• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جبراً طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوانا

  • فتوی نمبر: 1-260
  • تاریخ: 30 ستمبر 2007

استفتاء

اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ ہے اس کو جبراً طلاق کے بارے میں کہا گیا اور اس بندے نے منہ سے طلاق کا اقرار نہیں کیا اور اس کا انگوٹھا صرف لگوایا گیا ہے اور شوہر کے اولیاء نے اس کو یہ کہا کہ یہ طلاق کا لفظ ہے اور شوہر خود پڑھا لکھا نہیں ہے اور جبراً انہوں نے یوں کہا کہ اگر تو نے طلاق نہ دی تو تجھے یا تیری بیوی کو قتل کر دیں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔

و في البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة و لا حاجة هنا كذا في الخانية. ( شامی: 4/ 428) فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved