- فتوی نمبر: 31-259
- تاریخ: 29 دسمبر 2025
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔تیری مرضی ہے اس کی حفاظت کرے یا اسے چھوڑ دے۔
جناب محترم اس حدیث مبارکہ کو تفصیلا بیان فرما دیجیئے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ حدیث سنن ترمذی (رقم الحدیث 1895) اور سنن ابن ماجہ (رقم الحدیث 3663) وغیرہ میں موجود ہے۔مکمل حدیث یوں ہے کہ ایک شخص حضرت ابو درداء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اسکو طلاق دینے کا کہتی ہے تو میں کیا کروں؟ (ابن ابی عمر فرماتے ہیں راوی کو یہاں شک ہے کبھی وہ ماں کا کہتے تھے اور کبھی باپ کا کہتے تھے) تو حضرت ابو درداء ؓ نے اس شخص کو یہ حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے چاہے اسکی حفاظت کر یا اسکی حفاظت نہ کر۔
أوسط أبواب الجنة سے مراد یہ ہے کہ والد جنت میں لے جانے کا بہترین دروازہ ہے کہ والد کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا انسان کو جنت کے درمیانی دروازے سے داخل کرنے کا سبب ہے ۔نیز جس طرح مذکورہ فضیلت والد کو حاصل ہے تو والدہ بدرجہ اولیٰ اس کی مستحق ہیں کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔
جامع الترمذی (2/831 رقم الحدیث 1895)میں ہے:
عن ابی الدرداء قال:إن رجلا أتاه فقال:إن لی امرأة، وإن أمي تأمرني بطلاقها،فقال أبو الدرداء:سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم یقول:”الوالد أوسط أبواب الجنة، فأضع ذلك الباب أو احفظه” وقال ابن ابي عمر ربما قال سفيان: ان امي وربما قال: أبى
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 147) میں ہے:
«فالمراد بالوالد الجنس، أو إذا كان حكم الوالد هذا فحكم الوالدة أقوى وبالاعتبار أولى»
قوت المغتذی (ص831) میں ہے :
قوله: أوسط أبواب الجنة: قال أبو موسی المدیني:أي خیرها یقال: هو من أوسط قومه” أي من خیارهم قال العراقي:معناہ أن بره مؤد إلی دخول الجنة من أوسط أبوابها۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved