• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا ثابت ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فرائض کے بعددعاکرنا نبی ﷺ، صحابہ کرام ؓاورسلف صالحین ؒسے ثابت ہےاور دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے  اور  حضور  ﷺ سے بھی  دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔

المعجم الكبیر جلد 14،  صفحہ نمبر   266، حدیث نمبر 14907  ہے:

"حدثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد الله بن الزبير ورأى رجلاً رافعاً يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته”

ترجمہ:       (محمد بن یحیی اسلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن  زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا  ،انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ  وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کررہا تھا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو  حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب تک نماز سے فارغ نہ ہوتے  اس وقت تک (دعا کے لیے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے )

فرض نماز کے بعد دعا کرنا اور ایسی دعا کا مقبول ہونا احادیث میں وارد ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہرفرض پڑھنے والا اپنی نماز کے بعد دعا کرے۔ سنن الترمذی ، كتاب الدعوات عن رسول اللہ ﷺ،باب منہ حدیث نمبر 3499 ہے:

"عن ابي امامة، قال: قيل: يا رسول الله، اي الدعاء اسمع؟ قال: ” جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن”

ترجمہ:(ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ

نے فرمایا: آدھی رات کے آخر کی دعا  اور فرض نمازوں کے  بعد ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں  یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ان احادیث سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ آپ  ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگا کرتے تھے لیکن فرض نمازوں کے بعد جب آپ  ﷺہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے تھے تو اس وقت دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی اپنی دعائیں مانگتے تھے؟ یا آپ  ﷺ دعا مانگتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آمین آمین کہتے تھے؟ ان دونوں طریقوں میں سے نہ تو کسی ایک کی صراحت ہے اور نہ ہی کسی ایک کی نفی ہے اس لیے اصولاً تو یہ دونوں ہی طریقے درست ہیں اور کسی بھی ایک طریقے کو غلط یا بدعت نہیں کہہ سکتے۔ البتہ مندرجہ ذیل دلائل کی وجہ سے راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ  ﷺ نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے تھے تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بجائے اپنی اپنی دعاؤں میں لگنے کے آپ  ﷺ کی دعاؤں میں شریک ہو کر آپ  ﷺ کی دعاؤں پر آمین کہتے تھے۔ دلائل یہ ہیں:

1۔ دعا مانگنے کا یہ طریقہ (کہ ایک شخص دعا مانگے اور دوسرا اس دعا پر آمین کہے) بعض موقعوں میں خود آپ  ﷺ سے منقول ہے:

عن كعب بن عجرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احضروا المنبر فحضرنا فلما ارتقى درجة قال : آمين فلما ارتقى الدرجة الثانية قال : آمين فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال : آمين،  فلما نزل قلنا يا رسول الله لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه قال : إن جبريل عليه الصلاة و السلام عرض لي فقال : بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفر له قلت آمين فلما رقيت الثانية قال بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصلي عليك قلت آمين فلما رقيت الثالثة قال بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده فلم يدخلاه الجنة قلت آمين. (المستدرک للحاکم، رقم الحدیث: 7256)

ترجمہ:  ( حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ  ﷺنے فرمایا منبر کے قریب ہو جاؤ۔ ہم لوگ منبر کے قریب ہو گئے۔ جب آپ منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین اور جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ جب آپ (ہدایات دے کر فارغ ہوئے اور ) نیچے اترے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آج ہم نے آپ سے (منبر پر چڑھتے ہوئے) ایسی بات سنی جو پہلے نہیں سنتے تھے۔ آپ  ﷺنے فرمایا (جب میں نے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو) جبرئیل میرے سامنے آئے اور انہوں نے کہاہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان (کا مہینہ) پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہیں ہوئی ( اس پر) میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا (نام) ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے (اس پر بھی) میں نے کہا آمین ۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا کہ ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچیں اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں (اس پر بھی) میں نے کہا آمین(

2۔ دعا مانگنے کا یہ طریقہ (کہ ایک شخص دعا مانگے دوسرا آمین کہے) دعا کے قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ غزوۂ احد کے موقعہ پر حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے سعد! آؤ مل کر دعا کریں۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے موافق دعا کرے دوسرا آمین کہے کہ یہ قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے دونوں حضرات نے ایک کونے میں جا کر دعا کی۔ اول حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی …… اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہی اور اس کے بعد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی …… اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آمین کہی۔  (تاریخ خمیس بحوالہ حکایاتِ صحابہ، شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ)

3۔ مسلمانوں کا تسلسل کے ساتھ اس پر عمل چلا آ رہا ہے

4۔ بعض صحابہؓ سے فرضوں  کے بعد اجتماعی دعا ثابت بھی ہے ۔چنانچہ البدایۃ والنہایۃ  ،کتاب تاریخ الاسلام الاول، سنۃ احدی عشرۃ من الہجرۃ، ذکر ردۃ اہل البحرین و عودھم الی الاسلام (جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 245)پر ہے:

"۔۔۔۔ فنادى منادي العلاء فاجتمع الناس إليه، فقال: أيها الناس ألستم المسلمين ؟ ألستم في سبيل الله ؟ ألستم أنصار الله ؟ قالوا: بلى، قال: فأبشروا فوالله لا يخذل الله من كان في مثل حالكم،و نودي بصلاة الصبح حين طلع الفجر فصلى بالناس فلما قضى الصلاة جثا على ركبتيه وجثا الناس ونصب في الدعاء ورفع يديه وفعل الناس مثله حتى طلعت الشمس وجعل الناس ينظرون إلى سراب الشمس”

ترجمہ: (حضرت علاء ؓ کے منادی نے نداء کی تو لوگ آپؓ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ ؓ نے فرمایا: اے لوگوں کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ کیا تم اللہ کے رستہ میں نہیں ہو؟ کیا تم اللہ کے مددگار نہیں ہو؟ تو لوگوں نے جواب دیا : بالکل ہیں۔ تو آپؓ نے فرمایا پس بشارت قبول کرو اللہ تم جیسے لوگوں کو رسوا نہیں کرے گا۔اورجب صبح صادق ہو گئی تو فجر کی نماز کے لئے اذان دی گئی۔آپ (علاء بن حضرمیؓ) نے لوگوں (صحابہ و تابعین) کو نماز پڑھائی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ اور لوگ دو زانوں بیٹھ گئے، آپ دونوں  ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگے، لوگوں نے بھی آپ ہی کی طرح کیایہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا)

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved