- فتوی نمبر: 34-375
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب تم ایسے ہوجاو کہ تمہارے غم بڑھ جائیں اور تم ان غموں کو ختم کرنا چاہو تو مجھ پر درود پڑھو۔
کیا یہ مستند ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ بات بعینہ تو نہیں ملتی البتہ ايک حدیث میں آتا ہے کہ جو درود شریف کااہتمام کرتا ہے اللہ پاک اس کی دنیا و آخرت کی پریشانیوں اور فکروں کو ختم فرمادیتے ہیں۔
ترمذی شریف حدیث (2625) میں ہے:
«عن الطفيل بن أبي بن كعب عن أبيه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذهب ثلثا الليل، قام فقال: “يا أيها الناس اذكروا الله، اذكروا الله، جاءت الراجفة تتبعها الرادفة، جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه”، قال أبي: قلت: يا رسول الله، إني أكثر الصلاة عليك، فكم أجعل لك من صلاتي؟ فقال: “ما شئت”. قلت: الربع، قال: “ما شئت، فإن زدت فهو خير”، قلت: فالنصف قال: “ما شئت، فإن زدت فهو خير”، قال: قلت: فالثلثين، قال: “ما شئت، فإن زدت، فهو خير”، قلت: أجعل لك صلاتي كلها قال: “إذا تكفى همك، ويغفر لك ذنبك”.
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ سال ﷺ پر درود زیادہ بھیجا کروں آپ ﷺ مجھے بتا دیجئے کہ اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ ﷺ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں ؟ (یعنی میں اپنے لئے دعا کرنے میں جو وقت صرف کیا کرتا ہوں اس میں سے کتنا آپ ﷺ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں ) آپ نے فرمایا : جتنا چاہو۔ میں نے عرض کیا کہ : میں اس وقت کا چوتھائی حصہ آپ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں گا ۔ آپ ﷺنے فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ : تو پھر میں آدھا وقت اس کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپ ﷺنے فرمایا جتنا چاہو اور اگر اور زیادہ کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ : تو پھر میں اس میں سے دو تہائی وقت آپ ﷺپر درود کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپﷺ نے فرمایا جتنا تم چاہو کر دو، اور اگر زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے خیر ہی کا باعث ہوگا۔ میں نے عرض کیا: پھر تو میں اپنی دعا کا سارا ہی وقتﷺپر درود کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی جائے گی اور تمہارے گناہ و قصور معاف کردیے جائیں گے۔
القول البدیع للسخاوی(218) میں ہے:
فقد علمت أنك إن جعلت الصلاة على نبيك معظم عبادتك كفاك الله هم دنياك وآخرتك……
وأما الصلاة عليه عند الهم والشدائد والكرب فعن أبي فيه حديث تقدم في الباب الثاني
جلاء الافہام فی فضل الصلاۃ علی محمد خیر الانام لابن القیم الجوزیۃ(ص408) میں ہے:
الموطن الحادي والعشرون من مواطن الصلاة عليه صلى الله عليه وسلم عند الهم والشدائد وطلب المغفرة لحديث الطفيل بن أبي بن كعب عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذهب ثلثا الليل قام فقال يا أيها الناس اذكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه قال أبي قلت يا رسول الله إني أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي…الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved