• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ڈرانے دھمکانے کے طور پر طلاق دینا

  • فتوی نمبر: 6-284
  • تاریخ: 23 فروری 2014

استفتاء

میں *** ۔۔۔۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور قسم کھا کر یہ حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے اپنی*** جو کہ

میرے نکاح میں تھی محض ڈرانے کی نیت سے طلاق کا نوٹس بھجوایا تھا، اس سلسلے میں نہ تو میں نے کسی وکیل سے رابطہ کیا اور نہ ہی کسی دینی معلم سے راہنمائی حاصل کی۔ اور مزید یہ کہ میں اس حقیقت سے قطعاً طور پر لا علم تھا کہ بچے کی پیدائش کے چالیس دن کے اندر طلاق دینا حرام عمل ہے، یہ بات میرے علم میں نہیں تھی کہ ایک نوٹس میں تین عدد طلاقیں دینے سے اصل میں  طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ میں نے نوٹس کی عبارت لکھوا کر بغیر دینی اور قانونی نقطۂ نظر جانے اس پر دستخط کر دیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں ہیں اور نکاح ختم ہو گیا ہے اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ ہی رجوع ہو سکتا ہے اس مسئلے میں لا علمی عذر نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved