- فتوی نمبر: 33-14
- تاریخ: 27 مارچ 2025
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
ایک سوال ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے جن کی عمر نو سال تھی اتنی کم عمر میں نکاح کیوں کیا؟ ابھی وہ بالغ بھی نہیں ہوئی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت عائشہؓ کو شادی کے وقت یعنی 9 سال کی عمرمیں نابالغہ کہنا بلا دلیل ہے (جبکہ طبی اعتبار سے ایک بچی 9 سال کی عمر میں بالغہ ہوسکتی ہے)
باقی رہا یہ اعتراض کہ بالغہ ہونے کے باوجود اتنی کم عمری میں شادی کیوں کی گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رخصتی کا دارومدار عورت کی صحت پر ہوتا ہے، بالغہ ہونے کے باوجود کسی عورت کی صحت اجازت نہ دیتی ہو تو عدالت کے ذریعہ اس کی رخصتی رکوائی جاسکتی ہے۔ تاہم حضرت عائشہؓ کو رخصتی کے وقت کمزور سمجھنا بھی غلط ہے کیونکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے والدین نے 6 سال کی عمر میں ان کے نکاح کے بعد بطور ِخاص ان کی صحت کا خیال رکھا یہاں تک کہ 9 سال کی عمر میں صحت کے حوالے سے کوئی عذر نہ ہونے کی وجہ سے رخصتی کردی اور اس زمانے کے عرف میں بلوغت اور صحت کو دیکھتے ہوئے کم عمری میں شادی کرنا کوئی عیب کی بات بھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں حضورﷺ کے سخت ترین مخالفین مثلاً ابوجہل اور عبداللہ بن ابیّ وغیرہ سے بھی یہ بات بطو ر اعتراض نہیں ملتی۔
نیز رخصتی سے مقصود صرف ہمبستری نہیں ہوتی بلکہ اور بھی متعدد فائدے مقصود ہوتے ہیں، حضرت عائشہؓ کی کم عمری کی شادی کا فائدہ یہ ہوا کہ دینی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ حضرت عائشہؓ کے ذریعے سے محفوظ ہوا جو انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں حضورﷺ کے پاس رہ کر حاصل کیا۔
صحیح بخاری (رقم الحدیث:5133) میں ہے:
حدثنا محمد بن يوسف حدثنا سفيان عن هشام عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست سنين وأدخلت عليه وهي بنت تسع ومكثت عنده تسعا.
سننِ ترمذی(رقم الحدیث:288) میں ہے:
عن عائشة رضى الله عنهاقالت:إذا بلغت الجارية تسع سنين فهى امرأة.
بذل المجہود د فی حل سنن أبی داؤد (7/ 676) میں ہے:
وقال أحمد وإسحاق: إذا بلغت اليتيمة تسع سنين، فزوجت، فرضيت، فالنكاح جائز، ولا خيار لها إذا أدركت، واحتجا بحديث عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم بني بها وهي بنت تسع سنين، وقد قالت عائشة: إذا بلغت الجارية تسع سنين فهی امرأة، انتهى.
عمدۃ القاری(29/310) میں ہے:
واختلف العلماء في الوقت الذي تدخل فيه المرأة على زوجها إذا اختلف الزوج وأهل المرأة فقالت طائفة منهم أحمد وأبو عبيد يدخل وهي بنت تسع اتباعا لحديث عائشة وعن أبي حنيفة نأخذ بالتسع غير أنا نقول إن بلغت التسع ولم تقدر على الجماع كان لأهلها منعها وإن لم تبلغ التسع وقويت على الرجال لم يكن لهم منعها من زوجها وكان مالك يقول لا نفقة لصغيرة حتى تدرك أو تطيق الرجال وقال الشافعي إذا قاربت البلوغ وكانت جسيمة تحتمل الجماع فلزوجها أن يدخل بها وإلا منعها أهلها حتى تحتمله أي الجماع.
عمدۃالقاری(29/362) میں ہے:
( باب من بني بامرأة وهي بنت تسع سنين )
أي هذا باب في بيان من بني إلى آخر قيل لا فائدة في هذه الترجمة قلت بلى فيها فائدة وهي بيان أن من تزوج صغيرة ينبغي أن لا يبني إلا وقد تم عمرها تسع سنين لأن النبي الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم بني بعائشة وعمرها تسع سنين وهو الأصح وإن كان عند الفقهاء الاعتبار للطاقة فإن لم تطاق لا يبنى بها ولو كان عمرهاتسع سنين وإن أطاقت بأن كانت عبلة وعمرها ثمان سنين يبني بها.
المبسوط للسرخسی (4/ 389) میں ہے:
وفي الحديث دليل فضيلة عائشة رضي الله تعالى عنها فإنها كانت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم تسع سنين في بدء أمرها وقد أحرزت من الفضائل ما قال صلوات الله عليه: "تأخذون ثلثي دينكم من عائشة” وفيه دليل أن الصغيرة يجوز أن تزف إلى زوجها إذا كانت صالحة للرجال فإنها زفت إليه وهي بنت تسع سنين فكانت صغيرة في الظاهر وجاء في الحديث أنهم سمنوها فلما سمنت زفت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved