- فتوی نمبر: 35-362
- تاریخ: 13 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
مفتی صاحب ہمارے ہاں یہ رواج چل پڑا ہے کہ لوگ اپناپرانا ٹریکٹر دیتے ہیں اور بدلے میں نیا وصول کرتے ہیں کبھی کمپنی اور ماڈل ایک ہوتا ہے اور کبھی کمپنی تو ایک ہوتی ہے لیکن ماڈل کا فرق ہوتا ہے کیا یہ جائز ہے؟ سود تو نہیں ہے؟
الجواب: جائز ہے۔[غیررسمی]
سوال بعد از جواب: مفتی صاحب پرانے ٹریکڑ کے بدلے میں کچھ مدت بعد نیا ٹریکٹر دیا جاتا ہے تو کیا دونوں ایک ہی جنس شمار نہیں ہوں گے اور قدر کے اعتبار سے دونوں عددی ہیں تو کیا ان میں ادھار جائز ہے؟
تنقیح: بعض اوقات نیا ٹریکٹر لینے کے لیے پرانے ٹریکٹر کے ساتھ کچھ پیسے بھی دینے پڑتے ہیں اور بعض دفعہ نہیں، اس میں عام طور پر مدت زیادہ ہوتی ہے مثلا نیا ٹریکٹر چھ ماہ بعد ملتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سود کے معاملے میں قدر سے مراد وزنی یا کیلی ہونا ہے، عددی ہونا نہیں، لہذا عددی ہونے سے ادھار پر کچھ فرق نہ پڑے گا۔ باقی رہی جنس کی بات؟ تو اگرچہ جنس کے ایک ہونے سے ادھار پر فرق پڑتا ہے لیکن اول تو سوال میں ادھار کا تذکرہ نہیں تھا اور دوسرے جب ماڈل یا کمپنی ایک نہ ہو تو اتحاد فی الجنس بھی نہیں۔ البتہ کمپنی اور ماڈل دونوں ایک ہوں تو ادھار جائز نہ ہوگا اور ادھار کا مطلب یہ ہے کہ نہ دونوں پر مجلس عقد میں قبضہ ہو اور نہ دونوں کی تعیین ہو۔
شامی (7/ 418)میں ہے:
قوله (فليس الذرع و العد بربا) أي بذي ربا أو بمعيار ربا فهو على حذف مضاف و الذرع و العد بمعنى المذروع و المعدود لا يتحقق فيهما رباً، و المراد ربا الفضل لتحقق ربا النسيئة فلو باع خمسة أذرع من الهروي بستة أذرع منه أو بيضة بيضتين جاز لو يداً بيد، لا لو نسيئة لأن وجود الجنس فقط يحرم النساء لا الفضل.
شامی (7/ 423)میں ہے:
و إن وجد أحدهما أي القدر وحده أو الجنس حل الفضل و حرم النساء و لو مع التساوي حتى لو باع عبداً بعبد إلى أجل لم يجز لوجود الجنسية.
شامی (7/430) میں ہے:
و المعتبر تعيين الربوي في غير الصرف بلا شرط تقابض.
وفيه أيضا: فلو كان كل نسيئة يحرم أيضاً لأنه بيع الكالي بالكالي.
وفيه أيضا: و إذا تبايعا كيلياً بكيلي أو وزنياً بوزني كلاهما من جنس واحد أو من جنسين مختلفين فإن البيع لا يجوز حتى يكون كلاهما عيناً أضيف إليه العقد.
فقہ البیوع (2/667) میں ہے:
والذى ذكره الفقهاء فى هذا الصدد يتخلص منه ان اختلاف الجنس يتحقق باحد من الامور الآتية …………. قد يكون كل واحد من الشيئين مصنوعاً، وبينهما اختلاف في الصنعة، ومثلها الفقهاء بالثوب الهروي (المنسوب إلى هراة) والمروي (المنسوب إلى مرو)، قال ابن الهمام رحمه الله تعالى: “والثوب الهروي والمروي وهو بسكون الراء، جنسان لاختلاف الصنعة، وقوام الثوب بها، وكذا المروي المنسوج ببغداد وخراسان، والكبد الأرمني والطالقاني جنسان.
وعلى هذا، فالثياب المنسوجة ببلادٍ مختلفة أو شركات مختلفة، تعتبر أجناساً مختلفة إن كان بينها تفاوت في الصناعة. وكذلك السيارات والدراجات والأجهزة الكهربائية المصنوعة ببلادٍ مختلفة، أو بشركاتٍ مختلفة. والظاهر أن الكتب المختلفة أجناس مختلفة. وينبغى على الأصل الذي ذكره ابن الهمام رحمه الله تعالى أن تكون الطباعات المختلفة من كتاب واحد أجناساً مختلفة، إن كان بينها فرق من حيث نوعية الورق، ومستوى الطباعة والتصحيح وغيره. لأنه بمثابة الاختلاف في الصنعة، فينبغي أن يجوز بينها التفاضل لفقدان القدر، والنسيئة لاختلاف الجنس. أما النسخ من طباعة واحدة، فجنس واحد، فلا يجوز النسيئة في مبادلة بعضها ببعض على قول الحنفية، لأن اتحاد الجنس يحرم النسيئة عندهم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved