• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جادو اور تعویذ کے متعلق مختلف سوالات

استفتاء

1۔کہتےہیں کہ کوئی عورت یا مرد کسی دوسرے مسلمان پر جادو سحر  یا غلط تعویذ  کرے تو وہ مرد یا عورت دین سے خارج ہوجاتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

2۔اگر لازمی ایمان سے خارج ہوتا ہے تو یہی مرد یا عورت اس وقت نکاح میں ہوں تو ان کا نکاح ٹوٹ جاتا یا  نہیں؟

3۔اور اگر نکاح بھی ٹوٹ گیا  تو عورت واپس اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کیسے کرے گی؟ پہلے حلالہ کرے گی  یا ویسے صرف تجدید نکاح  کرے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ یہ بات علی الاطلاق (عام حالات میں ) تو درست نہیں البتہ بعض مخصوص صورتوں میں   درست ہوسکتی ہے اس لیے کسی خاص مرد یا خاص عورت کے بارے میں مسئلہ معلوم کرنا ہو تو اس کے جادو وغیرہ کی پوری تفصیل بتاکر مسئلہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

2۔اگر مرد ایمان سے خارج ہو جائے تو نکاح ٹوٹ جائے گا اور اگر عورت ایمان سے خارج ہوجائے تو راجح قول کے مطابق  عورت اپنے شوہر کے نکاح سے خارج نہ ہوگی تاہم دیگر اقوال کے پیشِ نظر شوہر  پر تجدید نکاح لازم ہوگا۔

3۔عام طریقہ سے تجدید نکاح ہوگی حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔

شرح فقہ الاکبر لملا علی قاری (ص:145) میں ہے:

فقد قال الشيخ ابو منصور الماتريدي: القول ‌بأن ‌السحر كفر على الإطلاق خطأ  بل يجب البحث عنه، فإن كان رد ما لزمه في شرط الإيمان فهو كفر وإلا فلا.

الدر المختار مع ردالمحتار(6/387) میں ہے:

‌وليس ‌للمرتدة ‌التزوج بغير زوجها به يفتى

قوله: ‌(وليس ‌للمرتدة ‌التزوج بغير زوجها)…….. وقد أفتى الدبوسي والصفار وبعض أهل سمرقند ‌بعدم ‌وقوع ‌الفرقة ‌بالردة ردا عليها، وغيرهم مشوا على الظاهر ولكن حكموا بجبرها على تجديد النكاح مع الزوج.

الدر المختار مع ردالمحتار (4/363) ميں  ہے:

وتجبر ‌على ‌الاسلام وعلى تجديد النكاح زجرا لها بمهر يسير كدينار………. وأفتى مشايخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجرا وتيسيرا ………. قال في النهر: والافتاء بهذا أولى من الافتاء بما في النوادر.

قوله: (‌وعلى ‌تجديد ‌النكاح) ‌فلكل قاض أن يجدده بمهر يسير ولو بدينار رضيت أم لا وتمنع من التزوج بغيره بعد إسلامها

مجمع الانہر (2/501) میں ہے:

‌فما ‌يكون ‌كفرا ‌بالاتفاق يوجب إحباط العمل كما في المرتد وتلزم إعادة الحج إن كان قد حج ويكون وطؤه حينئذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد الزنا ثم إن أتى بكلمة الشهادة على وجه العادة لم ينفعه ما لم يرجع عما قاله لأنه بالإتيان بكلمة الشهادة لا يرتفع الكفر وما كان في كونه كفرااختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطا وما كان خطأ من الألفاظ لا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، هذا إذا تكلم الزوج فإن تكلمت الزوجة ففيه اختلاف في إفساد النكاح وعامة علماء بخارى على إفساده لكن يجبر على النكاح ولو بدينار وهذا بغير الطلاق.

شامی (4/362) میں ہے:

قوله: (فلا ينقص عددا) ‌فلو ‌ارتد ‌مرارا وجدد الإسلام في كل مرة وجدد النكاح على قول أبي حنيفة تحل امرأته من غير إصابةزوج ثان بحر عن الخانية.

حیلۂ  ناجزہ (ص:118) میں ہے:

حاصل : یہ ہے کہ عورت اگر مرتد ہو جائے تو اس کے نکاح کے بارے میں حنفیہ کے تین قول ہوئے:

ایک: یہ کہ نکاح فسخ ہو جاتا ہے لیکن بعد تجدید اسلام اس کو تجدید نکاح پر مجبور کیا جائے گا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار نہ دیا جائے گا ( وهو ظاهر الرواية)

دوسرا :یہ کہ نکاح فسخ ہی نہ ہوگا بلکہ وہ دونوں بدستور زن و شوہرر ہیں گے۔

تیسرا : یہ کہ عورت کو کنیز بنا کر رکھا جائے گا۔

ان تینوں اقوال میں اگر چہ کچھ اختلاف ہے لیکن اتنی بات پر تینوں متفق ہیں کہ عورت کو کسی طرح یہ حق نہ دیا جائے گا کہ وہ اپنے پہلے خاوند کے نکاح سے علیحدہ ہو کر دوسری جگہ نکاح کرلے اس لیے یہ بات متفق علیہ ہو گئی کہ عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا ہر گز اختیار نہ ہوگا۔

اب ہندوستان میں بحالت موجودہ اس متفق علیہ حکم پر عمل کرنا پہلی روایت کو اختیار کرتے ہوئے غیر ممکن ہے کیوں کہ فسخ نکاح کا حکم دے دینے کے بعد پھر تجدید نکاح پر مجبور کرنے والی کوئی قوت مسلمانوں کے پاس موجود نہیں اور جہاں موجود ہوتی ہے وہاں بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس لیے پہلے قول یعنی ظاہر الروایۃ پر عمل کرنا ہندوستان میں بحالت موجودہ غیر ممکن ہو گیا کیوں کہ اس کے ایک جز پر عمل کرنا اگرچہ اختیار میں ہے لیکن دوسرا جز یعنی تجدید اسلام اور تجدید نکاح پر مجبور کرنا قطعاً اختیار میں نہیں ۔ اور نوادر کی روایت پر عمل کرنا تو ظاہر الروایہ سے بھی زیادہ مشکل بلکہ بحالت موجودہ غیر ممکن ہے۔ اس لیے اب بجز  اس کے کہ مشائخ بلخ وسمر قند کے قول کو اختیار کرکے اسی پر فتویٰ دیا جائے  کوئی چارہ  نہ رہا۔

خلاصہ فتوی: اس مجموعہ سے خلاصہ اس فتویٰ کا یہ حاصل ہوا کہ عورت بدستور سابق اسی خاوند کے قبضہ میں رہے گی کسی دوسرے شخص سے ہرگز نکاح جائز نہیں۔لیکن  جب تک تجدید اسلام کرکے تجدید نکاح نہ کرے اس وقت تک اس کے  ساتھ جماع اور دواعی جماع کو جائز نہ کہا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved