• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کھجور سے سحری اور افطاری کرنا سنت ہے؟

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  (1)سحری اور افطاری کھجور سے کرنا سنت ہے یا نہیں ؟ (2)کھجور میں روزہ برداشت کرنے اور جسم کے لیے طاقت ہے  ،یہ بات درست ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)کھجور سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے ۔رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک کھجور سے روزہ  افطار کرنے کا تھا اور آپ ﷺ نے امت کو بھی کھجور سے افطار کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ نیز اس سحری کو مومن کی بہترین  سحری فرمایا ہے جس میں کھجور ہو۔ ۔(2) یہ بات کسی حدیث میں تو بیان نہیں کی گئی البتہ علماء نے  افطاری میں کھجور کی ترغیب دینے کی  ایک وجہ   بیان فرمائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افطار میں کھجور کھانے سے جسم کی طاقت بحال ہوجاتی ہے ۔وہ وجہ یہ ہے  کہ   روزہ رکھنے سے معدہ خالی رہتا ہے   جس کی وجہ سے جگر کو کوئی ایسی چیز میسر نہیں آتی جسے وہ معدہ سے جذب کرکے جسم کو توانائی پہنچادے اور کھجور میں  چونکہ مٹھاس بھی ہے اورغذائیت  بھی   اس لیے  کھجور کو جگر فوراً جذب کرتا ہے جس  سے  جسم کی   توانائی فورا بحال ہوجاتی ہے ۔

سنن أبي داود (رقم الحديث 2356) میں ہے :

 حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سيمان، أخبرنا ثابت البناني أنه سمع أنس بن مالك يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌يفطر ‌على ‌رطبات قبل أن يصلي، فإن لم تكن رطبات فعلى تمرات، فإن لم تكن تمرات حسا حسوات من ماء .

ترجمہ : حضرت انس بن مالک ؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نماز پڑھنے سے پہلے تر کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے  اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چھوہاروں سے افطار کرلیتے ۔ اگر چھوہارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے ۔

سنن أبي داود (رقم الحدیث 2355) میں ہے :

«- حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الأحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب عن سلمان بن عامر عمها، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إذا كان أحدكم صائما ‌فليفطر ‌على ‌التمر، فإن لم يجد التمر فعلى الماء، فإن الماء طهور”»

ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو کھجور سے افطار کرے اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی  پاکیزہ چیز ہے ۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1385):

وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إذا أفطر أحدكم فليفطر “) الأمر للندب ……. وقال ابن الملك: الأولى أن تحال علته إلى الشارع، وأما ما يجري في الخاطر وهو أن التمر حلو وقوت، والنفس قد تعبت بمرارة الجوع فأمر الشارع بإزالة هذا التعب بشيء هو قوت وحلو»

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1388) میں ہے :

«وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” ‌نعم ‌سحور المؤمن “بفتح السين لا غير ” التمر ” قال الطيبي: وإنما مدح التمر في هذا الوقت لأن في نفس السحور بركة، وتخصيصه بالتمر بركة، على بركة إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر، فإنه بركة، ليكون المبدوء به والمنتهى إليه البركة (رواه أبو دواد وصححه ابن حبان)»

احسن الفتاوی(4/446) میں ہے :

تازہ کھجور سے افطار مستحب ہے  وہ نہ ہو تو خشک کھجور سے وہ بھی نہ ہو توپانی سے  ۔۔۔

فتاوی محمودیہ (15/511) میں ہے :

ابوداؤد شریف اور ترمذی شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کھجور سے افطار کرنا سنت سے ثابت ہے اور اگر کھجور میسر نہ آئے توخشک چھوارے سے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved