• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قبر پر بارش کی دعا والی روایت کی تحقیق

استفتاء

مفتی صاحب اس کی وضاحت کر دینا یہ حوالہ جات حضرت بلال بن حارث مزنی ؓ کے بارے میں کہ جب آپ ﷺ کی وفات کے بعد قبر مبارک پر گئے  اور عرض کی یا رسول اللہ آپ کی امت ہلاک ہونے  کے قریب ہے آپ بارش کی دعا کیجئے تو اس بارے میں کسی نے مجھے یہ حوالہ جات بھیجیں ہیں کہ یہ ٖضعیف ہے اس کی تصدیق کر دیں۔وہ حوالہ جات یہ ہیں:

1۔ الاستیعاب(امام ابن عبد البر) -جلد:1،صفحہ:106

2۔ اقتضاء الصراط المستقیم ( ابن تیمیہ) – صفحہ:338-339

3۔سیر اعلام النبلاء (امام ذہبی)- جلد :9،صفحہ :161-162

4۔التوسل (شیخ البانی)- صفحہ:136-137

5۔فتح الباری (ابن حجر عسقلانی)- جلد:2،صفحہ: 629-630

6۔البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)- جلد:7،صفحہ :105

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ جتنے بھی حوالہ جات بھیجے ہیں ہم نے ان کتابوں میں دیکھا تو سوائے شیخ البانی کے کسی نے اس واقعہ کو ضعیف نہیں کہا ،بلکہ حافظ ابن حجر ؒنے فتح الباری میں اور علامہ ابن کثیر ؒ نے البدایہ والنھایہ میں اس واقعہ کی سند کو صحیح کہا ہے اور ان دونوں حضرات کے مقابلہ میں شیخ البانی کی بات کا کوئی وزن نہیں۔

البدایہ والنہایہ لابن کثیر ،ت:۷۷۴ھ(7/74) میں ہے:

وقال الحافظ أبو بكر البيهقي: أخبرنا أبو نصر بن قتادة وأبو بكر الفارسي قالا: حدثنا أبو عمرو بن مطر، حدثنا إبراهيم بن علي الذهلي، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك قال: أصاب الناس قحط في زمان عمر بن الخطاب، فجاء رجل إلى قبر النبيﷺ فقال: يا رسول الله استسق الله لأمتك فإنهم قد هلكوا. فأتاه رسول الله، صلى الله عليه وسلم، في المنام، فقال: ” ائت عمر فأقرئه مني السلام وأخبره أنكم مسقون، وقل له عليك الكيس الكيس “. فأتى الرجل فأخبر عمر فقال: يا رب ما آلو إلا ما عجزت عنه. وهذا إسناد صحيح۔

فتح الباری لابن حجر عسقلانی  ،ت:۸۵۲ھ(2/629) میں ہے:

روى بن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الداري وكان خازن عمر قال أصاب الناس قحط في زمن عمر فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا فأتى الرجل في المنام فقيل له ائت عمر الحديث۔ وقد روى سيف في الفتوح أن الذي رأى المنام المذكور هو بلال بن الحارث المزني أحد الصحابة۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved