- فتوی نمبر: 32-377
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > سیر و مناقب اور تاریخ
استفتاء
جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ اکثر ایک بوڑھی نابینا خاتون کے گھر جاکر اس کی خدمت کیا کرتے تھے وہ بغیر اس بات کا اعلان کئے یا کسی کو بتائے روزانہ اس کا گھر صاف کرتے ، کھانا تیار کرتے اور دیگر ضروری کام انجام دیتے تھے۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک مخصوص سمت میں اکثر جاتے ہیں تو انہوں نے ایک دن ان کا پیچھا کیا۔جب حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ خاتون کے گھرسے نکلے ،توحضرت عمر اندر گئے اور بوڑھی خاتون سے پوچھا کہ یہ آدمی یہاں کیا کرنے آتا ہے ؟خاتون نے جواب دیا کہ یہ شخص روزانہ آکر میری صفائی کرتا ہے، میرے لئے کھانا تیار کرتا ہے اور دیگر گھریلو کام انجام دیتا ہے ۔
اس واقعہ کی تفصیل اور اس کی سند کے حوالے سے کچھ تحقیق ارسال فرمادیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تفصیل تو تقریبا وہی ہے جو سوال میں مذکور ہے باقی رہی سند کی بات ؟ تو اگرچہ اس کی سند میں بعض راویوں پر کچھ کلام ہے لیکن یہ کلام ایسا نہیں جس کی وجہ سے اس سند کو غیر معتبر کہا جائے ۔خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ قابلِ اعتبار سند سے ثابت ہے ۔
تاریخ ِ دمشق (30/332)لابن عساکر ؒ (متوفی 571ھ) میں ہے:
أخبرنا أبو القاسم الواسطي أنا أبو بكر الخطيب حدثني الحسن بن علي بن محمد الواعظ نا أبو نصر إسحاق بن أحمد بن شبيب البخاري نا أبو الحسن نصر بن أحمد بن إسماعيل بن سائح بن قوامة ببخارا أنا جبريل بن مجاع الكمشاني بها نا قتيبة نا رشدين عن الحجاج بن شداد المرادي عن أبي صالح الغفاري أن عمر بن الخطاب كان يتعاهد عجوزا كبيرة عمياء في بعض حواشي المدينة من الليل فيستقي لها ويقوم بأمرها فكان إذا جاءها وجد غيره قد سبقه إليها فأصلح ما أرادت فجاءها غير مرة كيلا يسبق إليها فرصده عمر فإذا هو بأبي بكر الصديق الذي يأتيها وهو يومئذ خليفة فقال عمر أنت هو لعمري .
الکامل فی التاریخ (2/422)لابن الاثیرالجزریؒ (متوفی630ھ) میں ہے :
ولما توفّي أبو بكر جمع عمر الأمناء وفتح بيت المال فلم يجدوا فيه شيئا غير دينار سقط من غرارة، فترحّموا عليه. قال أبو صالح الغفاريّ: كان عمر يتعهّد امرأة عمياء في المدينة باللّيل فيقوم بأمرها فكان إذا جاءها وجد غيره قد سبقه إليها ففعل ما أرادت، فرصده عمر فإذا هو أبو بكر كان يأتيها ويقضي أشغالها سرّا وهو خليفة، فقال له: أنت هو لعمري!
تاریخ الخلفاء (ص65)للسیوطیؒ (متوفی911ھ) میں ہے :
وأخرج ابن عساكر عن أبي صالح الغفاري: أن عمر بن الخطاب كان يتعهد عجوزًا كبيرة عمياء في بعض حواشي المدينة من الليل، فيسقي لها ويقوم بأمرها، فكان إذا جاءها وجد غيره قد سبقه إليها فأصلح ما أرادت، فجاءها غير مرة كيلا يسبق إليها، فرصده عمر، فإذا هو بأبي بكر الذي يأتيها، وهو يومئذ خليفة، فقال عمر: أنت هو لعمري.
الطبقات الکبری لابن سعد (7/321) میں ہے:
رشدين بن سعد القيني. وهو رشدين بن أبي رشدين. وكان ضعيفًا. ومات سنة ثمان وثمانين ومائة في خلافة هارون.
الضعفاء و المتروکین(ص74) للنسائی میں ہے :
رشدين بن سعد مصري مَتْرُوك الحَدِيث
المجروحین(1/303) لابن حبان میں ہے :
رشدين بن سعد المهري من أهل مصر كنيته أبو الحجاج قال ابن عدي : هو مع ضعفه ممن يكتبه حديثه و روي عن أحمد بن حنبل أنه قال فيه أرجو أنه صالح الحديث يروي عن عقيل و يونس روى عنه ابن المبارك و ابن وهب مات سنة ثمان و ثمانين و مائة كان ممن يجيب في كل مايسأل يقرأ كل مايدفع إليه سواء كان ذلك حديثه منه أو من غير حديثه و يقلب المناكير في أخباره على مستقيم حديثه .
تاريخ اسماء الثقات (1/130) لابن شاہینؒ(متوفی385ھ) میں ہے :
نا عبدالله بن محمد البغوي قال سمعت أحمد بن حنبل يقول رشدين : أرجو أن يكون ثقة أو صالح الحديث و في رواية أخرى عنه في رشدين بن سعد المصري . رشدين من أوثق الناس في الحديث و كان يقول إن رشدين بن سعد مستجاب الدعوة و ذكر أحمد بن محمد بن رشدين قال حدثني مهدي بن جعفر قال كتب عني أحمد بن حنبل كتاب جدي رشدين بن سعد على الوجه تنتجه أنت ، ما أشبه عينيك بعيني جدك و كنا إذا نظرنا إليه قال غضوا عني أبصاركم.
تہذیب التہذیب (2/202)لابن حجرؒ (متوفی852ھ)میں ہے :
حجاج بن شداد الصنعاني يعد في المصريين روى عن أبي صالح سعيد بن عبد الرحمن الغفاري روى عنه حيوة بن شريح وابن لهيعة ويحيى بن أزهر البصريون روى له أبو داود حديثا واحدا في الصلاة ببابل. قلت: وذكره بن حبان في الثقات وقال إنه من صنعاء الشام وقال بن القطان لا يعرف حاله.
تقریب التہذیب (1/223) لابن حجرؒ (متوفی852ھ)
حجاج بن شداد الصنعاني نزيل مصر مقبول من السابعة د
حیاۃ الصحابہ (2/109)(مترجم) میں ہے :
حضرت ابو صالح غفاریؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے خدمت کے لئے مدینہ کے کنارے میں رہنے والی ایک نابیناعمر رسیدہ بڑھیا تلاش کی تاکہ رات کو اس کا پانی بھر دیا کریں اور اس کے کام کاج کردیا کریں ۔لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے ہاں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی ان سے پہلے آکر خدمت کے سارے کام بڑھیا کے حسب منشا کرچکا ہے ۔حضرت عمرؓنے کئی مرتبہ کوشش کی لیکن اس آدمی سے پہلے نہ آسکے ۔وہی پہلے آکر تمام کام کرجاتا ۔آخر اس کا پتہ چلانے کے لئےحضرت عمرؓراستہ میں کھات لگا کر بیٹھ گئے ۔تھوڑی دیر میں دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ (اس بڑھیا کی خدمت کرنے)آرہے ہیں اور یہی وہ صاحب ہیں جو حضرت عمرؓ سے پہلے آکر خدمت کررہے تھے ۔حالانکہ وہ خلیفہ وقت تھے انہیں دیکھ کر حضر ت عمرؓ نے کہا میری عمر کی قسم ! آپ ہیں ۔(جومجھ سے بھی پہلے آکراس بڑھیا کی خدمت کررہے تھے)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved