• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حمل نہ ہونے کی صورت میں بھی عدت پوری کرنا ضروری ہے

  • فتوی نمبر: 1-321
  • تاریخ: 19 مئی 2024

استفتاء

ایک شوہر نے حمل کے دوران اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی چند دنوں بعد ڈیلوری کیس ہوا چالیس دن گذرنے کے چند دن بعد دوبارہ کسی اور مرد سے اس کا نکاح ہوا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد اس مرد نے بھی اس عورت کو تین طلاقیں دی۔ پھر عورت بیمار ہوگئی ( ایک ہفتہ یا دس دن بعد خون آناشروع ہو گیا تو ڈاکٹر کو چیک کرا ویا گیا تو لیڈی ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ کے بعد رپورٹ لکھ دی کہ پہلے وضع حمل کے دوران صحیح صفائی نہیں ہوئی اب دوبارہ صفائی یعنی ڈی۔ این۔ سی ہوگی تو ڈاکٹر سے دوبارہ ڈی۔ این۔ سی کروائی یعنی مکمل صفائی کروائی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ صفائی کے ذریعے قدرتی کنفرم ہوگیا ہے کہ حمل نہیں ہے کیا۔ اب اس عورت کو نئے مرد کے نکاح کے لیے تین حیض یعنی عدت گذارنا ضروری ہے یا فوری کسی اور مرد سے نکاح کرسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عورت کے لیے عدت گذارنا ضروری ہے۔ بغیر عدت گذارے فوری نکاح نہیں کرسکتی۔

و ركنها حرمات ثابتة بها كحرمة تزوج و خروج وهي في حق حرة تحيض لطلاق بعد الدخول حقيقة أو حكماً ثلاث حيض. ( شامی: 5/ 185) فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved