• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیماری یا مصیبت میں آزمائش والی حدیث کی تحقیق

استفتاء

حدیث کا مفہوم!

​​اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے:”تم میرے بندے کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ میں نے اسے جو آزمائش (بیماری یا مصیبت) دی ہے، اس پر وہ کیا کہتا ہے؟”فرشتے جا کر دیکھتے ہیں اور واپس آ کر عرض کرتے ہیں:”اے ہمارے رب! وہ (بیماری کی حالت میں بھی) تیری حمد اور تعریف کر رہا ہے اور تیرا شکر ادا کر رہا ہے۔”تب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:”تم اس بندے کے لیے لکھ لو کہ جب میں اسے اس کی بیماری سے صحت دوں گا، تو میں اسے (اس کے اعمال کے بدلے) اس سے بہتر گوشت دوں گا اور اس سے بہتر خون دوں گا (یعنی اس کا جسم زیادہ طاقتور ہو جائے گا)، اور جب میں اس کی روح قبض کروں گا، تو میں اسے بغیر حساب کے جنت میں داخل کروں گا۔”

مجھے یہ حدیث بمع حوالہ چاہیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ حدیث مؤطا امام مالک،(رقم الحديث:2711)  “باب ماجاء فی اجر المریض” ميں موجود ہے۔حديث كے الفاظ  یہ ہیں:

‌مالك ، عن ‌زيد بن أسلم ، عن ‌عطاء بن يسار ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « إذا مرض العبد بعث الله تبارك وتعالى إليه ملكين. فقال: انظرا ماذا يقول لعواده. فإن هو إذا جاؤه  حمد الله وأثنى عليه. رفعا ذلك إلى الله. وهو أعلم. فيقول: لعبدي علي، إن توفيته، أن أدخله الجنة. وإن أنا شفيته أن أبدله ‌لحما خيرا من لحمه، ودما خيرا من دمه. وأن أكفر عنه سيئاته »

ترجمہ: حضرت عطاء بن یسارؓ  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو  اللہ تعالی اس کے پاس دو فرشتے بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ اپنی عیادت کرنے والوں سے کیا کہتا ہے اگر وہ اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرتا ہے تو وہ فرشتے اسے اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی خوب جانتے ہیں پس اللہ تعالی فرماتے ہیں میرے بندے پر میرا حق ہے کہ میں اگر اسے وفات دے دوں تو میں اسے جنت میں داخل کروں اور اگر میں اسے شفا  عطا کروں تو اس کا گوشت اس کے گوشت سے بہتراور اس کا خون اس کے خون سے بہتر بناؤں اور اس کے گناہوں کو مٹا دوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved