• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک حدیث کی تحقیق

استفتاء

آسمان کے دروازے کھول دیے گئے

ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا؛

‌الله ‌أكبر ‌كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا

اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح  اللہ ہی کے لیے ہے، صبح وشام

نبی ﷺ نے پوچھا: فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے۔

(ابن عمر ؓ نے کہا: میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی اس کے بعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا) [صحیح مسلم:۱۳۵۸]

نماز میں یہ کلمات ثناء (یعنی سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك) کے بعد پڑھے جاسکتے ہیں۔

کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن ثناء کے بعد ان الفاظ کے پڑھنے  کا خود  رسول اللہﷺ  اور دیگر  صحابہ کرامؓ ، تابعینؒ، تبع تابعین  اور امت کا تعامل نہیں رہا  لہٰذا اس کو فرض نماز میں نہ پڑھا جائے۔البتہ  نفل نماز میں پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔

صحیح مسلم (1/1359) میں ہے:

عن ابن عمر، قال: بينما نحن نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قال رجل من القوم: ‌الله ‌أكبر ‌كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من القائل كلمة كذا وكذا؟» قال رجل من القوم: أنا، يا رسول الله قال: «عجبت لها، فتحت لها أبواب السماء» قال ابن عمر: «فما تركتهن منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك»

فتح الملہم (3/462) میں ہے:

قوله: قال ابن عمر رضى الله تعالى عنه فما تركتهن الخ  …….. هذا فعل صحابى لاتقوم به الحجة، فان التعامل فيه مفقود

مرقاۃ المفاتیح (2/499) میں ہے:

عن عائشة رضي الله عنها، قالت «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌إذا ‌افتتح ‌الصلاة قال: ” سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك»

ثم ينبغي الجمع ‌بين ‌أدعية ‌الافتتاح بأن يخص الفرائض بما ورد في هذا الحديث، ويقرأ في النفل بما شاء كما هو مختار مذهبنا

مسند السراج  ابو العباس محمد بن اسحاق النیسابوری ت:313(292)  میں ہے:

عن ابن عمر قال: كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم فجاء رجل فدخل في الصلاة وقال: ‌الله ‌أكبر ‌كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا

مصنف عبدالرزاق (2/76) میں ہے:

عن الهيثم بن حنش، أنه رأى ابن عمر وصلى معه إلى جنبه، فقال: ‌الله ‌أكبر ‌كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا

الدر المختار (ص:67) میں ہے:

(وقرأ) ‌كما ‌كبر (‌سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة (مقتصرا عليه) فلا يضم وجهت وجهي إلا في النافلة، ولا تفسد بقوله.(وأنا أول المسلمين)

حاشیہ ابن عابدین(1/488)میں ہے:

(قوله إلا في النافلة) ‌لحمل ‌ما ورد في الأخبار عليها فيقرؤه فيها إجماعا واختيار المتأخرين أنه يقوله قبل الافتتاح معراج. وفي المنية: وعندهما يقوله قبل الافتتاح يعني قبل النية ولا يقوله بعد النية بالإجماع. اهـ. لكن في الحلية: الحق أن قراءته قبل النية أو بعدها قبل التكبير لم تثبت عن النبي – صلى الله عليه وسلم – ولا عن أصحابه. اهـ. وفي الخزائن: وما ورد محمول على النافلة بعد الثناء في الأصح

لمعات التنقیح(2/563) میں ہے:

وما روي سوى ذلك فهو محمول على التهجد، ‌بل ‌مطلق ‌النوافل لما ثبت في (صحيح أبي عوانة) والنسائي: أنه -صلى اللَّه عليه وسلم- كان إذا قام يصلي تطوعًا قال: (اللَّه أكبر، وجهت وجهي. . . إلى آخره)

فتاویٰ حقانیہ (3/95) میں ہے:

سوال: احادیث کی کتابوں میں حضور انورﷺ سے تکبیر تحریمہ کے بعد بعض دعائیں مروی ہیں کیا یہ دعائیں فرائض وسنن سب میں پڑھی جاسکتی ہیں یا کہ صرف نوافل میں؟

جواب: اگرچہ احادیث مبارکہ میں حضور انورﷺ سےنمازمیں مختلف مقامات پر ادعیہ منقول ہیں لیکن علماء احناف  نے یہ روایات نوافل میں پڑھنے پرمحمول کی ہیں اور یہ دعائیں نفلی نماز میں پڑھی جائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved