- فتوی نمبر: 26-63
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
بھائی زید کا مکان فروخت ہونے کے لیے بھائی خالد کے پاس آیا ،خالد نے اس کے لیے ایک گاہک تلاش کیا جن کا نام عمر ہے ۔ خالد نے زید اور عمر کے مابین معاملہ طے کرايا اور خالد سے کہا گیا کہ جو محنت آپ کررہے ہیں اس کا معاوضہ آپ کو ملے گا ۔زید کے ساتھ خالد کا 2 لاکھ طے ہو اجبکہ عمر کے ساتھ ایک لاکھ طے ہو ا۔ اس موقع پر تحریر بھی لکھی گئی اور عمر نے دس لاکھ روپے زید کو ادا کردیے جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ بھی طے ہوگئی ۔ جب بقیہ رقم کی ادائیگی کا وقت آیا اور رقم کی ادائیگی کے لیے زمین کے کاغذات منگوائے گئے تو ان میں کچھ خرابی نکلی ،اس خرابی کو دور کرنے کے لیے کافی تگ و دو کی گئی مگر تاحال کامیابی نہیں ہوئی ۔
اس دوران عمر نے وہ مکان آگے فروخت کرنے کی کوشش کی ،جب زید کو اس بات کا علم ہواتو انہوں نے جگہ فروخت کرنےسے انکار کردیا جبکہ وصول شدہ 10 لاکھ روپے عمر کو واپس کرکے سابقہ سودا ختم کردیا ۔
خالد نے اپنی طے شدہ رقم میں سے عمر سے ایک لاکھ مکمل وصول کرلی تھی ۔اب عمر صاحب وہ ایک لاکھ روپے واپس کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں کیا (1)ان کا یہ مطالبہ درست ہے؟ جبکہ جس معاملے کے طے کرنے کے لیے رقم وصول کی تھی وہ مكمل ہو چکا ہے ۔ خالد کے زید سےجو دو لاکھ روپے طے ہوئے تھے ان میں سے 50ہزار خالد وصول کرچکےہیں جبکہ 1لاکھ 50ہزار باقی ہیں ، سوال یہ ہے کہ (2)کیا خالد بقیہ ڈیڑھ لاکھ کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2-1:مذکورہ صورت میں چونکہ خالد نے فریقین کے مابین معاملہ مکمل کروا دیا تھا ،جس کی دلیل یہ ہے کہ بائع قیمت کا ایک حصہ وصول کرچکا ہے اور ایک فریق نے مکمل جبکہ دوسرے فریق نے کمیشن کا ایک حصہ بھی ادا کردیا ہے، بعد میں اگرفریقین نے سودا ختم کردیا تو یہ ان کی صوابدید ہے، اس سے سابقہ سودے پر اثر نہیں پڑتا، لہذا خالد وصول شدہ رقم کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہیں اور بقیہ رقم لینے کے حق دار ہیں۔
نوٹ: یہ جواب ایک فریق کے بیان کے مطابق دیا گیا ہے اگر دوسرے فریق کا بیان اس سے مختلف ہوا تو مذکورہ جواب کالعدم ہو گا ۔
شرح المجلۃ (2/679)میں ہے:
لو خرج مستحق بعد اخذ الدلال اجرته وضبط المبيع او رد بعيب لا تسترد اجرة الدلال
قال في الخانية :الدلا ل في البيع اذا اخذ دلاليته بعد البيع ثم انفسخ بينهما بسبب من الاسباب ،سلمت له الدلالية ،لان الاجر عوض مقابل بالعمل وقد تم العمل فلا يرجع عليه بالاجرة وهو الدلالية
فتاوٰی ہندیہ (7/483)میں ہے :
«الدلال في البيع إذا أخذ الدلالة بعد البيع ثم انفسخ البيع بينهما بسبب من الأسباب سلمت له الدلالة كالخياط إذا خاط الثوب ثم فتقه صاحب الثوب. كذا في خزانة المفتين»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved