• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“اے اللہ یہ مصیبت یا پریشانی آپ نے مجھے ہی دینی تھی” کہنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شادی شدہ شخص پر کوئی مصیبت یا پریشانی آئے اور وہ یوں کہے کہ “اے اللہ یہ مصیبت یا پریشانی آپ نے مجھے ہی دینی تھی” اس طرح کا جملہ کہنے والے شخص کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں یہ الفاظ  “اے اللہ یہ مصیبت یا پریشانی آپ نے مجھے ہی دینی تھی” کہنے والے پر لازم ہے کہ وہ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ایسے الفاظ بولنے سے اجتناب کرے اور احتیاطاً  تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرلے۔

تو جیہ: چونکہ کلمات کفر کے بارے میں فقہائے کرام نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی کلمہ میں 99 احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال ایمان کا نکلتا ہو تو ایسے کلمات کہنے والے پر کفر کا حکم نہ لگائیں گے  اس لیے مذکورہ کلمات کی وجہ سے قائل پر کفر کا حکم نہ لگائیں گے البتہ مذکورہ کلمات سخت گناہ اور بے احتیاطی کے کلمات ہیں اس لیے توبہ لازم ہےاور احتیاطاً  تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرے۔

الدر المختار مع ردالمحتار (4/229) میں ہے:

(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم ‌أمكن ‌حمل ‌كلامه ‌على ‌محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة)

(قوله لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ظاهره أنه لا يفتى به ‌من ‌حيث ‌استحقاقه للقتل ولا من حيث الحكم ببينونة زوجته. وقد يقال: المراد الأول فقط، لأن تأويل كلامه للتباعد عن قتل المسلم بأن يكون قصد ذلك التأويل، وهذا لا ينافي معاملته بظاهر كلامه فيما هو حق العبد وهو طلاق الزوجة وملكها لنفسها، بدليل ما صرحوا به من أنهم إذا أراد أن يتكلم بكلمة مباحة فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بلا قصد لا يصدقه القاضي وإن كان لا يكفر فيما بينه وبين ربه تعالى ……. وما ‌فيه ‌خلاف ‌يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط

العقود الدریۃ (101/1) میں ہے:

وأما الجاهل ‌إذا ‌تكلم ‌بكلمة الكفر ولم يدر أنها كفر قال بعضهم لا يكون كفرا ويعذر بالجهل وقال بعضهم يصير كافرا بذلك ومن أتى بلفظة الكفر وهو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض ولا يعذر بالجهل أما إذا أراد أن يتكلم فجرى على لسانه كلمة الكفر والعياذ بالله تعالى من غير قصد لا يكفر كما صرح بذلك في الخلاصة

فتاوی دارالعلوم دیوبند (18/284)میں ہے:

سوال: زید اپنی بیوی ہندہ سے کسی معاملے میں گفتگو کر رہا تھا چونکہ زید بطور زجر و تنبیہ کے باتیں کر رہا تھا لہذا ہندہ کو تلخ معلوم ہونے لگا اور ہندہ جواب میں کچھ واہی باتیں کرنے لگی ہندہ کے جملوں میں سے زید نے کسی جملہ ناگوار کو دہرایا جس کا ہندہ انکار کرنے لگی کہ میں نے اس طرح نہیں کہا اور نہ میری نیت تھی اس پر زید نے پھر زور دے کر کہا کہ تو نے برابر ایسا ہی کہا اس پر ہندہ نے کہا خدائی ظلم ان الفاظ کے کہنے سے اس کی نیت خدا کا ظلم کی نہیں تھی بلکہ زید کی سختی کی طرف رجوع ہو کر اس کی یہ بتلانے کی نیت تھی یہ کیسا ظلم ہے؟ یہ اشارہ زید کی طرف تھا آیا یہ الفاظ کہنے سے کفر عائد ہوتا ہے یا نہیں؟

الجواب: الفاظ مذکورہ میں چونکہ تاویل ممکن ہے اور قائلہ کا مطلب نسبت ظلم الی اللہ تعالی بھی نہیں تھا اس لیے حکم کفر کا صورت مذکورہ میں نہ کیا جائے گا اور احتیاطاً اگر تجدید نکاح وتوبہ کی جائے تو یہ اچھا ہے۔

کفایت المفتی (1/50) میں ہے:

سوال:زید نے فرط غم اور انتہائی صدمہ کی حالت میں مثلاً کسی کی موت یا کسی چیز کے فوت ہونے  پر کہا یا اللہ تو نے بڑا ظلم کیا۔ زید کی دماغی حالت متعدد اولادوں کے فوت ہونے، بال بچوں کی علالت اورتیمارداری، اپنوں اور غیروں کی بدسلوکی و ایذاء رسانی و کثرت صدمات سے اچھی نہ تھی۔ بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات تو اس وقت کی حالت پر غور کرنے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ دماغ صحیح ہی نہ تھا ۔ لیکن بعض اوقات یہ خیال ہوتا ہے کہ بے اختیار محض تونہ تھا کہ ان کلمات کا حسن و قبح نہ سمجھتا  ہو اور اکل و شرب و حوائج و ضروریات سے بے خبر ہو ۔

ہاں سالہا سال کے متواتر صدمات و ہموم و غموم و افکار و ترددات اور ناقابل برداشت پریشانیوں اور اس پر کسی صدمہ عظیم کا باریکبارگی دماغ پر پڑجانے سے ایک مغلوبیت کی حالت تھی ۔ بہر حال زید کی حالت ایک عجیب شش و پنج اور حیص بیص کی حالت ہے کہ وہ پورے طور سے یہ بھی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ دماغی حالت درست بھی تھی یا نہیں۔ اور بحالت موجودہ بھی دماغی امرا ض و عوارض میں مبتلا رہتا ہے اور دوا علاج کرتا رہتا ہے ۔ لہذا ایسی حالت میں زید پر کفر لازم آتا ہے یا نہیں اور اس کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ حالت اوائل غم میں ایک بار اور تجدید نکاح کی تھی یہ تو ہے کہ کوئی معاملہ طلاق وغیرہ کا نہ تھا نہ کوئی ایسا لفظ زبان سے نکالا تھا اور الفاظ کفر یہ ہی کی بنا یا شبہ پر تھا یا احتیاطاً تھا اور کوئی واقعہ یاد نہیں ۔ پس ایسی حالت میں زید کا نکاح درست ہے  یانہیں ۔ اور تجدید نکاح کرے یا نہیں ؟

جواب: اگر اس کی دماغی حالت درست نہ ہو ۔ معتوہ مغلوب العقل کی حالت ہو تو کفر عائد نہیں احتیاط یہی ہے کہ توبہ کرے اور تجدید نکاح کرے۔ اگر پہلے تجدید نکاح اسی بنا پر یعنی شبہ کفر کی بناء پر ہوچکی ہوتا ہم اب پھر تجدید جائز ہے اور احوط ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved