- فتوی نمبر: 34-250
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > دعوت، تبلیغ، تصوف اور احسان
استفتاء
1۔اولیاء کرام کی کیا حقیقت ہے؟
2۔ قرآن وحدیث میں ان کا ذکر آیا ہے؟
3۔ غوث، قطب، ابدال، نجباء ان اولیاء کرام کا ذکر ذخیرہ کتب احادیث میں ملتا ہے؟
4۔ ان کی اطاعت اور پیروی کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اولیاء اللہ کی حقیقت
ولی اللہ وہ شخص کہلاتا ہے جو اپنی طاقت کے مطابق اللہ تعالی کی ذات و صفات کو پہچاننے والا ہو نیک اعمال پر قائم رہنے والا اور گناہوں، جائز خواہشات اور لذات میں انہماک سے بچنے والا ہو۔
شرح مقاصد (5/2832) میں ہے:
(الولي هو العارف بالله الصارف همته عما سواه)وصفاته: المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصي المعرض عن الانهماك في اللذات والشهوات
تفسیر رازی (17/275) میں ہے:
قال المتكلمون: ولي الله من يكون آتيا بالاعتقاد الصحيح المبني على الدليل ويكون آتيا بالاعمال الصالحة على وفق ما وردت به الشريعة
روح المعانی (6/140) میں ہے:
الولي من يتولى عبادة الله تعالى وطاعته على التولي من غير تخلل معصية…. واحسن ما يعتمد عليه في معرفة الولي إتباع الشريعة الغراء وسلوك المحجة البيضاء
2۔اولیاء اللہ کا قرآن و حدیث میں ذکر
سورۃ یونس آیت نمبر 62-63 میں ہے:
الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون الذين امنوا وكانوا يتقون
ترجمہ: خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں (اولیاء اللہ) پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ (پرہیزگاری) اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تشریح: یہ اولیاء اللہ کی تعریف فرمائی یعنی مومن متقی خدا کا ولی ہوتا ہے۔ پہلے کئی مواقع میں معلوم ہو چکا کہ ایمان و تقوی کے بہت سے مدارج ہیں۔ پس جس درجے کا ایمان و تقوی کسی میں موجود ہوگا اسی درجے میں ولایت کا ایک حصہ اس کے لیے ثابت ہوگا۔ پھر جس طرح عرف عام میں دس بيس روپے کے مالک کو مالدار نہیں کہا جاتا جب تک معتد بہ مقدار مال و دولت موجود نہ ہو اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان و تقوی کسی مرتبہ میں ہو ولایت کا شعبہ ہے اور اس حیثیت سے سب مومنین فی الجملہ ولی کہلائے جا سکتے ہیں لیکن عرف میں ولی اسی کو کہا جاتا ہے جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ ایمان و تقوی کا پایا جاتا ہو۔ احادیث میں کچھ علامات و آثار اس ولایت کی ذکر کی گئی ہیں۔[تفسیر عثمانی،2/93]
سنن الکبری (رقم الحدیث: 11171 ) میں ہے:
سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اولياء الله؟ قال :الذين اذا رؤوا ذكر الله
مسند احمد (رقم الحدیث: 15549میں ) ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:… وإن اوليائي من عبادي واحبائي من خلقي الذين يذكرون بذكري وأذكر بذكرهم.
تفسیر مظہری (5/39) میں ہے:
اخرج ابن مردويه عن ابي هريره رضي الله تعالى عنه قال سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الله الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون قال: الذين يتحابون في الله
3۔غوث، قطب، ابدال نجباء کا ذکر احادیث میں
اولیاء اللہ کی مذکورہ اقسام میں سے ابدال کا ذکر تو صراحتاً حدیث میں ہے اور بقیہ اقسام کا ذکر اگرچہ حدیث میں نہیں ہے لیکن چونکہ ان کا وجود قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہے اور جب ایک قسم کا ذکر حدیث میں ہے تو بقیہ اقسام کا فی الواقع موجود ہونا بعید نہیں ہے۔
خیر الفتاوی (1/298) میں ہے :
ابدال کا موجود ہونا حدیث سے ثابت ہے:
1۔عن علي رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تسبوا اهل الشام فان فيهم الابدال. رواه الطبراني وغيره
2۔واخرج احمد عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الابدال بالشامي وهم اربعون رجلا يسقى بهم الغيث وينصر بهم على الاعداء ويصرف عن اهل الشام بهم العذاب (رسائل ابن عابدین 270/2)
گو ابن جوزی رحمہ اللہ نے ایسی روایات کو موضوع کہا ہے لیکن علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ان خبر الابدال صحيح وان شئت قلت متواتر. علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے حدیث نمبر 2 کو صحیح قرار دیا اور باقی روایات کی تضعیف کی ہے۔
شریعت و طریقت(ص:338) میں ہے:
مکتوبات و ملفوظات صوفیہ میں ابدال و اقطاب و اوتاد وغوث وغیرہم الفاظ اور ان کے مدلولات کے صفات و برکات و تصرفات پائے جاتے ہیں۔ حدیث میں جب ایک قسم کا اثبات ہے تو دوسری اقسام بھی مستبعد نہ رہے۔ ایک نظیر سے دوسری نظیر کی تائید ہونا امر مسلم و معلوم ہے۔
4۔ ان کی اطاعت کا حکم
ان کی اطاعت کوئی مستقل نہیں ہے بلکہ اصل اطاعت تو شریعت ہی کی ہے اور ان کی جو بات بظاہر ہمیں شریعت سے ٹکرانے والی نظر آئے اس میں ان کی اطاعت نہیں کریں گے اگر ہو سکے تو اس کی کوئی مناسب تاویل کریں گے ورنہ خاموشی اختیار کریں گے۔
فتاوی محمودیہ (4/472) میں ہے:
سوال: اہل حق بزرگوں کے کلام میں ایسے اقوال اور رموز ملتے ہیں جو بظاہر شریعت کے خلاف معلوم ہوتے ہیں ان کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: ان اکابر کے جس کلام کا صحیح محمل سمجھ میں نہ ائے اور الفاظ ظاہرہ سے خلاف شریعت مطلب نکلتا ہو تو نہ اس مطلب پر عمل کیا جائے کیونکہ وہ خلاف شریعت ہے نہ اس مطلب کو ان حضرات کی طرف منسوب کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved