- فتوی نمبر: 14-86
- تاریخ: 22 جولائی 2019
- عنوانات: عقائد و نظریات > دعوت، تبلیغ، تصوف اور احسان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
1۔کیاتبلیغ میں وقت لگانے کے لیے بیگم سے پوچھنا اور اجازت لینی ضروری ہے ؟
2۔اور اگر وہ راضی نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔شوہر کے ذمے بیوی کے جو حقوق واجبہ ہیں ان کی ادائیگی کاانتظام کرلیا ہوتوتبلیغ میں وقت لگانے کے لیے بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ،جیسا کہ آدمی نے اگر حج پر جانا ہو اور اس کے ذمے دوسروں کے حقوق ہوں مثلا کسی کا قرضہ ہو تو جس کا قرضہ ہے یا تو اس سے جازت لے کر جائے اور یاقرضہ ادا کرکے جائے۔
2۔اگر بیوی اجازت نہ دے تو کیا کرنا چاہیے یہ ایک مشورے کی بات ہے جس کے لیے سائل کے اور اس کے گھروالوں کے ذاتی حالات کاعلم ہونا ضروری ہے جو کہ ہمیں حاصل نہیں ،لہذا اس بارے میں کوئی رائے دینے سے معذرت خواہ ہیں۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved