• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بغیر گٹھلی والی کھجور اور یہودی کے ایمان لانے والی روایت کی تحقیق

استفتاء

ایک بار ایک شریر یہودی نےمحض شرارت میں  حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں کھجور کی ایک گٹھلی پیش کی اوریہ شرط رکھتے ہوئے  کہا کہ اگرآپ آج اس گٹھلی کو مٹی اور پانی کے نیچے دبا دیں اور کل یہ ایسا تناور کھجور کا درخت بن کر زمین پر لہلہانے لگے جس میں پھل یعنی کھجوریں بھی پیدا ہوجائیں تو میں آپکی تعلیمات پر ایمان لے آؤں گا  گویا مسلمان ہو جاؤں گا۔

رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے اسکی یہ شرط تسلیم کرلی اور ایک جگہ جاکر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس گٹھلی کو مٹی کے نیچے دبا دیا اور اس پر پانی ڈالا اور الله سبحانہ و تعالی سے دعا بھی کی اور وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔اس یہودی کو دنیاوی اصولوں کی کسوٹی پر یقین کامل تھا کہ ایک دن میں کسی طرح بھی کھجور کا درخت تیار نہیں ہو سکتا تھا لیکن رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس کی روحانیت اور آپ کا اعتماد اسکے دل میں کھٹک اور خدشہ ضرور پیدا کر رہا تھا کہ کہیں کل ایسا ہو ہی نہ جائے کہ کھجور کا درخت اُگ جائے اور اسے ایمان لانا پڑ جائے  اس نے اپنے اس وسوسہ کو دور کرنے کے لیے پھر دنیاوی اصولوں کی مدد لی اور شام کو اس مقام پر جا کر جہاں کھجور کی گٹھلی آقا ئےدو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے بوئی تھی اسکو وہاں سے نکال لیا اور خوشی خوشی واپس آ گیا کہ اب کھجور کا نکلنا تو درکنار ، کھجور کے درخت کا نکلنا ہی محال ہے  لَیکِن وہ نہیں جانتا تھا کہ جب معاملہ الله سبحانہ و تعالی اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم کے درمیان ہو تو دنیاوی اسباب بے معنی ہو جاتے ہیں ۔اگلے دن آقائے  دو جہاں صلی الله علیہ وسلم اور وہ یہودی مقام مقررہ پر پہنچے تو وہ یہودی یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ وہاں ایک تناور درخت کھجور کے گھچوں سے لدا کھڑا ہے ۔  اس یہودی نے جب اسکی کھجور کو کھایا تو اس میں گٹھلی نہیں تھی تو اسکے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اسکی گٹھلی کہاں ہے ۔

مرقوم ہے کہ اس موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” گٹھلی تو تم نے کل شام ہی نکال لی تھی اس لیے  گٹھلی تو کھجور میں نہیں ہے البتہ تمہاری خواہش کے مطابق کھجور کا درخت اور کھجور موجود ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی الله سبحانہ تعالی کے اذن سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس معجزے کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا ۔

کیا یہ واقعہ درست ہے ؟اور اس کو کسی دوسرے بھائی کیساتھ شئیر کرسکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ واقعہ ہمیں  کسی حدیث کی کتاب میں تلاش کے باوجود بھی نہیں ملا ، نہ معتبر کتبِ حدیث میں اور نہ ہی موضوعات میں لہذا جب تک یہ واقعہ کسی معتبر ذریعہ سے ثابت نہ ہو اس وقت تک اسے آگے شیئر نہیں کرنا چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved