے بھول کر چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا” کا حوالہ









