• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قبرستان کی حدود میں جنازگاہ بنانے کا حکم

  • فتوی نمبر: 28-143
  • تاریخ: 05 جولائی 2022
  • عنوانات:

استفتاء

ایک جگہ  ہے  جو قبرستان  ہے جہاں قبریں ہیں اور اسی کے ساتھ  کافی ساری جگہ اور  بھی ہے جو قبرستان کی حدود میں شامل ہے مگر وہاں کافی بڑے پتھر ہیں اب وہاں کی عوام یہ چاہتی ہے  کہ اس جگہ کوٹھیک کرکے جنازگاہ کےلیے استعمال کرے تاکہ  جنازگاہ قبرستان کے قریب ہوجائے ،اس جگہ کو ہموار کرنے سے کسی قبر کوکوئی نقصان بھی نہیں ہوگا اور جہاں جگہ ہموار کررہے ہیں وہ جگہ اور آگے یعنی قبلہ کی طرف بھی کوئی قبر نہیں ہے،اب کیا حکم ہے ؟کیا  اس قبرستان کی جگہ پر جنازگاہ بناسکتے ہیں؟تفصیلی حوالہ جات کے ساتھ جواب چاہیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

چونکہ جنازگاہ قبرستان کے مصالح میں سے ہے ،اس لیے  مذکورہ صورت میں قبرستان کی جگہ پر جنازگاہ بناسکتے ہیں۔

فتاوی مفتی محمود(3/120)میں ہے:

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین دریں مسئلہ کے شہر مظفر گڑھ  سے روندہ ملتان شریف سڑک جو نیلی کنارہ شمال خانقاہ قبرستان  سید روشن شاہ بخاری واقع ہے  ،شہر مظفر  گڑھ و بستی کے درمیان قبرستان مذکور ہے۔تقریبا  ۱۶  بگہ اراضی  اقوام چھچڑا  خاندان کے بزرگان نے دی ہوئی ہے ،اس کے قبرستان و جنازگاہ بنانے کے لیے خالی رقبہ میں حدود قبرستان کے اندر شمالی طرف جنازہ و نماز بوقت  ضرورت ادا کی جاتی تھی ۔میرے چچا صاحب مرحوم ملک کریم بخش صاحب نے قبرستان مذکور کے سامنے سڑک کے جنوبی کنارہ پر مسجد بنوائی اور چشمہ پانی کا لگوایا ۔ایک وقت میرے دل میں شوق پیدا ہوا کہ جنازگاہ کسی ایک کی نہیں ،میں نے مناسب موقع پر مقرر کردہ تعمیر کے چاروں  طرف  دیوار دے کر ایک دروازہ لگادیا جائے جو صرف  نماز جنازہ و نماز  ودینی امور  سرانجام دینے کے لیے ہوگی،اس جنازگاہ کے لیے قبرستان مذکور کی جنوبی طرف سڑک جرنیلی کے شمالی کنارہ کے ملحق بہت بڑے گھڑے تھے،وہاں لوگ قبروں کی لپائی کے واسطے  گارہ بنایا کرتے تھے ،بمشورہ عوام یہ جگہ  برائے جنازگاہ منتخب ہوئی ،اس جگہ کھڈوں میں مٹی ڈلوائی گئی ،تقریبا ۲۰۰ روپیہ کی مٹی ڈلوائی اور جنازگاہ  کی تعمیر کرنی شروع کی  مغربی دیوار میں محراب رکھوایا گیااور شمالی دیوار اور جنوبی دیوار دے رہے تھے کہ مخالفوں نے بذریعہ پولیس  تھانہ صدر مظفر گڑھ جنازگاہ تعمیر کرنے سے رکوایا ۔اور الزام لگایا کہ یہ قبضہ کرکے اپنے مکانا ت تعمیر کرے گا نیز رقبہ قبرستا ن خالی جگہ پر جنازگاہ  پڑھنا شرعا منع ہے ،میں نے کام روک دیا وہاں اسی روز چند جنازے پڑھے جاچکے ہیں  اہل اسلام بھائیوں نے مجھے کہا کہ جنازگاہ مکمل کی جاوے …………….اب آپ فرمادیں  کہ کیا خالی رقبہ جہاں کہ قبریں نہ ہوں ۔اور میری عمر ستر سال کے ہے۔جہاں جنازگاہ مقرر کی ہے کوئی قبر نہیں دیکھی ،کھڈے تھے بھرائی ڈلوانا اور موقع برائے ملاحظہ موجود ہے ۔ جہاں اب پھر مٹی ڈلوائی جائے گی ،کیا وجوہات بالا جنازگاہ بنانا جائز ہے؟

جواب:صورت مسئولہ نیز بتقدیر صحت واقعہ جنازگاہ قبرستان کے مصالح میں سے ہے ،اس لیے اس جگہ پر تعمیر جنازگاہ درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved