• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمیٹی ڈالنے کا حکم اور کمیٹی میں تاخیر ہوجانے کی صورت میں جرمانے کا حکم

استفتاء

1۔  شریعت میں مختلف لوگوں سے رقم جمع کرنا یعنی بی  سی(کمیٹی)  ڈالنا جائز ہے یا حرام ؟

2۔بی سی کی ایک دو یا تین قسطیں بھر کر زائد رقم لینا جائز ہے یا حرام ؟

3۔ بی سی کی رقم لیٹ ہو جانے کی صورت میں جو  جُرمانہ لگتا ہے سود ہے یا جائز ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: ایک دو قسطیں بھر کر زائد رقم لینے کی کیا صورت ہوتی ہے بیان کریں۔

جواب وضاحت: دو یا تین قسطیں بھر کر کمیٹی نکلنے پر  پوری رقم لینا اور اس کو استعمال کر لینا جائز ہے ؟ باقی رہ جانے والی رقم کیا قرضہ ہوگا   جو بعد میں دینا ہوگا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔کمیٹی ڈالنا شرعاً جائز ہے ۔

2۔کمیٹی کی ایک دو یا تین قسطیں ادا کر کے اگر کمیٹی نکل آئے  تو پوری کمیٹی لینا جائز ہے اور باقی رقم قرض شمار ہوگی۔

3۔کمیٹی کی رقم لیٹ جمع کرانے کی صورت میں کوئی جرمانہ وغیرہ لگانا شرعا ناجائز اور  سود ہے۔

شامی (9/436) میں ہے:

وصح القرض في مثلي لا في غيره.

آپ کے مسائل اور ان کا حل (6/262) میں ہے:

کمیٹی ڈالنے کی جو عام شکل ہے  کہ چند آدمی رقم جمع کرتے ہیں اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعہ وہ رقم کسی ایک کو دی جاتی ہے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے جبکہ باری باری سب کو انکی رقم واپس مل جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved