• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک حدیث کی تحقیق

استفتاء

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے ذکر کے لیے وقت نکالو میں تمہارے کاموں میں برکت عطاء کروں گا ورنہ دنیاوی کاموں کی کثرت تم پر اس قدر مسلط کردوں گا کہ تمہیں فرصت  ہی نہ  ہوگی اور سکون سے محروم ہوگے۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ یعنی ٹھیک ہے ؟ اس  کے متعلق رہنمائی فرمائیں کہ اللہ نے کس ذکر کے بارے میں فرمایا ہے یعنی کونسا ذکر کرنا مطلوب ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ذکر  کے بارے میں تو ہمیں ایسی کوئی حدیث نہیں ملی البتہ عبادت کے بارے میں  ایک حدیث ہے  جو مندرجہ ذیل ہے اور یہ حدیث  سند کے لحاظ سے بھی ٹھیک ہے۔

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” إن الله تعالى يقول: يا ابن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك، وإلا تفعل ملأت ‌يديك ‌شغلا ولم أسد فقرك. هذا حديث حسن غريب. [سنن ترمذى، رقم الحديث:2466]

ترجمہ:حضرت ابوہریرہؓ  حضور اکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے اے ابن  آدم میری عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلے  میں تیرے  سینے کو غنا  سے بھر دوں گا اور تیرا  فقر دور کردوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو  مصروفیات سے  بھر دوں گا اور تیرا فقر زائل نہ  کروں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved