- فتوی نمبر: 13-318
- تاریخ: 24 مارچ 2019
- عنوانات: اہم سوالات
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب میں ایک سکو ل میں پڑھاتا ہوں اگر بچے کو سبق نہیں آتا تو کیا میں اسے سزا دینے کا مجاز ہوں یانہیں ؟سزا سے مراد کچھ تھپڑ یا لاٹھی سے تھوڑا بہت مارلینا۔
اگر والدین کی طرف سے دلی اجازت ہو اور قانونا منع نہ ہو تو سبق یاد نہ ہونے پر بچوں کو سزادی جاسکتی ہے لیکن اس میں مندرجہ ذیل امور کا خیا ل ہو:
(۱)نابالغ بچوں کو لاٹھی سے نہ مارا جائے ۔(۲)دوتین تھپڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے۔(۳)چہرے پر نہ مارا جائے ۔(۴) اس طرح نہ مارا جائے کہ جسم پر نشانات پڑجا ئیں یا ہڈی ٹوٹ جائے۔
فتاوي شامي (97/6)ميں هے:
قوله ( ضربا فاحشا ) قيد به لأنه ليس له أن يضربها في التأديب ضربا فاحشا وهو الذي يکسر العظم أو يخرق الجلد أو يسوده کما في التاترخانية قال في البحر وصرحوا بأنه إذا ضربها بغير حق وجب عليه التعزير اه أي وإن لم يکن فاحشا۔۔
ردالمحتار (430/6):
أما المعلم فله ضربه لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب لمصلحته والمعلم يضربه بحکم الملک بتمليک أبيه لمصلحة التعليم وقيده الطرسوسي بأن يکون بغير آلة جارحة وبأن لا يزيد علي ثلاث ضربات ورده الناظم بأنه لا وجه له ويحتاج إلي نقل وأقره الشارح ۔قال الشرنبلالي والنقل في کتاب الصلاة يضرب الصغير باليد لا بالخشبة ولا يزيد علي ثلاث ضربات
وايضا فيه(7/2،6)
(هي فرض عين علي کل مکلف۔۔۔۔۔۔۔۔)( وإن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد لا بخشبة ) لحديث مروا أولادکم بالصلاة وهم أبناء تسع واضربوهم عليها وهم أبناء تسع واضربوهم عليها وهم أبناء عشر ۔قال الشامي في (قوله :بيد)قوله ( بيد ) أي ولا يجاوز الثلاث وکذلک المعلم ليس له أن يجاوزها قال عليه الصلاة والسلام لمرداس المعلم إياک أن تضرب فوق الثلاث فإنک إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منک ا هـ إسماعيل عن أحکام الصغار للأستروشني وظاهره أنه لا يضرب بالعصا في غير الصلاة أيضا قوله ( لا بخشبة ) أي عصا ومقتضي قوله بيد أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط أفاده ط ۔قوله ( لحديث الخ ) استدلال علي الضرب المطلق وأما کونه لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية المکلف ا هـ
فتاوی محمودیہ(128/14)میں ہے:
سوال: تعلیم وتربیت دونوں کے لیے بسااوقات تضریب کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا اس پر عنداللہ مواخذہ ہو گا؟
جواب: بقدر ضرورت ایک دو تین چپت تحمل کے موافق گردن اور کمر پر مانے کی گنجائش ہے لکڑی یا کوڑے یا جوتے وغیرہ سے اجازت نہیں ،حق سے زائد مارنے پر یہ بچے قیامت میں قصاص لیں گے۔ فقط
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
سوال: استاذ انپے شاگرد کو کتنا مار سکتا ہے کیا شریعت نے اس کی کوئی حدمقرر کی ہے؟ایک مولوی صاحب فرمارہے تھے کہ استاذ اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد نہیں مارسکتا اگر مارا تو یہ ظلم ہو گا ۔احقر کہتا ہے کہ اگر طالب علم تین چھڑی کھانے کے باوجود سبق یاد نہ کرتا ہو شرارت سے باز نہ آتا ہو تو اس صورت میں استاذ اگر اپنے شاگرد کو نیک نیتی سے اور اس کی خیر خواہی کی خاطر اور اس کی اصلاح کی خاطر اور اس کو سبق یاد ہونے کی خاطر اور طالب علم اپنی شرارت سے باز آنے کی خاطر اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد مار ے تو کیا یہ جوروظلم ہو گا؟
جواب: چھوٹے بچوں کو بغیر چھڑی وغیرہ کے صرف ہاتھ سے وہ بھی ان کے تحمل کے موافق تین چپت تک مار سکتا ہے وہ بھی سر اور چہرہ کو چھوڑ کر یعنی گردن اور کمر پر اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ورنہ بچے قیامت میں قصاص لیں گے ۔بچوں پر نرمی اور شفقت کی جائے اب پیٹنے کا دور تقریبا ختم ہو گیا اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے ۔بچے بے حیا اور نڈر ہوجاتے ہیں ۔مار کھانے کے عادی ہو کر یاد نہیں کرتے بلکہ اکثر تو پڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں
© Copyright 2024, All Rights Reserved