• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تیسرا کلمہ ، درود شریف اور استغفار 100 مرتبہ پڑھنے کی تعداد سنت سے ثابت ہے؟

استفتاء

بر صغیر میں تیسرا  کلمہ ، درود شریف اور استغفار کو 100 مرتبہ صبح و شام پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ کیا یہ مخصوص تعداد سنت سے ثابت ہے؟

مذکورہ  بالا تسبیحات کو چھوڑ کر حدیث پاک میں وارد تسبیحات کرنا کیسا ہے ؟مثلا: حدیث پاک میں 100 مرتبہ صبح  وشام تیسرے کلمہ کی فضیلت وارد نہیں ہے لیکن صبح و شام 100 مرتبہ سبحان اللہ، صبح و شام ١٠٠ مرتبہ الحمدللہ ، صبح  وشام سو مرتبہ لاالہ الا اللہ اور صبح  و شام سو مرتبہ اللہ اکبر کہنا ثابت ہے۔ یہ حدیث چھوڑ کر تیسرا ‌ کلمہ پڑھنے کو کیوں کہا جا رہا ہے؟

اسی طرح سے صبح و شام ١٠٠ مرتبہ درود شریف پڑھنے کا ذکر حدیث میں نہیں ہے لیکن صبح و شام ١٠ مرتبہ درود شریف پڑھنے کا ذکر حدیث میں ضرور ہے۔ اس حدیث کو چھوڑ کر 100 مرتبہ صبح و شام درود شریف پڑھنے کو کیوں کہا جاتا ہے ؟

اسی طرح سے حدیث میں صبح و شام 100 مرتبہ استغفار پڑھنے کا ذکر نہیں ہے لیکن پورے دن میں ١٠٠ مرتبہ استغفار پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کو چھوڑ کر صبح و شام ١٠٠ مرتبہ استغفار پڑھنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو تعداد حدیث میں وارد ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی تعداد ہے، اسکو چھوڑ کر اس سے زیادہ خود ساختہ تعداد کے حساب سے ذکر کرنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟

کیا صبح و شام ١٠٠ مرتبہ تیسرا کلمہ ، صبح و شام ١٠٠ مرتبہ درود شریف اور صبح و شام ١٠٠ مرتبہ استغفار کی ترغیب شافعی مالکی حنبلی بھی دیتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی دی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تیسرا کلمہ (سبحان اللہ، الحمدللہ،لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر) کو صبح و شام 100،100 مرتبہ پڑھنا حدیث سے ثابت ہے اسی طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزانہ 100 مرتبہ استغفار کرنا ثابت ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے  قرآن مجیدمیں  “لیغفرلک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر” وارد ہوا ہے اور استغفار کی کثرت کی ترغیب بھی احادیث میں وارد ہے تو عام امتی  اگر صبح وشام 100 ،100مرتبہ استغفار کرے تو اس میں کسی حدیث کی مخالفت نہیں ہے اسی طرح درود شریف کی کثرت کرنے کی متعدد احادیث میں ترغیب وارد  ہوئی ہے اس لیے صبح و شام 100،100 مرتبہ درود شریف پڑھنا کسی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ جن احادیث میں جو مخصوص تعداد ان اذکار کی وارد ہوئی ہے ان میں یا کسی اور حدیث میں اس مخصوص تعداد سے زیادہ پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے لہذا مذکورہ اذکار کو 100،100 مرتبہ پڑھنے کو خلاف سنت یا خلاف حدیث سمجھنا غلط فہمی ہے۔

سنن الترمذی  (5/ 513 ) میں  ہے:

3471 – عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌سبح ‌الله ‌مائة ‌بالغداة ‌ومائة بالعشي كان كمن حج مائة حجة، ومن حمد الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حمل على مائة فرس في سبيل الله، أو قال غزا مائة غزوة، ومن هلل الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن أعتق مائة رقبة من ولد إسماعيل، ومن كبر الله مائة بالغداة ومائة بالعشي لم يأت في ذلك اليوم أحد بأكثر مما أتى إلا من قال مثل ما قال أو زاد على ما قال»: «هذا حديث حسن غريب»

ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے صبح اور شام 100 مرتبہ سبحان اللہ  کہا، وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے  100 حج کیے۔ اور جس نے صبح اور شام 100 مرتبہ الحمد للہ  کہا، وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں  100 گھوڑوں پر مجاہدین کو سوار کیا یا فرمایا کہ 100 غزوات میں شرکت ۔اور جس نے صبح و شام 100 مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا، وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے 100 غلام آزاد کیے۔اور جس نے صبح اور شام 100 مرتبہ اللہ اکبر  کہا، تو اس دن اس سے زیادہ عمل لے کر کوئی نہیں آئے گا، سوائے اس کے جس نے اسی طرح (یہ کلمات) کہے ہوں یا اس سے زیادہ کہے ہوں۔

مصنف ابن ابی شیبہ (6/ 109) میں ہے:

29868 – حدثنا يحيى بن آدم، قال: حدثنا زهير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن عميلة، عن سمرة بن جندب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” ‌أحب ‌الكلام ‌إلى ‌الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، لا يضرك بأيهن بدأت “»ط

ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلمات چار ہیں: سبحان اللہ، والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ تم ان میں سے جس سے بھی شروع کرو، اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (10/ 97) میں ہے:

وعن أبي أيوب الأنصاري: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم  ليلة أسري به مر على إبراهيم  عليه السلام  فقال: ‌يا ‌جبريل، ‌من ‌معك؟ قال: هذا محمد  صلى الله عليه وسلم  قال له إبراهيم  عليه السلام : مر أمتك فليكثروا من غراس الجنة ; فإن تربتها طيبة، وأرضها واسعة، قال: ” وما غراس الجنة؟ “. قال: لا حول ولا قوة إلا بالله»

ترجمہ: ​حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کا گزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے پوچھا: اے جبرائیل! آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: “اپنی امت کو حکم دیں کہ وہ جنت کے پودے زیادہ سے زیادہ لگائیں، کیونکہ اس کی مٹی بہت عمدہ اور زمین بہت وسیع ہے۔” آپ ﷺ نے پوچھا: “جنت کے پودے کیا ہیں؟” انہوں نے جواب دیا:لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

مسند أحمد (18/ 241) میں ہے:

«عن أبي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ‌استكثروا ‌من ‌الباقيات الصالحات ” قيل: وما هي يا رسول الله؟ قال: ” الملة “، قيل: وما هي يا رسول الله؟ قال: ” الملة “، قيل: وما هي يا رسول الله؟ قال: ” التكبير، والتهليل، والتسبيح، والتحميد، ولا حول ولا قوة إلا بالله “»

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “باقی رہنے والی نیکیوں (الباقیات الصالحات) کو کثرت سے کیا کرو۔” عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ دین کی بنیادیں ہیں” پھر جب دوبارہ پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی:”وہ اللہ اکبرکہنا ، لا الہ الا اللہ کہنا،  سبحان اللہ کہنا، الحمد للہ کہنا اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ  کہنا ہے۔”

الدعاء  للطبرانی (ص483) میں ہے:

«حدثنا عمر بن عبد العزيز بن مقلاص المصري، حدثني أبي، ثنا ابن وهب، أخبرني بشر بن نمير، عن حسين بن عبد الله بن ضميرة، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ‌الباقيات ‌الصالحات من قال لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله، ولا حول ولا قوة إلا بالله من قالهن خمس مرات أعطاه الله عز وجل خمس مسألات: اللهم اغفر لي، وارحمني، واهدني، وأرشدني، وارزقني “»

ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “باقی رہنے والی نیکیاں یہ ہیں کہ کوئی شخص  لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر،  وسبحان اللہ،  والحمد للہ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ کہے۔ جو شخص انہیں پانچ مرتبہ کہے گا، اللہ عزوجل اسے پانچ چیزیں عطا فرمائے گا (جب وہ یہ دعا مانگے گا): اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے بھلائی کی راہ دکھا اور مجھے رزق عطا فرما۔”

مصنف ابن ابی شیبہ (17/ 478) میں ہے:

«عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-: “‌من ‌صلى ‌علي ‌صلاة واحدة صلى اللَّه عليه عشر صلوات وحط عنه عشر سيئات”]»

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ مٹا دے گا۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد  (10/ 120) میں ہے:

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” «‌من ‌صلى ‌علي ‌حين ‌يصبح ‌عشرا ‌وحين ‌يمسي ‌عشرا ‌أدركته ‌شفاعتي ‌يوم ‌القيامة» “.

رواه الطبراني بإسنادين، وإسناد أحدهما جيد، ورجاله وثقوا

ترجمہ: جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجے گا، قیامت کے دن اسے میری شفاعت حاصل ہو گی۔

عمل اليوم والليلہ للنسائی  (ص166) میں ہے:

«عن سعيد بن عمير الأنصاري عن أبيه وكان بدريا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌من ‌صلى ‌علي ‌من ‌أمتي صلاة مخلصا من قلبه صلى الله عليه بها عشر صلوات ورفعه بها عشر درجات وكتب له بها عشر حسنات ومحا عنه عشر سيئات»

ترجمہ: حضرت سعید بن عمیر انصاری اپنے والد (جو بدری صحابی تھے) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میری امت میں سے جو شخص بھی سچے دل سے (اخلاص کے ساتھ) مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے دس درجات بلند کرے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرما دے گا۔”

سنن الترمذی  (2/ 354) میں  ہے:

عن عبد الله بن مسعود، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌أولى ‌الناس ‌بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة»،: «هذا حديث حسن غريب

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہوگا۔”

سنن أبی داؤد (2/ 626 ) میں ہے:

ثابت، عن أبي بردة عن الأغر المزني  قال مسدد في حديثه: وكانت له صحبة  قال: قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم : “إنه ليغان على قلبي، وإني لاستغفر الله في كل يوم مائة مرة”.

ترجمہ: حضرت اغرمزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کبھی کبھی میرے دل پر پردہ سا آ جاتا ہے (یعنی بشری تقاضوں کی بنا پر یادِ الٰہی میں معمولی سا حجاب)، اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔”

الدعاء  للطبرانی  (ص506) میں ہے:

عن عبد الله بن بسر، رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌طوبى ‌لمن ‌وجد في صحيفته استغفارا كثيرا

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو اپنے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار پائے۔

سنن أبی داؤد  (1/ 560 ) میں ہے:

عن ‌ابن عباس أنه حدثه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا، ومن كل هم فرجا، ورزقه من حيث لا يحتسب»

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے (ہمیشہ پڑھتا رہے)، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا، اسے ہر غم سے نجات عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved