• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

درود ابراہیمی میں ہے “کما صلیت علی ابراهیم”کی وضاحت

استفتاء

سوال یہ ہے کہ درود ابراہیمی میں ہے “کما صلیت علی ابراهیم” ترجمہ: “ایسا درود بھیج جو آپ نے ابراہیم علیہ السلام پر بھیجا”  یہاں جو تشبیہ ہے اس کی وضاحت چاہیے  مطلب یہ ہے کہ  کیا اس تشبیہ کی وجہ سے  حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت حاصل ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر افضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ باقی رہی  یہ بات کہ مشبہ بہ  مشبہ سے افضل ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ جس کے ساتھ تشبیہ دی جائے وہ افضل  ہی ہو بلکہ بسا اوقات اس کے الٹ بھی ہو جاتا ہے مثلا اللہ تعالی کا ارشاد ہے “مثل نوره کمشکوة فيها مصباح ” (ترجمہ: اس کے نور کی مثال اس طاق  کی سی ہے جس میں چراغ  ہو) حالانکہ اللہ کے نور کو چراغوں کے نور کے ساتھ کیا مناسبت ہے۔

فضائل درود شریف(ص:33) میں ہے:

 ایک مشہور سوال کیا جاتا ہے کہ جب کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی  جاتی ہے مثلا یوں کہا جائے فلاں شخص حاتم طائی جیسا سخی ہے تو سخاوت میں حاتم کا زیادہ سخی ہونا معلوم ہوتا ہے اس وجہ سے اس حدیث پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درود کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے؟ اس کے بھی اوجز میں کئی جواب دیے گئے ہیں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں دس جواب دیے ہیں سب سے آسان جواب یہ ہے کہ قاعدہ اکثریہ تو وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن بسا اوقات بعض مصالح سے اس کے الٹ بھی ہوتا ہے جیسے قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد  “مثل نوره کمشکوة فيها مصباح ” ترجمہ: “اس کے نور کی مثال اس طاق  کی سی ہے جس میں چراغ  ہو” حالانکہ اللہ تعالی کے نور کو چراغوں کے نور کے ساتھ کیا  مناسبت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved