• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اکٹھی تین طلاقیں دینے سے گناہ ہوگا یا نہیں؟

  • فتوی نمبر: 30-364
  • تاریخ: 28 جون 2023

استفتاء

مفتی صاحب میری شادی ہوئی تو میری بیوی پہلے تو میرے ساتھ ٹھیک چل رہی تھی لیکن  کچھ عرصہ بعد مجھ سے اور میرے گھر والوں  سے چھوٹی چھوٹی باتوں میں جھگڑا کرنے لگی اس کے ساتھ ساتھ مجھ سے اس نے کئی مرتبہ طلاق کا مطالبہ بھی کیا ایک مرتبہ میں گھر سے باہر تھا تو اس کا گھر والوں کے ساتھ  جھگڑا ہوا اس نے گھر والوں کو دھمکی دی کہ میں تم سب کو زہر دے کر مار دوں گی گھر والوں نے مجھے فون کیا میری بات کروائی وہ مجھے بھی دھمکی دینے لگی برا بھلا کہا مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے تین طلاقیں دے دیں  اور اس کے گھر والوں کو بلایا اور گھر والوں کے ساتھ اسے بھیج دیا اب پوچھنا یہ تھا کہ کیا میں اس معاملے میں گنہگار ہوں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ گنہگار ہیں۔

تو جیہ :مذکورہ صورت میں اگرچہ بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ اور اذیت موجود ہے لیکن شوہر کو چاہیے تھا کہ وہ طلاق دینے کے بہترین طریقہ کو نہ چھوڑتا یعنی  ایک طہر میں ایک طلاق دیتا تو ہو سکتا تھا  کہ بیوی کو تنبیہ ہو جاتی اور وہ اپنی بری عادت سے  باز آجاتی اور  توبہ کر لیتی لیکن پھر بھی اگر ضرورت محسوس ہوتی تو دوسری طلاق پھر اسی طرح تیسری طلاق دیتا جبکہ شوہر نے طلاق کے بہترین طریقہ کو چھوڑ دیا اور ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیں جوکہ ممنوع تھیں لہٰذا اس ممنوع فعل کے ارتکاب کی وجہ سے شوہر گناہگار ہوا ہے۔

بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع» (3/ 95) میں ہے:

«والثاني أن النكاح عقد مسنون ‌بل ‌هو ‌واجب لما ذكرنا في كتاب النكاح فكان الطلاق قطعا للسنة وتفويتا للواجب فكان الأصل هو الحظر والكراهة إلا أنه رخص للتأديب أو للتخليص والتأديب يحصل بالطلقة الواحدة الرجعية لأن التباين أو الفساد إذا كان من قبلها فإذا ذاقت مرارة الفراق فالظاهر أنها تتأدب وتتوب وتعود إلى الموافقة والصلاح، والتخليص يحصل بالثلاث في ثلاثة أطهار والثابت بالرخصة يكون ثابتا بطريق الضرورة، وحق الضرورة صار مقضيا بما ذكرنا فلا ضرورة إلى الجمع بين الثلاث في طهر واحد فبقي ذلك على أصل الحظر»

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (4/423) میں ہے:

«(‌والبدعي ‌ثلاث متفرقة) أو اثنتان بمرة أو مرتين(قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر…………………………فقط والله تعالى اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved