• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قرآن پاک کتنے عرصے میں نازل ہوا؟

استفتاء

قرآن پاک کتنے سال کتنے مہینے اور کتنے دن میں نازل ہوا؟درست وقت کا تعین بتا دیں کسی جگہ 23سال 3 ماہ 22 دن لکھا ملتا ہے تو کہیں 22 سال 2 ماہ 24دن لکھا ملتا ہے۔اصل دورانیہ بتا دیں اہم سوال ہے قانون کے امتحان میں بار بار آتا  ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قرآن پاک کا نزول کتنے عرصے میں مکمل ہوا ؟اس بارے میں تین اقوال ملتے ہیں ۔20 سال ،23 سال اور 25 سال اور اس اختلاف کی وجہ آپ ﷺ کا مکہ مکرمہ میں قیام کی مدت ہے کہ وہاں آپ ﷺ 10 سال رہے یا 13 سال یا 15 سال، جبکہ مدینہ منورہ میں بالاتفاق 10 سال قیام رہا۔

نیز اس میں راجح قول یہ ہے کہ مکمل قرآن کم و بیش 23 سال کے عرصے  میں نازل ہوا۔

نوٹ: متقدمین کی کتابوں میں تو بغیر کسی کسر کے 23 سال کا تذکرہ ملتا ہے البتہ متاخرین میں سے بعض نے 22 سال 5 ماہ 14 دن لکھا ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ﷺ کو نبوت چالیس سال کی عمر میں ملی اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپﷺ کا انتقال ہوا۔یہ تئیس سال ہوئے  جن میں سے ابتدائی چھ ماہ   پانچ دن تک سچے خواب آتے تھے ،اور وفات سے قریباگیارہ دن پہلے وحی آنا بند ہوگئی تھی ۔لہذا جب تئیس سال میں سے چھ ماہ سولہ دن نکال لیں تو  22 سال 5 ماہ 14 دن بنتے ہیں۔

البتہ سوال میں ذکر کردہ 23سال3ماہ22دن اور22سال2ماہ24دن والے اقوال ہمیں نہیں ملے

الاتقان فی علوم القرآ ن  للسیوطی(1/ 146) میں ہے:

اختلف في كيفية إنزاله من اللوح المحفوظ على ثلاثة أقوال:أحدها: وهو الأصح الأشهر أنه نزل إلى سماء الدنيا ليلة القدر جملة واحدة ثم نزل بعد ذلك منجما في عشرين سنة اوثلاث وعشرين أو خمس وعشرين على حسب الخلاف في مدة إقامته بمكة بعد البعثة.

البرہان فی علوم القرآن للزرکشی(1/ 232) میں ہے:

وكان بين أول نزول القرآن وآخره عشرون أو ثلاث وعشرون أو خمس وعشرون سنة وهو مبني على الخلاف في مدة إقامته صلى الله عليه وسلم بمكة بعد النبوة فقيل عشر وقيل ثلاث عشرة وقيل خمس عشرة ولم يختلف في مدة إقامته بالمدينة أنها عشر

المدخل لدراسۃالقرآن الكريم للمحمد بن محمد ابو شہبہ م1403ھ  (ص56) میں ہے:

وقد اختلف العلماء في مدة هذا النزول؛ فقيل: عشرون سنة، وقيل:ثلاث وعشرون سنة، وقيل: خمس وعشرون سنة.ومنشأ هذا الاختلاف إنما هو اختلافهم في مدة مقامه صلى الله عليه وسلم بمكة؛ فقيل عشر سنين، وقيل: ثلاث عشرة، وقيل: خمس عشرة.

وأقربها إلى الحق والصواب هو أوسطها؛ وهو ثلاث وعشرون سنة، وهذا على سبيل التقريب، وأبعدها هو آخرها.

ولو راعينا التدقيق والتحقيق، تكون مدة نزول القرآن اثنتين وعشرين سنة، وخمسة أشهر ونصف شهر تقريبا، وبيان ذلك: أن النبي صلى الله عليه وسلم نبّئ على رأسي الأربعين من ميلاده الشريف، وذلك في شهر «ربيع الأول؛ الثاني عشر منه» وقد بدئ الوحي إليه بالرؤيا الصادقة، ومكث على ذلك إلى السابع عشر من رمضان، وهو اليوم الذي نزل عليه فيه صدر سورة «اقرأ» أول ما نزل من القرآن، وجملة ذلك: ستة أشهر وخمسة أيام، وآخر آية نزلت من القرآن هي قوله تعالى: وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ (28) [سورة البقرة: 281]، وقد روي أن ذلك قبل وفاة النبي صلى الله عليه وسلم بتسعة أيام، وقيل: بأحد عشر يوما، وقيل: بواحد وعشرين يوما، فلو أخذنا بالمتوسط تكون جملة المدة التي لم ينزل فيها القرآن ستة أشهر وستة عشر يوما.

وجملة عمره صلى الله عليه وسلم ثلاثة وستون عاما؛ لأنه توفي في الثاني عشر من ربيع الأول سنة إحدى عشرة من الهجرة، كما عليه الجمهور، فتكون مدة نبوته: ثلاثا وعشرين سنة، فإذا أنقصنا منها ستة أشهر وستة عشر يوما، يكون الباقي اثنتين وعشرين وخمسة أشهر وأربعة عشر يوما، والحمد لله الذي هدانا لهذا، وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله،

معارف القرآن، مفتی شفیع عثمانی صاحبؒ (1/453)میں ہے:

قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ رمضان کی ایک رات میں پورا کا پورا لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا گیا مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کا نزول تیئیس سال میں رفتہ رفتہ ہوا۔

علوم القرآن از مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ(ص:54) میں ہے:

قرآن کریم دراصل کلام الٰہی ہے، اس لئے ازل سے لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے :بل هو قرآن مجيد ﴿البروج:٢١﴾ فی لوح محفوظ ﴿البروج:٢٢﴾” بلکہ یہ قرآن مجید ہے۔ لوح محفوظ میں۔”پھر لوح محفوظ سے اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ہے۔ ایک مرتبہ یہ پورا کا پورا آسمانِ دنیا کے “بیتِ عزت” میں نازل کر دیا گیا۔ اُس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسبِ ضرورت نازل کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ تئیس (23) سال میں اس کی تکمیل ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved