• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

امام نے مغرب کی پانچ رکعات پڑھادیں اور پانچویں رکعت میں ایک شخص نے امام کی اقتداء کی تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

امام نے مغرب کی نماز تین رکعت کی بجائے پانچ رکعت پڑھا دیں اور پھر سجدہ سہو کر لیا لیکن کچھ نمازی پانچویں رکعت میں شامل ہوئے انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ امام نے پانچ رکعت پڑھی ہیں تو  وہ اپنی تین رکعات پوری کریں گے یا پانچ پڑھیں گے؟اگر تین پڑھیں گے تو کیا جو ایک رکعت انہوں نے امام کے ساتھ پڑھی ہے وہ تو نفل تھی وہ نمازی کیا کریں؟

سوال مقتدی کی نماز کے متعلق ہے جو امام کے ساتھ پانچویں رکعت میں شامل ہوا وہ کیا کرے کہ وہ مزید دو رکعت پڑھے یا تین پڑھے یا پانچ پڑھے؟

وضاحت مطلوب ہے: جب مقتدی کو معلوم ہی نہیں کہ امام پانچویں رکعت میں ہے تو یہ سوال کیسے پیدا ہوا کہ مقتدی پانچ رکعت پڑھے یا تین؟

جواب وضاحت: میں عالم ہوں اور کچھ دن پہلے مجھے مسجد میں ایک ساتھی نے پوچھا تھا جو کہ خود اس کو پیش آیا تھا کہ مغرب کی نماز میں امام صاحب تیسری رکعت پر تشہد کرنے کے بعد غلطی سے پھر کھڑے ہو گئے اور پھر دو رکعت پڑھا کر سجدہ سہو کیا تو اس کا کیا حکم ہے ؟

میں نے کہا نماز ہو گئی اور آخری دو رکعت نفل ہوں گی۔پھر اس نے کہا بعض مقتدیوں کی دو رکعت رہ گئی تھی انہوں نے کہا ہماری تین پوری ہو گئی ہیں اور بعض کی ایک رہ گئی تھی ان کے لیے کیا حکم ہے؟جن کی دو رکعت رہ گئی تھی اور امام صاحب کے پانچ رکعت پڑھنے کی وجہ سے تین پوری ہو گئی تو امام کی نفل تھی اور مقتدیوں کی فرض کیسے ہو گئی؟یا وہ اپنی دو رکعت پھر بھی امام کے سلام کے بعد پڑھیں گے؟

البتہ یہ بات کس مقتدی کو کیسے پتہ چلی کہ امام نے پانچ رکعت پڑھائی ہیں تو ایک تو خود ان صاحب کو پیش آیا ہوا واقعہ ہے

دوسری اس کی صورت ایسے ہے جیسے کوئی مسجد میں داخل ہوا تو اقامت شروع ہو گئی اور مسجد میں داخل ہونے والا شخص استنجا وضو کرنے لگا اور استنجاء خانہ اور وضو کی جگہ امام کی آواز سن رہا تھا جس سے اس کو پتہ چل رہا تھا کہ کتنی رکعت ہو گئی ہیں۔ یا مسجد میں داخل ہوا تو نماز شروع ہوئی اور وضو کرنے کے بعد آیا تو امام صاحب خاموش تھے جس سے اس کو پتہ چل گیا کہ اب تیسری رکعت چل رہی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جو مقتدی پانچویں رکعت میں شامل ہوا ہے اس کی نماز درست نہیں چاہے وہ مزید دو رکعت پڑھے یا تین پڑھے یا پانچ پڑھے اور جو مقتدی امام کی دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہوئے تھے انہیں چاہیے تھا کہ وہ امام کے چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد امام کے واپس لوٹنے کا انتظار کرتے اور جب امام واپس نہیں لوٹا تو وہ اٹھ کر اپنی بقیہ نماز پوری کرتے اور امام کی اقتداء نہ کرتے لیکن جب انہوں نے امام کی اقتداء کر لی تو ان کی نماز بھی فاسد ہو گئی۔

توجیہ : چونکہ امام پانچویں رکعت میں ہے جو امام کے حق میں نفل ہے اور جو مقتدی پانچویں رکعت میں شامل ہوا ہے وہ فرض نماز میں ہے اور فرض نماز پڑھنے والے کی اقتداء نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں، اسی طرح جو مقتدی ایک یا دو رکعت کے مسبوق تھے ان کی نماز بھی فاسد ہو گئی کیونکہ انہوں نے ایسے موقع پر امام کی اقتدا کی جو اقتدا کا موقع نہیں تھا بلکہ امام سے الگ اکیلے اپنی نماز پوری کرنے کا موقع تھا اس لیے ان کی نماز بھی نہیں ہوئی۔البتہ جن کو بعد میں بھی کسی طرح یہ علم نہیں ہوا کہ امام کے ساتھ مذکورہ صورتحال پیش آئی ہے تو ان کی نماز ہو گئی لیکن اگر زندگی میں کبھی بھی انہیں مذکورہ صورتحال کا علم ہو گیا تو انہیں یہ نماز لوٹانی پڑے گی۔

ہدایہ (1/204) میں ہے:

ولا يصلي المفترض خلف المتنفل لان الاقتداء بناء ووصف الفرضية معدوم في حق الامام فلا يتحقق البناء على المعدوم

شامى (2/664) میں ہے:

(ولو سها عن القعود الاخيرة)كله أو بعضه (عاد)…..( ما لم يقيدها بسجدة)…. (وان قيدها)…. (تحول فرضه نفلا برفعه)…. (وضم  سادسة)ولو في العصر والفجر (ان شاء)…. (ولا يسجد للسهو على الاصح)….(وان قعد في الرابعة)مثلا قدر التشهد(ثم قام عاد وسلم)ولو سلم قائما صح ثم الاصح ان القوم ينتظرونه فان عاد تبعوه( وان سجد للخامسة سلموا)….( وضم اليها سادسة)لو في العصر،وخامسة في المغرب،ورابعة في الفجر،به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا)…. وسجد للسهو)

وفي الشاميه: تنبيه: لم يصرح بالمغرب كما صرح بالفجر والعصر مع انه صرح به القهستانى ومقتضاه انه يضم الى الرابعة خامسة

شامی (2/669) میں ہے:

[تتمة] ‌لو ‌اقتدى ‌به مفترض في قيام الخامسة بعد القعود قدر التشهد لم يصح ولو عاد إلى القعدة لأنه لما قام إلى الخامسة فقد شرع في النفل فكان اقتداء المفترض بالمتنفل ولو لم يقعد قدر التشهد صح الاقتداء لأنه لم يخرج من الفرض

الدر المختار مع ردالمحتار (1/422) میں ہے:

ولو ‌قام ‌إمامه لخامسة فتابعه، إن بعد القعود تفسد

(قوله أن بعد القعود) أي قعود الإمام القعدة الأخيرة (قوله تفسد) أي صلاة المسبوق لأنه اقتداء في موضع الانفراد ولأن اقتداء المسبوق بغيره مفسد كما مر (قوله وإلا) أي وإن لم يقعد وتابعه المسبوق لا تفسد صلاته لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض ولعدم تمام الصلاة فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلا، فإن ضم إليها سادسة ينبغي للمسبوق أن يتابعه ثم يقضي ما سبق به وتكون له نافلة كالإمام، ولا قضاء عليه لو أفسده لأنه لم يشرع فيه قصدا رحمتي

احسن الفتاوى (4/46) میں ہے:

سوال: عصر کی نماز میں امام آخری قعدہ میں بیٹھا پیچھے سے ایک مقتدی نے لقمہ دیا” الله اكبر “جب کہ وہ چوتھی رکعت ہی تھی امام نے ایک طرف سلام پھیرا تو اسی مقتدی نے دوبارہ  “اللہ اکبر ” کہا اب امام کو شک ہو گیا اور وہ پانچویں رکعت میں کھڑا ہوگیا پانچویں رکعت پر امام نے سجدہ سہو کیا اور سلام پھیرا کیا ایسی صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ہو گئی یا دوبارہ پڑھیں؟

جواب: امام اور مقتدیوں کی نماز صحیح ہوگئی البتہ مسبوق کی نماز نہیں ہوئی( للاقتداء في موضع الانفراد)اگر مسبوق  امام کی پانچویں رکعت میں اس کی اقتدا نہ کرتا بلکہ امام سے الگ ہو کر اپنی گئی نماز پوری کرتا تو اس کی نماز بھی صحیح ہو جاتی۔

فتاوی دار العلوم دیوبند(4/465) میں ہے:

سوال:زید دو رکعت میں آکر امام کے ساتھ مل گیا امام آخری قعدہ کر کے سہوا کھڑا ہو گیا اور مقتدی نے لقمہ دیا لیکن امام نے لقمہ نہیں لیا اب زید کو امام کی تقلید و اقتدا کرنی چاہیے ؟

جواب: نہیں پڑھے(یعنی مسبوق امام کی اقتدا نہ کریں ورنہ اس کی نماز فاسد ہو جائے گی بلکہ مسبوق اپنی باقی نماز پڑھے )

فتاوی رحیمیہ (5/107) میں ہے:

سوال: میں نے ایک دن فجر کی نماز پڑھائی بعد میں معلوم ہوا کہ میں جنبی تھا اور مجھے غسل کی ضرورت تھی تو میری اور مقتدیوں کی نماز ہوئی یا نہیں؟مجھے اس وقت یہ بھی یاد نہیں کہ اس دن کون کون مصلی تھے میں پریشان ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب: صورت مسئولہ میں امام اور مقتدیوں کی نماز نہیں ہوئی۔دوبارہ پڑھنا ضروری ہے امام کو چاہیے کہ مقتدیوں کو تنہا تنہا خبر کر دے یا نماز کے وقت اعلان کر دے کہ فلاں دن فجر کی نماز میں جو جو حضرات تھے وہ اپنی نماز کا اعادہ کر لیں جن مقتدیوں کو اس کی اطلاع نہ ہو سکے وہ معذور ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved