- فتوی نمبر: 32-151
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
بسر بن یسار سے روایت ہے کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں ابو جہیم ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی (نمازی) کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے؟تو ابو جہیم ؓ نے کہا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:اگر مصلی (نمازی) کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا (گناہ) ہے تو اس کے لیے مصلی(نمازی) کے آگے سے گزرنے سے چالیس ……. تک کھڑا رہنا بہتر ہوگا۔ابو نضر سالم کہتے ہیں:مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا،یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال کہا ۔
عرض ہے کہ آیا یہ حدیث صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث صحیح ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے ۔
صحیح بخاری(ج:1،ص:374،رقم الحدیث:510)اور صحیح مسلم(ج:1،ص:405،رقم الحدیث:1133) میں ہے:
حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن أبي النضر، مولى عمر بن عبيد الله، عن بسر بن سعيد: أن زيد بن خالد أرسله إلى أبي جهيم، يسأله: ماذا سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدي المصلي؟ فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه”. قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved