- فتوی نمبر: 4-211
- تاریخ: 30 ستمبر 2011
استفتاء
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ میرے والد صاحب نے میری والدہ کو لڑئی جھگڑے کے دوران یہ کہا “میں نے تجھے طلاق دے دینی تھی”، تیرا میرا رشتہ ختم” دو مرتبہ۔ پھر مجھے فون کر کے کہا” میں تمہاری ماں کو طلاق دے رہا ہوں”۔ تین بہن بھائیوں کو فون کر کے یہ کہا ہے پھر بھی ساتھ رہتے رہے۔ پھر اس کے ایک سال بعد پھر جھگڑا ہوا تو انہوں نے یہ الفاظ کہے” اگر تو تم کوئٹہ گئی تو میرا اور تیرا رشتہ ختم ہوجائے گا” تین مرتبہ۔ اس کے بعد میں نے اجازت لے کر کوئٹے بھیج دیا۔ اس کے دس دن بعد جب کوئٹہ سے آئی تو پھر یہ الفاظ کہے ” تیرا میرا رشتہ ختم” دو مرتبہ۔ ان سب باتوں سے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ہوئی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جب پہلی دفعہ شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے ” تیرا میرا رشتہ ختم” تو ان الفاظ سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی تھی جس کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا تھا اور تین ماہواریاں گذرنے پر عدت بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد کے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ چونکہ حالت نکاح مین نہیں پائے گئے اس لیے وہ لغو ہونگے۔
اب میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved