• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

بغیر عذر کے سعی اور طواف سوار ہو کر کرنا

استفتاء

ایک شخص اپنے والدین کے ساتھ عمرہ پر گیا۔ اس کے والدین بوڑھے ہیں پیدل سعی و طواف نہیں کر سکتے۔ وہ شخص اپنے والدین کو لے کر رات دو بجے مسجد حرام پہنچا تھا اس لیے خود بھی تھکا ہوا تھا، جب وہ اپنے والدین کو طواف و سعی کرانے کے لیے الیکٹرک کار کی طرف گیا تو خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا (حالانکہ وہ پیدل طواف و سعی کر سکتا تھا اور والدین از خود بھی گاڑی چلا سکتے تھے)۔ اب وہ شخص واپس پاکستان آگیا ہے۔

1۔ تو کیا اس کا طواف و سعی ادا ہو گئے؟

2۔ اس پہ کوئی دم تو نہیں؟

3۔ اگر ہے تو کتنے دم ہوں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جو شخص عمرہ کا طواف اور سعی پیدل کر سکتا ہو اس کے لیے طواف اور سعی پیدل کرنا واجب ہے اور یہ دونوں واجب علیحدہ علیحدہ ہیں۔ جن کے بلا عذر چھوڑنے پر علیحدہ علیحدہ دم آتا ہے۔ لہذا آپ کا عمرہ تو ادا ہو گیا لیکن دو واجبات چھوڑنے کی وجہ سے دو دم ادا کرنے ہوں گے۔

مناسک ملا علی قاری (ص: 152) میں ہے:

(الرابع) أي من الواجبات (المشي فيه للقادر) ففي الفتح المشي واجب عندنا و علي هذا نص المشائخ ….. (فلو طاف) أي في طواف يجب المشي فيه (راكباً أو محمولاً أو زحفاً) أي على استه أو أربعته أو جنبه أو ظهره كالسطيح (بلا عذر فعليه الإعادة) أي ما دام بمكة (أو الدم) أي لتركه الواجب و إن كان أي تركه بعذر لا شيء عليه كما في سائر الواجبات.

أيضاً (ص: 178)

(و المشي فيه فإن سعى راكباً أو محمولاً أو زحفاً) أي بجميع أنواعه مما لا يطلق عليه أنه مشى (بغير عذر فعليه دم و لو بعذر فلا شيء عليه) و هذا واضح.

معلم الحجاج میں ہے:

واجبات طواف۔۔۔ جو شخص پیدل چلنے پر قادر ہو اس کو پیادہ طواف کرنا۔ (ص: 154)

پیدل سعی کرنا اگر کوئی عذر نہ ہو۔ اگر بلا عذر کے کوئی شخص سوار ہو کر سعی کرے گا تو دم واجب ہو گا۔ (183)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved