• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گیس والے کا 45کلو گیس 45کلو 400گرام کی قیمت پر دینا

استفتاء

تمہید :پاکستان میںL.P.G گیس باہر ممالک سے   آتی ہے ۔پاکستان آنے کے بعد اسے جس ٹرک میں منتقل کیا جاتا ہے اسے بوذر کہتے ہیں۔بوذر مختلف شہروں میں جاتا ہے پھر اس سے گیس چھوٹے سلنڈروں (45 کلو)میں منتقل کی جاتی ہے لیکن ڈائرکٹ بوذر  سے چھوٹے سلنڈر میں گیس منتقل نہیں ہوتی بلکہ اسے پلانٹ کے ذریعہ سے ہی منتقل کیا جاتا ہے،جو گیس پاکستان میں رجسٹرڈ طریقہ سے آتی ہے اسے رجسٹرڈ کمپنیاں منگواتی ہیں ،ان کے اپنے پلانٹ اور بوذر ہوتے ہیں اور وہ خود  خود فروخت کرتی ہیں البتہ جو گیس غیر رجسٹرڈ طریقہ سے براستہ ایران  آتی ہے،وہ  کوئی بھی خرید لیتا ہے  لیکن چونکہ اسے آگے فروخت کرنے کے لیے پلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے  وہ اسے کسی پلانٹ پر لاتا ہے یہ پلانٹ غیر رجسٹرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی یہاں اپنا بوذر لا کر گیس فروخت کرسکتا ہے ،کچھ بوذر ان پلانٹ والوں کے اپنے بھی ہوتے ہیں باقی مختلف لوگ لاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنے بوذر لاتے ہیں عموماً چھوٹے سلنڈر والے گاہک بھی ان کے اپنے ہوتے ہیں یعنی بوذر والے اور گاہک آپس میں خود رابطہ کرکے پلانٹ پر اکٹھے ہوجاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ میں L.P.G   کا کام کرتا ہوں ، میں ڈسٹری بیوٹر ہوں یعنی پلانٹس سے گیس لے کر دکانداروں کو مہیا کرتا ہوں۔L.P.G انڈسٹری میں گنتی کی چند رجسٹرڈ کمپنیوں کے پلانٹس کو چھوڑ کر   اکثر تعداد غیر رجسٹرڈ پلانٹ مالکان کی ہے  جن کو ’’کراس پلانٹس‘‘یا ’’کراس گیس‘‘ کہتے ہیں ۔رجسٹرڈ کمپنیاں حکومت کے طے شدہ معیار اور وزن کے مطابق گیس فلنگ کرتی ہیں اور اپنے پلانٹ پر اپنی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ سلنڈرز کے علاوہ کسی بھی دوسری کمپنی کے سلنڈرز میں فلنگ نہیں کرتیں اور عام طور پر L.P.G  کی رجسٹرڈ کمپنیاں مارکیٹ میں رائج ریٹ سے زائد ریٹ لیتی ہیں لیکن یہ زائد ریٹ حکومتی ادارہ ’’اوگرا‘‘کی مقررہ پرائس سے زائد  نہیں ہوتا،لیکن دوسری جانب  ’’کراس گیس پلانٹس‘‘سے ہر قسم کے  سلنڈر میں فلنگ  ہوتی ہے اور کوئی بھی سرمایہ دار اپنا L.P.G کا ٹینکر/بوذر ان پلانٹس پر  لاکر گاہکوں کو گیس مہیا کرسکتا ہے اور  پلانٹ مالکان اس سروس کے بدلے اس بوذر/ ٹینکر والے  سے فی سلنڈر جو کہ45 کلو 400 گرام  کا ہوتا ہے     400گرام   گیس وصول کرتے ہیں جس کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی اس بوذر سےگیس بھرواتا ہے تو  بوذر والا اس سے 45 کلو  400 گرام کے پیسے  وصول  کرتاہے جبکہ گیس اسے 45 کلو دیتا ہے ،اور یہ پیسے گاہک سے بوذر والا خود وصول کرتاہے اور پھر 400 گرام گیس  پلانٹ والے کو سروس چارجز کے طور پر ادا کردیتا ہے جو ان کے ٹینکر میں چلی جاتی ہے اور یہ طریقہ  L.P.G  مارکیٹ میں معروف ہے جو ہر ہول سیلر کو معلوم ہےاور کسی جھگڑے  کا سبب نہیں بنتا اور ڈسٹری بیوٹر  اپنے لالچ اور نفع کی وجہ سے اس کٹوتی پر بادل ناخواستہ راضی بھی  ہیں  کیونکہ کراس پلانٹ پر فروخت ہونے والی گیس کی قیمت  عام طور پر مقابلہ بازی کی وجہ سے رجسٹرڈ کمپنیوں سے تیس چالیس روپے اور بسا اوقات  ایک سو روپے تک کم ہوتی ہے  اور رجسٹرڈ  کمپنیوں کے سلنڈر بھی مہنگے ہوتے ہیں ۔نیز آگے    ڈسٹری بیوٹر دوکاندار کو 45 کلو کے حساب سے ہی سلنڈر فروخت کرتا ہے ۔ بوذر والے  اگر پوری گیس ہی ڈسٹری بیوٹر کو دیں تو  ان کے لیے پلانٹ والے کو ان کی سروس چارجز کے طور پر 400 گرام گیس دینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کا مارجن  پہلے ہی کم ہوتا ہے ۔

1۔کیا شرعی  اعتبار سے  پلانٹس مالکان  کا  سروس چارجز کے طور پر فی سلنڈر  400 گرام کے حساب سے رقم لینا   جائز ہے؟

2۔ بوذر/ٹینکر والے کاڈسٹری بیوٹر  سے یہ رقم لینا جائز ہے یا  ناجائز؟جبکہ  بوذر/ٹینکر والے اور ڈسٹری بیوٹر والوں کے درمیان اس کا عرف ہوگیا ہے اور یہ کٹوتی کسی قسم کے جھگڑے کا سبب نہیں بنتی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔پلانٹس مالکان  کا    سروس چارجز کے طور پر فی سلنڈر 400 گرام گیس لینا  جائز ہے اور یہ ان کی طرف سے  بوذر والے کو دی جانے والی سروس کی اجرت بنے گی۔

2۔بوذر/ ٹینکر والوں کا  ڈسٹری بیوٹر   کو  45کلوگیس 45کلو 400گرام  کی قیمت کے بدلہ فروخت کرنا  جائز ہے۔

توجیہ:    خرید وفروخت کے معاملے میں  عاقدین کو اختیار ہوتا ہے کہ باہی رضامندی سے وہ جو چاہیں قیمت طے کریں  اگرچہ وہ   مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ہو ، مذکورہ صورت میں چونکہ  یہ طریقہ  معروف و مشہور ہے اور ہر ہول سیلر کو معلوم ہے نیز ہول سیلر اس پر راضی بھی ہوتا ہے اس لیے مذکورہ صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ بوذر والے نے  45 کلو گیس اسے اتنے میں  فروخت کی ہے   جتنے میں 45 کلو 400 گرام گیس فروخت ہوتی ہے،   جس پر دونوں فریق راضی  بھی ہوتے ہیں  اور سب کو معلوم ہونے کی وجہ سے یہ صورت دھوکہ دہی کی بھی نہیں بنتی لہذا مذکورہ صورت جائز ہے ۔

ہدایہ (4/472)میں ہے:

ولا ‌ينبغي ‌للسلطان أن يسعر على الناس لقوله عليه الصلاة والسلام: لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة

رسائل ابن عابدین(2/128-141،142) میں ہے:

فاعلم أن المتأخرين الذين خالفوا المنصوص في كتب المذهب في المسائل السابقة لم يخالفوه إلا لتغير الزمان والعرف وعلمهم أن صاحب المذهب لو كان في زمنهم لقال بما قالوه ….. (ومنها) بيع المظروف كزيت مثلاً على أن يزنه ويطرح للظرف أرطالاً معلوماً فإنه شرط فاسد، لأن مقتضى العقد طرح مقدار وزنه لكنه قد تعارفه الناس في عامة البلدان، وقد يستأنس له بما ذكروا في المتون أنه يصح بيع نعل أن يحذوه ويشركه، قال في البحر: والقياس فساده لما فيه من النفع للمشتري مع كون العقد لا يقتضيه، وما ذكره في المتن جواب الاستحسان للتعامل، وفي الخروج عن العادة خرج بيّن بخلاف اشتراط خياطة الثوب لعدم العادة فبقي على أصل القياس، وتسمير القبقاب كتشريك النعل كما في فتح القدير، وفي البزازية: اشترى ثوباً أو خفاً خلقاً على أن يرقعه البائع ويخرزه ويسلمه صح للعرف، ومعنى يحذوه يقطعه انتهى ما في البحر….. أما بيع المظروف فهو شائع مستفيض وكثيراً ما يكون فيه ضرورة فإن كثيراً من المبيعات المظروفة لا يمكن إخراجها من ظرفها بل تباع معه ويطرح للظرف مقدار معلوم بين التجار أو بين المتعاقدين لا يحصل فيه تفاوت كثير ولا يؤدي إلى منازعة إلا نادراً والنادر لا حكم له. (وهذا أيضاً) لست أجزم إه، لأني لم أر أحداً قال به، بل المصرح به في عامة الكتب القديمة والحديثة خلافه، ولا يطمئن القلب إلى العمل بما لم يصرح أحد به نعم ما ذكرته من الشواهد يؤيده وفيه تيسير عظيم ولكن هذا بالنسبة إلى بيع الناس فيما بينهم لئلا نحكم بفساد بيعهم وإلحاقه بالربا، أما العالم بالحكم فلا ينبغي له فعل ذلك بل عليه التنزه عن أفعال عوام الناس، واتباع ما قاله الفقهاء إذ لا ضرورة إلى العدول عنه بالنسبة إليه بخلافه بالنسبة إلى عامة الناس، ……….

شرح مجلہ(1/96)میں ہے:

(المادة:43)المعروف عرفا كالمشروط شرطا.

اي المعروف المعتاد بين الناس،وان لم يذكر صريحا،فهو بمنزلة الصريح،لدلالة العرف عليه.

(المادة:44)المعروف بين التجار كالمشروط بينهم.

بحوث فی    قضایا فقہیۃ معاصرہ(1/13)میں ہے:

وللبائع أن يبيع بضاعته بما شاء من ثمن، ولا يجب عليه أن يبيعها بسعر السوق دائما، وللتجار ملاحظ مختلفة في تعيين الأثمان وتقديرها فربما تختلف أثمان البضاعة الواحدة باختلاف الأحوال، ولا يمنع الشرع من أن يبيع المرء سلعته بثمن في حالة، وبثمن آخر في حالة أخرى

فقہ البیوع(2/892)میں ہے:

المغبون من اشترى شيئا بثمن زائد فوق العادة،مثل أن يشتري ما قيمته مائة بخمسائة أو باع شيئا بأقل من قيمته السوقية خلاف العادة …..فان كان المغبون عارفا بأحوال السوق و دخل فى العقد بمساومة و مماكسة فلا خلاف أن البيع نافذ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved