- فتوی نمبر: 34-271
- تاریخ: 07 جنوری 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > ایمان اور کفر کے مسائل
استفتاء
فقہ کی بعض معتبر کتب میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی حرام کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔کیا یہ قول صحیح ہے یاشاذ ہے؟اگر صحیح ہے تو مقید ہے یامطلق ہے؟ مثلا قطعی حرام مراد ہے یا ظنی کا بھی یہی حکم ہے؟ نیز جانتے ہوئے کھانے اور نہ جانتے ہوئے کھانے کا ایک ہی حکم ہے یا الگ الگ حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ قول صحیح ہے شاذ نہیں ہے نیز یہ قول مقید ہے مطلق نہیں ہے اور قیودات یہ ہیں:
1۔ حرام قطعی ہو۔
2۔ حرمت لعینہ ٖ ہو۔
3۔ ضروریات دین میں سے ہو یعنی اس کے حرام ہونے کا خواص وعوم سب کو علم ہو۔
4۔ حرام پر بسم اللہ پڑھنے کو حلال سمجھے یعنی اگر حرام سمجھتے ہوئے پڑھے تو اگرچہ سخت گناہ ہوگا تاہم کافر نہ ہوگا۔
شرح الفقہ الاکبر (ص:169) میں ہے:
وفي التتمة من قال عند ابتداء شرب الخمر أو الزنا أو أكل الحرام بسم الله كفر وفيه أنه ينبغي أن يكون محمولا على الحرام المحض المتفق عليه وأن يكون عالما بنسبة التحريم إليه وبان تكون حرمته مما علم من الدين بالضرورة كشرب الخمر.
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:05) میں ہے:
والإتيان بالبسملة عمل يصدر من المكلف فلا بد أن يتصف بحكم فتارة يكون فرضا كما عند الذبح ………. وتارة يكون الإتيان بها حراما كما عند الزنا ووطء الحائض وشرب الخمر وأكل مغصوب أو مسروق قبل الإستحلال أو أداء الضمان والصحيح أنه إن استحل ذلك عند فعل المعصية كفر وإلا لا وتلزمه التوبة إلا إذا كان على وجه الاستخفاف فيكفر أيضا ………… واعلم أن المستحل لا يكفر إلا إذا كان المحرم حراما لعينه وثبتت حرمته بدليل قطعي وإلا فلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved