- فتوی نمبر: 35-17
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > قرآن کریم
استفتاء
سورۃ طہ کی آیات ” منها خلقنٰکُم وفِيها نُعیدُکُم ومِنها نُخرجکُم تارة أخرى“جن کو تدفین کے وقت پڑھنا سنت ہے ان آیات میں “خلقنٰکُم” اُس میت کے بارے میں جس پر یہ پڑھا جا رہا ہے اپنے اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہے یا مجازی معنی میں؟ کیونکہ آدم علیہ السلام کے علاوہ کسی کی تخلیق مٹی سے تو نہیں ہوئی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دونوں احتمال ہیں۔مجازی معنی میں مستعمل ہونا تو ظاہر ہے اور حقیقی میں مستعمل ہونا اس طرح ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ ایک فرشتہ ہر انسان کی تخلیق میں اس کے دفن ہونے کی جگہ کی مٹی شامل کر دیتا ہے (خواہ ہمیں اس کا علم نہ ہو)۔
روح المعانی (8/ 520) میں ہے:
«خلقناكم أي في ضمن خلق أبيكم آدم عليه السلام منها فإن كل فرد من أفراد البشر له حظ من خلقه عليه السلام إذ لم تكن فطرته البديعة مقصورة على نفسه عليه السلام بل كانت أنموذجا منطويا على فطرة سائر أفراد الجنس انطواء جماليا مستتبعا لجريان آثارها على الكل فكان خلقه عليه السلام منها خلقا للكل منها، وقيل: المعنى خلقنا أبدانكم من النطفة المتولدة من الأغذية المتولدة من الأرض بوسائط .
وأخرج عبد بن حميد وابن المنذر عن عطاء الخراساني قال: إن الملك ينطلق فيأخذ من تراب المكان الذي يدفن فيه الشخص فيذره على النطفة فيخلق من التراب»
عمدة القاری شرح صحيح البخاری (8/ 226) میں ہے:
«وفي (التمهيد) من حديث عبد الوهاب بن عطاء الخفاف: حدثنا أبي عن داود بن أبي هند حدثني عطاء الخراساني: (أن الملك ينطلق فيأخذ من تراب المكان الذي يدفن فيه، فيذره على النطفة فتخلق من التراب، ومن النطفة، فذلك قوله تعالى: {منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة أخرى} (طه: 55) . وعند الترمذي أبي عبد الله، قال محمد بن سيرين: لو حلفت حلفت صادقا بارا غير شاك ولا مستثن أن الله تعالى ما خلق نبيه صلى الله عليه وسلم ولا أبا بكر ولا عمر إلا من طينة واحدة، ثم ردهم إلى تلك الطينة»
تفسير الماتريدی تاویلات اہل السنۃ (7/ 286) میں ہے:
وقوله عَزَّ وَجَلَّ : (مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى (55)
يحتمل قوله: (مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ) وجوهًا:
أحدها: منها خلقنا أصلكم، وهو خلق آدم، لكنه أضاف خلقنا إليها وإن لم نخلق منها كما أضاف الإنسان إلى النطفة وإن لم يكن الإنسان منها، لكنه أضاف إليها؛ لأنها أصل الإنسان؛ فعلى ذلك إضافة خلق أنفسنا إلى الأرض.
والثاني: نسب إليها؛ لأنا من أول ما ننشأ إلى آخر ما ننتهي إليه يكون قوامنا ومعاشنا من الخارج من الأرض؛ فنسب خلقنا إليه، وهو ما قال: (قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا) واللّباس على هيئته ما هو لم ينزل من السماء، لكنه أضافه إليها؛ لأنه كان بأسباب من السماء وأصله منها.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: ذكر أن الملك ينطلق فيأخذ من تراب ذلك المكان الذي يدفن فيه الإنسان فيذره على النطفة التي قضى اللَّه منها الولد؛ فيخلق من التراب والنطفة، قذلك معنى الإضافة إليهما، لكن هذا سمعي لا يعرف إلا بالخبر، فإن ثبث فهو هو، وإلا لا يجوز أن يقال ذلك رأيًا
بیان القرآن (2/456) میں ہے:
( جس طرح نباتات کو زمین سے نکالتے ہیں اسی طرح ) ہم نے تم کو اس زمین سے ( ابتدا میں ) پیدا کیا چنانچہ آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے سو ان کے واسطے سے سب کا مادہ بعید خاک ہوئی) اور اس میں ہم تم کو ( بعد موت ) لے جاویں گے چنانچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو لیکن آخر کو گومدتوں کے بعد سہی مگرمٹی میں ضرور ملے گا) اور (قیامت کے روز ) پھر دوبارہ اس سے ہم تم کو نکال لیں گے ( جیسا پہلی بار اس سے پیدا کر چکے ہیں )
معارف القرآن (6/118) میں ہے:
منہا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہے کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم علیہ السّلام کے کہ اُن کی پیدائش براہِ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہو سکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام ہیں انکے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کر دینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق در حقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہو گی۔ ا مام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی سے ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر انسان کی تخلیق میں حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے مٹی شامل فرماتے ہیں اس لیے ہر ایک انسان کی تخلیق کو براہ راست مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved