• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غلطی سے گستاخانہ مواد سینڈ کرنا

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزارش ہے کہ علی 21/9/18بروز جمعہ شام کے وقت فیس بک استعمال کررہے تھے تو اچانک ایک غلط مواد ان کے سامنے آیاجو کہ حضورﷺ اور حضرات صحابہ ؓ کے خلاف لکھا ہوا تھا میرے خاوند اس پوسٹ کا جواب دینے کے لیے اسے کاپی کررہے تھے کہ غلطی سے وہ ایک گروپ میں چلاگیا جس کا میرے خاوند کو انتہائی افسوس ہے جبکہ اس میں میرے خاوند کی اپنی کوئی رائے نہیں تھی انہوں نے اس وقت معافی نامہ بھی لکھ کے سینڈ کیا اور stamp paperپر ان کا حلفیہ بیان بھی ہے۔جو اس درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔جناب عالی نہ میں گستاخ رسول ہوں اور نہ میرے خاوند گستاخ رسول ہیں ہمارا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے ۔الحمد للہ ہم مسلمان ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیامیرے شوہر یہ سوال کاپی کرنے سے کافر ہو گئے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سائلہ کے شوہر نے جو مواد انٹرنیٹ سے کاپی کیا ہے وہ یقینا گستاخانہ مواد ہے اور بعض باتیں اس میں ایسی ہیں جو کفریہ ہیں ۔ سائلہ کے شوہر نے اگر واقعتا یہ مواد صرف اس لیے کاپی کیا تھا تاکہ وہ اس کا جواب دے اور غلطی سے وہ مواد واٹس ایپ گروپ پر سینڈ ہو گیا تو ایسا کرنے سے سائلہ کے شوہر کو گستاخ یا کافر کہنا جائز نہیں

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved