- فتوی نمبر: 35-31
- تاریخ: 26 جنوری 2026
استفتاء
نیٹ پر جامعہ دارا التقوی کی ویب سائٹ پر دو فتاوی موجود ہیں ، ان سے متعلق آپ حضرات سے کچھ معلومات لینی ہیں، فتوی کا عنوان ہے’’ شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کی بنیاد پر فسخ نکاح‘‘اور دوسرے کا عنوان ہے’’ ناچاقی اور بے جا مار پیٹ کی وجہ سے فسخ نکاح کا مطالبہ‘‘ ان فتاوی میں ترک جماع، مار پیٹ کے سبب عدالت کی طرف سے تنسیخ نکاح کا حکم جاری کرنے پر فتوی دیا ہے۔یعنی ان اسباب کی بنا پر تنسیخ نکاح جائز ہے ، جبکہ احناف کے ہاں تنسیخ نکاح کے اسباب میں یہ موجود نہیں، سوال یہ ہے کہ آپ حضرات کے ہاں سے ان اسباب کی وجہ سے تنسیخ نکاح کا فتوی کیوں دیا گیا ہے ، کیا مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب سے لیا ہے ؟ اگر لیا ہے تو کس مذہب سے، ان کے ہاں یہ اسباب کس کتاب میں پائے جاتے ہیں، یا یہ آپ حضرات کی اپنی تحقیق ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اول تو خود احناف کے نزدیک بھی بیوی کو ایک مرتبہ سے زیادہ مطالبہ جماع کا قانونی حق حاصل ہے یہ قول اگرچہ مرجوح ہے جیسا کہ ذیل میں دی گئی فتاوی شامی کی خط کشیدہ عبارات سے معلوم ہوتا ہے اور ضرورت کے پیشِ نظر مرجوح قول پر بھی فتویٰ دیا جاسکتا ہے۔ دوسرے ” اسلام کے عائلی قوانین ” ، “حیلہ ناجزہ ” اور “خیر الفتاوی ” کی مندرجہ ذیل خط کشیدہ عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ مالکیہ کے نزدیک ترک جماع کی وجہ سے بیوی عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کرواسکتی ہے اور بوقت ِ ضرورت مذہب ِ غیر پر فتوی دینا جائز ہے اسی لیے ہم نے بھی ضرورت کی وجہ سے مالکیہ کے مذہب پر فتوی دیا ہے ۔ اسی طرح مارپیٹ اور شوہر کے تشدد کرنے کی صورت میں بھی مالکیہ کے نزدیک بیوی کو خیار فسخ حاصل ہوتا ہے (یہ بات مالکیہ کی کتب میں موجود ہے ذیل میں ان کتب کی عبارت نقل کردی گئی ہیں )۔ اس مسئلہ میں بھی ضرورت کی وجہ سے ہم نے مالکیہ کے مذہب پر فتوی دیا ہے ۔فتاویٰ عثمانی میں بھی ضربِ شدید کو وجوہاتِ فسخ میں شمار کیا گیا ہے۔
فتاوی شامی (3/ 202) میں ہے :
«(قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.
ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة. قال في البحر: وحيث علم أن الوطء لا يدخل تحت القسم فهل هو واجب للزوجة وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اهـ.»
فتاویٰ شامی (4/377) میں ہے :
وسيأتي في باب الظهار أن على القاضي إلزام المظاهر بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس أو ضرب إلى أن يكفر أو يطلق وهذا ربما يؤيد القول المار بأنه تجب الزيادة عليه في الحكم فتأمل.
احکام القرآن لابن العربی المالکی (1/244) میں ہے:
قال علمائنا اذا امتنع من الوطئ قصدا للاضرار بالزوجة من غير عذر مرض او رضاع و ان لم يحلف كان حكمه حكم المولى و ترفعه الى الحاكم .
مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل (5/228)میں ہے:
(ولها التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما.
شرح الكبير للدردير مع حاشیۃ الدسوقی (2/345) میں ہے:
(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها….
حیلۂ ناجزہ (صفحہ 72 ) میں ہے:
زوجہ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کرلے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں :ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو۔اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگرچہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قوی اندیشہ ہو۔
خیر الفتاوی(4/581) میں ہے:
سوال:حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو یہ دستور بنایا تھا کہ مرد اپنی بیوی سے صرف چار ماہ علیحدہ رہ سکتا ہے کیا اس سے زیادہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ ائمہ میں سے کسی کا مذہب ہے یا نہیں؟
الجواب:بلا عذر چار ماہ سے زائد علیحدہ نہیں رہنا چاہیئے، مالکیہ کے ہاں اگر بقصد اضرار اتنی مدت بیوی سے علیحدہ رہا تو وہ بذریعہ عدالت نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔
اسلام کے عائلی قوانین (مصنفہ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب ) دفعہ (73) صفحہ 192 میں ہے:
شوہر کا حقوق زوجیت ادا نہ کرنا
ترک مجامعت اور بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا بھی تفریق کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، کیونکہ حقوق زوجیت کی ادائیگی واجب ہے۔ حقوق زوجیت ادا نہ کرنا اور بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا ظلم ہے، اور رفع ظلم قاضی کا فرض ہے، نیز مذکورہ صورت میں عورت کا معصیت میں مبتلا ہونا بھی ممکن ہے، قاضی کا فرض ہے کہ ایسے امکانات کو بند کر دے۔ اس لئے اگر عورت قاضی کے یہاں مذکورہ بالا شکایت کے ساتھ مرافعہ کرے تو قاضی تحقیق حال کے بعد لازمی طور پر رفع ظلم کرے گا اور معصیت سے محفوظ رکھنے کے مواقع پیدا کرے گا۔ مذہب مالکی میں بھی ترک مجامعت وجہ تفریق ہے۔
فتاوی عثمانی (2/470) میں ہے:
سوال:گزارش ہے کہ علمائے دین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں جو یہ ہے کہ فسخ نکاح کا فیصلہ عدالت نے کیا ہے، اس مسئلے میں ہمیں اطمینان دلایا جائے ، عین نوازش ہوگی۔
جواب : – منسلکہ فیصلہ احقر نے پڑھا، اس فیصلے میں شوہر کے ضرب شدید اور نا قابل برداشت جسمانی اذیت رسانی کی بنیاد پر مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرور سے فسخ کر دیا گیا، فسخ نکاح کی بنیاد مالکی مذہب کے مطابق درست ہے، اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، لہذا عدالت کے فیصلے کے بعد مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرور سے ختم ہو چکا ہے، اب وہ عدت پوری کرے، یعنی تین مرتبہ ایام ماہواری گزارنے کے بعد کہیں اور نکاح کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved