• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عدت کے اندر رجوع کے بعد مزید طلاقیں دینا

  • فتوی نمبر: 6-221
  • تاریخ: 13 دسمبر 2013

استفتاء

مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق بذریعہ موبائل یوں دی کہ “میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں”۔ اس ایک طلاق دینے کے بعد اس کی عدت کی مدت ختم ہو گئی اور وہ آزاد ہو گئی کہ اپنی مرضی سے کہیں بھی نکاح کر لے، لیکن ہوا کچھ  یوں کہ

میں نے عدت کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو اشٹام پیپر پر لکھ کر بھیجا کہ “میں تم کو   طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں”۔

اب میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ عدت کے بعد دی گئی یہ تین طلاق موثر ہیں یا نہیں؟ اور اگر میاں بیوی باہمی رضا مندی کے ساتھ دو بارہ نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو کیا یہ قرآن و سنت کی روشنی میں ٹھیک ہے؟

نوٹ: موبائل پر طلاق دینے کے دو تین دن بعد ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ مصافحہ ہوا اور بوسہ بھی لیا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ پہلی طلاق کے بعد مصافحے اور بوسے سے رجوع ہو گیا تھا، اس لیے بعد کی طلاقیں موثر ہوں گی، چنانچہ اب تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ ہی رجوع کی گنجائش ہے۔ فقط  و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved