• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اہلحدیث حضرات کاتین طلاقوں کو ایک قرار دینا

  • فتوی نمبر: 4-110
  • تاریخ: 28 جولائی 2011

استفتاء

سوال یہ ہے کہ ایک شخص سسر کی نافرمانی کا بہانہ بنا کر اپنی بیوی کوٹیلی فون پر تین طلاقیں دیتا ہے۔ اور عدت گذرنے کے بعد عورت دوسری شادی کر لیتی ہے اور پھر دو سال بعد اس کا سابق خاوند طلاقیں دینے سے منکر ہو جاتا ہے۔ اس صورت  میں کیا عورت کو طلاق واقع ہوگئی ہے؟ اور اس کا دوسرا نکاح جائز ہے؟ جبکہ ایک اہلحدیث عالم دین کا کہنا ہے کہ وہ تین طلاقیں نہیں بلکہ ایک ہی تھی اور سابقہ خاوند کو رجوع کا حق ہے اور چاہے یہ رجوع بالذہن ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے دوسرا نکاح فسق ہے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بیان فرما دیں۔

نوٹ: سابقہ شوہر نے تین مرتبہ دہرایا تھا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں”۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب خاوند نے تین طلاقیں دی تھیں تو اس وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئی تھیں۔ عدت گذرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا درست تھا ۔ اہلحدیث عالم کا یہ کہنا کہ” وہ تین طلاقیں نہیں تھیں” غلط ہے، کیونکہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ کرام رحمہم اللہ اور تمام امت کا اتفاق ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved