• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“اجعل لك صلاتي كلها” والی روایت کی تشریح

استفتاء

عن الطفيل بن أبي بن كعب، عن أبيه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذهب ثلثا الليل قام فقال: «يا أيها الناس اذكروا الله اذكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه»، قال أبي: قلت: يا رسول الله إني أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي؟ فقال: «ما شئت». قال: قلت: الربع، قال: «ما شئت فإن زدت فهو خير لك»، قلت: النصف، قال: «ما شئت، فإن زدت فهو خير لك»، قال: قلت: فالثلثين، قال: «ما شئت، فإن زدت فهو خير لك»، قلت: ‌أجعل ‌لك ‌صلاتي كلها قال: «إذا تكفى همك، ويغفر لك ذنبك»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ  کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ پر درود زیادہ بھیجا کروں آپ ﷺ مجھے بتا دیجئے کہ اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ ﷺ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں ؟ (یعنی میں اپنے لئے دعا کرنے میں جو وقت صرف کیا کرتا ہوں اس میں سے کتنا آپ ﷺ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں ) آپ نے فرمایا : جتنا چاہو۔ میں نے عرض کیا کہ  میں اس وقت کا چوتھائی حصہ آپ پر درود کے لئے مخصوص کر دوں گا ۔ آپ ﷺنے فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ  تو پھر میں آدھا وقت اس کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپ ﷺنے فرمایا جتنا چاہو اور اگر اور زیادہ کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ   تو پھر میں اس میں سے دو تہائی وقت آپ ﷺپر درود کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپﷺ نے فرمایا جتنا تم چاہو کر دو، اور اگر زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے خیر ہی کا باعث ہوگا۔ میں نے عرض کیا: پھر تو میں اپنی دعا کا سارا ہی وقت آپﷺپر درود کے لئے مخصوص کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفایت کی جائے گی اور تمہارے گناہ و قصور معاف کردیے جائیں گے۔

آج آپ کے واٹس ایپ چینل پر یہ حدیث ملی پہلے بھی یہ حدیث پڑھی اور سنی ہے لیکن بندہ تھوڑا کنفیوز ہے کیا آپ مہربانی فرما کر اس کی تشریح کر سکتے ہیں مثلاً جب بھی کوئی دعا کرنی ہو تو دعا کی نیت سے صرف درود شریف پڑھ لیا جائے۔؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ حدیث کا مطلب  یہ   ہے کہ  اگر کسی شخص نے  اپنی  دعا کے لئے کچھ اوقات مقرر کئے ہوئےہیں تو اگر وہ اس تمام وقت میں اپنے لئے دعا کے بجائے درود شریف پڑھتا رہے تو درود شریف کی برکت سے اللہ پاک  اس کے گناہ معاف کر دیں گے اور اس کی ضروریات پوری کردیں گے۔

مرقاۃ شرح مشکاۃ (2/ 746) میں ہے:

 (إني أكثر الصلاة عليك) ، أي: أريد إكثارها (فكم أجعل لك من صلاتي؟) ، أي: بدل دعائي الذي أدعو به لنفسي (فقال: ما شئت) ، أي: اجعل مقدار مشيئتك (قلت: الربع؟) : بضم الباء وتسكن، أي: أجعل ربع أوقات دعائي لنفسي مصروفا للصلاة عليك؟ ( «قال: ” ما شئت، فإن زدت فهو خير لك ” قلت: النصف؟ قال: ” ما شئت فإن زدت فهو خير لك ” قلت: فالثلثين؟» ) : بضم اللام وتسكن ( «قال: ما شئت فإن زدت فهو خير لك ” قلت: أجعل لك صلاتي كلها» ؟) ، أي: أصرف بصلاتي عليك جميع الزمن الذي كنت أدعو فيه لنفسي (قال: ” إذن “) …(” تكفى “) … (” همك “) :…

 قال الأبهري، أي: إذا صرفت جميع زمان دعائك في الصلاة علي كفيت ما يهمك اهـ.

…. قال التوربشتي: معنى الحديث كم أجعل لك من دعائي الذي أدعو به لنفسي؟ ولم يزل يفاوضه ليوقفه على حد من ذلك، ولم ير النبي صلى الله عليه وسلم أن يحد له ذلك لئلا تلتبس الفضيلة بالفريضة أولا، ثم لا يغلق عليه باب المزيد ثانيا، فلم يزل يجعل الأمر إليه داعيا لقرينة الترغيب والحث على المزيد، حتى قال: أجعل لك صلاتي كلها، أي: أصلي عليك بدل ما أدعو به لنفسي، فقال: ” إذا يكفى همك “، أي: أهمك من أمر دينك ودنياك، وذلك لأن الصلاة عليه مشتملة على ذكر الله، وتعظيم الرسول صلى الله عليه وسلم، والاشتغال بأداء حقه عن أداء مقاصد نفسه، وإيثاره بالدعاء على نفسه ما أعظمه من خلال جليلة الأخطار وأعمال كريمة الآثار.

لمعات شرح مشکاۃ (3/ 68) میں ہے:

وقوله: (إذا يكفى همك) بصيغة المجهول بالياء التحتانية ورفع (همك)، أو الفوقانية ونصب (همك) بأنه مفعول ثان ل(يكفي) أي: إذا صرفت جميع أزمان دعائك في الصلاة علي؛ كفيت ما يهمك من أمور دنياك وآخرتك، على قياس (من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين)، وقوله تعالى: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب}، فمن كان لله ورسوله كان الله ورسوله له، جعلنا الله منهم.

قال بعضهم: لما صرف العبد سؤاله وطلبه ورغبته في محاب الله ورسوله، وآثره على محاب نفسه، لا جرم استحق جزاء كاملا، وفضلا مخصوصا، ويغنيه عن التشبث بأسباب ذلك، وهذه نكتة غريبة في قضاء حوائج العبد وكفاية مهماته لاشتغاله بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، فافهم.

القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع للسخاویؒ (ص144):

الفصل الرابع: في معنى ‌إني ‌أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي

قوله ‌أني ‌أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي معناه أكثر الدعاء فكم أجعل لك من دعائي صلاة عليك؟ وقد صرحت الرواية الأخرى بذلك كما قدمناه وقيل المراد الصلاة حقيقة والمراد نفسي ثوابها أو مثل ثوابها. قال بعض شراح المصابيح الصلاة هنا بمعنى الدعاء والورد ومعناه أن لي زماناً أدعو فيه لنفسي فكم أصرف من ذلك الزمان للصلاة عليك فلم ير صلى الله عليه وسلم أن يعين له في ذلك حدا لئلا يغلق عليه باب المزيد فلم يزل يفوض الإختيار إليه مع مراعاة الحث على المزيد حتى قال أجعل لك صلاتي كلها أي أصلي عليك بدل ما أدعو به لنفسي فقال إذا يكفي همك أي ما أهمك من أمر دينك ودنياك، لأن الصلاة عليه مشتملة على ذكر الله تعالى وتعظيم الرسول صلى الله عليه وسلم وهي في المعنى إشارة له بالدعاء لنفسه كما في قوله صلى الله عليه وسلم حكاية عن ربه عز وجل من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطى السائلين، فقد علمت أنك إن جعلت الصلاة على نبيك معظم عبادتك كفاك الله هم دنياك وآخرتك.

فضائل درود شریف مولفہ حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ(ص:23)میں مذكوره حديث کے تحت  ہے:

ف۔مطلب تو واضح ہے ،وہ یہ کہ میں نے کچھ وقت اپنے لیے دعاؤں کا مقرر کر رکھا ہے اور چاہتا یہ ہوں کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کروں تو اپنے اس معین وقت میں سے درود شریف کے لیے کتنا وقت تجویز کروں مثلا میں نے اپنے اوراد کے لیے دو گھنٹے مقرر کر رکھے ہیں تو اس میں سے کتنا وقت درود شریف کے لیے تجویز کروں۔

علامہ سخاویؒ نے امام احمدؒ کی ایک روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں اپنے سارے وقت کو آپ پر درود کے لیے مقرر کر دوں تو کیسا؟حضورﷺ نے فرمایا ایسی صورت میں حق تعالی شانہ تیرے دنیا اور آخرت کے سارے فکروں کی کفایت فرمائے گا۔علامہ سخاویؒ نے متعدد صحابہ سے اسی قسم کا مضمون نقل کیا ہے اس میں کوئی اشکال نہیں کہ متعدد صحابہ کرام نے اس قسم کی درخواستیں کی ہوں۔

علامہ سخاویؒ کہتے ہیں کہ درود شریف چونکہ اللہ کے ذکر پر اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم پر مشتمل ہے تو حقیقت میں یہ ایسا ہی ہے جیسا دوسری حدیث میں اللہ جل شانہ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جس کو میرا ذکر مجھ سے دعا مانگنے میں مانع ہو یعنی کثرت ذکر کی وجہ سے دعا کا وقت نہ ملے تو میں اس کو دعا مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved